منتظر مومن وانی
ملک بھر میںجہاں ترقی اور خوشحالی کےبڑے بڑے دعوے سننے کو ملتے ہیں وہیں سرزمین کشمیر کے بے شمار دیہات عرصہ دراز سے کئی مسائل کے شکارہیں، جن میں پانی کی عدم دستیابی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے۔ان ہی دیہاتوں میں بہرام پورہ نامی گائوں بھی ہے،جو پنچائت چوکر اے تحصیل کنزر پولیس اسٹیشن پٹن ضلع بارہمولہ اور معروف سیاحتی مقام گلمرک میں واقع ہے۔ستر سال قبل یہ گائوں چند گھروں پر مشتمل تھا اور ایک چھوٹی پانی کی پائپ سے ان گھرانوں کو پینے کا پانی ملتا تھا ۔آج اس اکیسوی صدی کے ترقی پذیر دور میں یہ گائوں،جو کہ اب ڈیڑھ سو سے زائد گھروں پر مشتمل ہے، کے لئے وہی ستر سالہ زنگ آلود چھوٹی سی پائپ پینے کے پانی کا وسیلہ رکھا گیا ہے،جس کے باعث اب اس گائوں کی آبادی پانی کے ایک ایک بوند کے لئے ترستی رہتی ہے۔اگرچہ یہ روئداد سن کر ملک کا ہر سماجی خیر خواہ اس مسلے کو حل کرنے کا دعویٰ کرتا رہتا ہے لیکن حقیقت میں آج تک ان پیاسے لوگوں کے لئے پانی کی فراہمی کا کوئی بندوبست نہیں کرتا ہے۔یہاں کے مقامی لوگوں کی روئیداد سن کر پتہ چلتا ہے کہ لوگوں نے ہر طرح کے جمہوری طریقے اختیار کرکے انتظامیہ کو باخبر کیا تھا ،کئی باربراہ راست پی ایچ ای دفتر پٹن گئے ،جہاں پر جے ای صاحب کے ساتھ اس مسئلے پر باتیں بھی ہوئیں ،تو اس حوالے سے اُن کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کاغذی طور حل ہوا ہے،لیکن زمینی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آیا ہے۔مقامی سرپنچ تیس سال عمر کے محمد سلیم میر کے ساتھ بات کرتے ہوئے یہ پتہ چلتا ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں بے بسی کا اظہار کررہی ہے۔گلمرگ کانسٹچونسی کے ڈی ڈی سی ایڈوکیٹ میر تجمل اشفاق کے دفتر میں جاکر ان کے سامنے کئی بار اس مسئلے کو پیش کیاگیا،دفتری زبان کا استعمال کرکے اگرچہ انہوں نے کئی اسکیموں کا حوالہ دے کر لوگوں کو مطمئن کیالیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔ ڈیڑھ سو گھرانوں پر مشتمل سینکڑوں افراد کی یہ بستی طویل عرصہ سےپینے کے پانی کی دستیابی کے جتن کرتے چلے آرہے ہیں،لیکن ہر طرح کے طوروطریقے یا احتجاج بے معنی ثابت ہوتے ہیں۔مقامی نوجوان اور یونیورسٹی طالب علم بائیس سالہ شمیم احمد پرہ کے مطابق وہ اور کئی نوجوان ساتھی اگرچہ ہر طرح کی کوششیں اپنا کر متعلقہ دفاتر میں اپنی مشکلات دہراتے رہتے ہیں لیکن وقتی طور پر اُمید اور اطمینان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا،شمیم کے مطابق ستر سال پہلے چند گھرانوں پر مشتمل اس بستی کے لئے پانی کا جو وسیلہ ایک پائپ تھی ،آج ڈیڑھ سو سے زیادہ گھرانوں پرمشتمل آبادی کے لئے بھی واحد وسیلہ ہے۔جس کے نتیجے میں گائوں کے لوگ اس ترقی یافتہ دور میں ایک ایک بوند پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔اس بستی میں کئی سیاسی اور سماجی ترجمانوں نے آج تک لوگوں کو یہ امید دلائی کہ آپ کا یہ مسئلہ قلیل وقت میں ہمیشہ کے لئے حل ہوگا۔لیکن طویل انتظار کے باوجود ااج تک یہ مسئلہ ،مسئلہ ہی بنا ہوا ہے۔ چالیس سال عمر کےمقامی دکاندار محمد یوسف وانی کے مطابق اس مسئلے کے سبب ہمارا جینا اب بہت مشکل ہوچکا ہے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے اور اس کی عدم دستیابی ایک پریشان کن مسئلہ ہے۔محمد یوسف کے مطابق اس دور میں بھی پانی کی عدم موجودگی ایک بدقسمتی ہے جبکہ ترقی کے نعرے چاروں طرف سے گونج رہے ہیں۔مقامی پنچ بیالیس سال عمر کے غلام محمد وانی نے کہا کہ ہم عرصہ دراز سے یہ درد سہہ رہے ہیں اورکسی کو یہ درد دکھائی نہیں دیتا۔شاہراوں پر احتجاج کیا،میڈیا کے ذریعے اپنے درد کا اظہار کیا، لیکن ہمیں فقط جھوٹے وعدوں، طفل و تسلیوں کے ذریعے بہلانے کےسوا کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ غلام محمد کے مطابق ہم نے ہر طرح کی کوششیںکرکے اگرچہ ہر دفتر میں حاضری دی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوسکی۔غلام محمد نے کہا کہ یہاں کے نوجوان ہر سال اے ای ای پٹن کے آفس اور ضلع صدر دفتر پی ایچ ای بارہمولہ جاکر اُن کے سامنے اپنے اس طویل مدتی درپیش مسئلے کو رکھتے چلے آرہے ہیں لیکن ہر بار کسی نئے سرکاری حکمنامے کا حوالہ دے کر فقط جھوٹی تسلی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ تیس سال عمر کے مقامی کاروباری شبیر حسین گنائی نے اس طویل عرصے سے موجود مسلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آج تک ہر قلم دان سنبھالنے والے کے سامنے اپنی عرضداشت رکھی، لیکن مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔شبیر حسین کے مطابق کیا کوئی اس دور میں بھی ملکی خیر خواہ موجود ہے جو ہمیں اس درد سے چھٹکارا دلا سکے۔شبیر حسین نے کہا کہ ہمارے گائوں میں موجود پی ایچ ای ملازمین بھی مشکلات کا شکارہیں، کیونکہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث بستی کے لوگوں درپیش مشکلات کو دور کرنے کی انتھک کوشش کررہے ہیں۔ستر سالوں سےتاحال اس مسئلے کا کوئی حل سامنے نہ آنے کے باوجود ہم اب بھی پُر امیدہیں کہ آج نہیں تو کل،اس مسئلہ حل نکل ہی آئے گا۔ وانی محلہ کی پنچ چالیس سال عمر کی یاسمینہ بیگم کے مطابق انتظامیہ اس بستی کو شاید انسانوں کی بستی نہیں سمجھتی، جس کے باعث ہمارے اس پریشان کُن صورت حال میں کوئی مدد گار سامنے نہیں آرہا ہے۔ یاسمینہ نے کہا کہ اس بستی میں جینا انتہائی مشکل ہوگیاہے، کیونکہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہم پانی کےبوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔بقول اس کےمیں نے اَز خود اس مسئلے پر جے ای پٹن کے دفتر جاکر اُن کے ساتھ تفصیلی بات کی اور موجودہ پریشان کُن صورتحال سے آگاہی دلائی ،لیکن پھر بھی صورت حال میں کوئی فرق لانے کی کوشش نہیں کی گئی،بس وہی روایتی دعوے اور طفل تسلیاں ملتی رہیںاورکوئی ثمرآور قدم نہیں اٹھایا گیا ۔جے ای صاحب نے اگرچہ چند اسکیموں کی ذکر کرکےمسئلہ حل ہونے کا یقین دلایا ،لیکن ا بھی تک پیاسوں کی اس بستی میں کوئی عملی کاروائی نظر نہیں آئی ۔گورنر انتظامیہ کو بھیجی گئی شکایت کے جواب میں بھی کوئی ایسا تاثر نہیں ملا، جس سے اس مسئلے کا ازالہ ہوسکتا، بلکہ محض کسی اسیکم میں گائوں کا نام درج کرنے کا ذکر کیا گیاجو کہ اصل درد کا علاج نہیں ہے۔اب کڑاکے کی ان سردیوں میں عورتوں کے سامنے شدید مشکلات درپیش ہیں کیونکہ ان ٹوٹی اور زنگ آلودہ پائپ سے پانی کے قطروںکا چلنا محال ہی نہیں بلکہ ناممکن بن گیاہے۔بستی پانی کی عدم دستیابی سے پریشان حال ہے،لیکن کوئی سننے والا ہی نہیں۔
(رابط۔9797217232)
[email protected]