بارہمولہ // سرحدی تحصےل بونےار کے واری کھا بمےار علاقے میںڈاکٹروں اور دےگر طبی عملے کی غےر موجود گی سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔علاقے مےں سرکار نے دس سال قبل محکمہ صحت کے اےک سب سنٹر کا درجہ پرائمری ہےلتھ سےنٹر تک بڑھادیا اور اس کےلئے لاکھوں روپے کی لاگت سے اےک دو منزلہ نئی عمارت تعمیر کی گئی ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی غیر موجودگی سے تمام سازو سامان زنگ آلودہ ہوچکا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق سازو سامان سے لےس اس اسپتال کو اگر چہ کبھی کبھار کھولا بھی جاتا ہے تاہم یہاں تعےنات ناکافی عملہ اسپتال مےں چند ہی گھنٹے ٹک پاتا ہے اور بعد مےں اسپتا ل پھر بند رہتا ہے۔جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو سخت پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔اےک مقامی شہری فرےد احمد خان نے کشمےر عظمیٰ کو بتا ےا کہ علاقے کے لوگوں کو معمولی علاج کےلئے آج بھی بارہمولہ اور دےگر اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتاہے۔اس سلسلے مےں چیف میڈیکل آفیسر(سی اےم او) بارہمولہ ڈاکٹر بشےر احمد چالکو نے کشمےر عظمیٰ کو بتا ےا کہ دراصل اس پی ایچ سی میں اےک ڈاکٹرتعینات تھا جو ٹرےننگ کےلئے گےا ہوا ہے اور وہاں فی الوقت دوسرا ڈاکٹر تعےنات ہے۔انہوں نے کہا ” ہم دےکھےں گے کہ اسپتال بند کےوںہے ۔