پیشہ ور بھکاریوں سے نجات دیجئے

 صیام المبارک کا نصف سے زیادہ باسعادت حصہ ہمیں وداع کر چکاہے مگر اس تقدس مآب مہینے کی رحمتوں اور برکتوں میں روز افزوں اضافہ ہی ہورہاہے۔ عام مشاہدہ یہی ہے کہ رمضان کی برکات سے روزہ داروں کی رگ رگ اور نس نس میں نیکو کاری کا تازہ دم خون دوڑتا ہے ، لوگ باگ مساجد اورمعابد کی جانب زیادہ توجہ دیتے ہیں ، نمازوں میں باقاعدگی آتی ہے ، فضولیات سے اجتناب برتاجاتاہے ، دل پسیج جاتے ہیں ، اچھائیوں کی طرف رغبت بڑھ جاتی ہے، کچھ اچھا کر نے کی نیت من میں خود بخودپیدا ہوجاتی ہے ، جگہ جگہ وعظ و تبلیغ کی مجلسیں منعقد ہوجاتی ہیں ، اجتماعی افطاری کے روح پرور اور ایمان افروز مناظر دل و نگاہ کی دنیا میں اخوت ومحبت کی جوت جگاتے ہیں ۔ غرض ہر پہلو سے اس مہینے سے ایمانی زندگی کو جلّا ملتی ہے ۔ سچ کہا ہے کسی عالم دین نے کہ اگر کسی مسلمان آبادی کے بارے میں اندازہ لگانا ہو کہ یہ زندہ ہے یا مردہ تو ماہ ِ صیام کے تئیں اس کا رویہ دیکھو۔ 
آ یئے اس بارے میں تصویر کا دوسر ارُخ دیکھیں۔ ماہ مبارک میں چونکہ خیرات و صدقات کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں،اس لئے روزہ دار محتاج ومساکین کی مالی امداد میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ اسی پس منظر میں مسلم آبادیوں میں یہ ایک مستحکم روایت بن چکی ہے کہ آمد صیام کے ساتھ ہی ایک طرف فلاحی انجمنیں، خیراتی ادارے، یتیم خانے اور دارالعلوم اپنی چندہ مہم شدومد سے شروع کر دیتے ہیں، دوسری طرف پیشہ ور گداگروں کے ٹڈی دَل بھی متحرک ہوکرہر مسجد ، ہر معابد ، ہر بستی ، ہر بازار میں لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کر کرکے ایک طرح سے جیب کتری میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک بڑی گتھی  یہ بھی ہے کہ دارالعلوموں کی ضروریات پر اگر چہ کوئی کلام نہیں مگر انہیں اور دیگر خیراتی اداروں کو یک بہ یک ماہ مبارک میں ہی چندہ جمع کر نا کیوں یادآتا ہے؟  
سوال یہ بھی ہے کہ دارلعلوموں کے نام پر اداروں کوچندہ کر نے والے سبھی سفیر قابل بھروسہ نہیں ہوتے بلکہ بسااوقات جن دارالعلوموں اور خیراتی اداروںکے نام پرچندہ ہوتا ہے وہ صرف کاغذی گھوڑے ہوتے ہیں اوران کا عالم وجود میں کوئی اَتہ پتہ نہیں ہوتا ۔ ہمارے یہاں ہی نہیں بلکہ یورپ میں بھی خیراتی اداروں کی بھرمار ہے ، اُن کو چلانے والے اکثر منکر خدا ہوتے ہیں جوآخرت کی باز پُرس کا کوئی نظریہ نہیں رکھتے ،اس کے باوجود ان کے رفاہی ادارے دُرست خطوط پر اور صحیح جذبوں کے ساتھ کام کرتے ہیں،ا ن میں کوئی ہیرا پھیری ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا ، نہ یہ ادارے جعلی ہوتے ہیں اور نہ ان کے یہاں اونچی دوکان پھیکی پکوان والا معاملہ ہوتا ہے ۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود یہ رضاکار مشنریاں جس خلوص، دیانت داری اور لگن سے سماجی خدمات انجام دیتی ہیں ، وہ قابل رشک بھی ہے اور لائق تقلید بھی۔ اسلامی تعلیمات کے لحاظ سے یہ ساری خصوصیات امت مسلمہ کا طرز عمل ہونا چاہئے مگر افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتاہے کہ ہم اس محاذ پران مغربی اداروں کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتے ۔ اللہ عزوجل کی طرف سے اس امت کو ایک خاص حیثیت و منزلت عطاکی گئی ہے اور انہی معنوں قوموں کی برادری میں اسے خیر الامت اور اُمت ِوسط کے طور متعارف کیا گیا ہے۔ اس رتبہ ٔ عالیہ کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ کے پُر اسرار بندے کار کشا ، کار آفریں اور کار ساز ہوں ، یہ یدعلیایعنی اوپر والا ہاتھ بنیں، یہ قطعی طور ید ِسفلیٰ یا نیچے والا ہاتھ نہ بنیں ۔ اس کے بجائے جب رمضان کے شروع سے لے کر اختتام تک بلکہ عیدین کے مواقع پر آپ کو ہر طرف بھک منگوںکے لشکر نظر آئیں تو آپ غیرت وحمیت کے حامی اور محنت وجفاکشی کے داعی اسلام کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے ؟ وہ اسلام جو غربت کو غیرت سے جوڑتاہے اور اَمارت کو سخاوت سے مشروط کر تاہے ،اس کی خوب صورتی کوصیام میں بھک منگوں سے کیوں یکایک گہن لگ جاتا ہے ؟ اصل میں جب ہم مسلمانوں کے پاس کچھ بچا ہی نہیں ہے تو راکھ کے ڈھیر میں اور کیا پایئے ؟ ہم کہاں اس دین حق کو تلاش کریں جو مانگنے کا ہاتھ لوگوں کے سامنے پھیلانے کے بجائے ایک نادار صحابیؓ کے ہاتھ میں رسول آخر الزماںؐ کے دست ِمبارک سے کلہاڑی تھما دیتا ہے تاکہ وہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنے ایمان و غیرت کی لاج رکھے ۔ ہم ہیں کہ مردوں کا کفن ہی نہیں بلکہ ان کے جسم کا انگ انگ تک کاٹ کھاتے ہیں ۔ جب ہمیںبھیک مانگنے کے جیسے غیر اسلامی فعل میں کی کوئی قباحت محسوس نہ ہو تو کہنے کو انا للہ وانا الیہ راجعون کے سوا  اورکیا رہتا ہے ؟ ہم نے کتنے بھی جبہ ودستار ضرور پہن رکھے ہوں مگر جب شروع سے آخر تک ہمارے سارے اعمال یکسر اسلامی روح کے منافی ہوں تو ہم دنیا و آخرت کی کامیابی کی کیا امید رکھیں ؟ البتہ ہم میں سب لوگ ایسے نہیں بلکہ ہمارے درمیان ایک استثنائی صورت حال بھی پائی جاتی ہے ۔ 
ماہ مبارک واقعی فصلِ بہار کا مہینہ ہے ۔ اس سارے مہینے میں ربِ کائنات اپنے بندوں کو تائب ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے ،انہیںاپنے خاص فضل وکرم سے تزکیہ نفس کے لئے آمادہ کرتا ہے ،ا نہیں اخوت  ونیک عملی کی مالا میں پروتا ہے ،لیکن عجب یہ کہ اسی مہینے میں ہزاروں یتیم خانے اور دارالعلوموں کے سفیر  مشروم گروتھ کی مانند جابجا نمودار ہوتے ہیں ۔ اخباروں میں بھی امداد کی اپیلیں مشتہر ہوتی ہیں ۔ا کثرو بیش تر ان سفیروں کے بارے میں خیرات وصدقات دینے والے لوگوں کو وثوق نہیں ہوتا کہ آیا یہ امانت دار ہیں ، جنیون ہیں ، نفسانیت کے غلبے سے آزاد ہیں ۔ زیادہ تر ان سفراء کی کوئی مستند شناخت بھی نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ ہاتھ میں رسید بکس اور اس پر چھپا کوئی ایڈریس۔ اول تو ان کے پاس کسی بڑے ادارے کی کوئی تصدیقی سند نہیں ہوتی ، دوم کوئی اپنی نماز یا دیگر معمولات چھوڑ کر ان کی ویری فکیشن کر نے لگ جائے، یہ بھی کار داروالا معاملہ ہے۔ رونا تواس بات کا ہے بھکاریوں کے اس ٹڈی دَل کے سبب وہ اصل مستحقین اور لاچار لوگ ہماری معاونت سے محروم رہ جاتے ہیں جن کی ایک ترتیب قرآن کریم میں مصارف ِ زکوٰ ۃ کے حوالے سے درج ہے ۔ اگر عوامی سطح پر زکوٰۃ کا صحیح اور قابل قدر مصرف ہو تا تو ہمارے معاشرے میں اتنے سارے اُلجھاؤ اور کسمپرسیاں نہیں ہوتیں کیونکہ قوم کی زکوٰۃ اُن ہزاروں جوان لڑکیوں کے ہاتھ مہندی رچانے میں مددگار ثابت ہوتی جن کی جوانیاں غربت اور محرومی کے عالم میں ڈھل رہی ہیں ، ہزاروں یتیم ،لاچار ، نادار اور بے بس و اپاہج افراد اس زکوٰۃ سے مستفید ہوتے جو اکثر نامعلوم چندہ بازوں اور بھکاریوںکی بھینٹ چڑھ جاتی ہے ۔بے شک کچھ مدارس کا م کر رہے ہیں اور بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں ، ان مدارس سے ہمارے لئے امام صاحبان کی وہ کھیپ نکل رہی ہے جو گرچہ سائینسی علوم اور زمانے کی نبض سے بہت حدتک انجانے ہوتی ہے پھر بھی غنیمت ہے کہ یہ فارغین ِمکاتب مساجدکی امامت کا منصب سنبھالنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں ۔ ایسے مدارس کی کفالت کر نا ہم پر اجتماعی طور لازم ہے ۔ بہر صورت کچھ عرصہ قبل راقم ایک خیراتی ادارے کے آفس میںکسی کام سے گیا ، ماشاللہ آفس بہت خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا، فرنگی صوفے اور ایرانی قالین کا منظر علامہ اقبال دیکھتے تو آبدیدہ ہوتے۔ صوفے پر بیٹھے بیٹھے میر ی نظردیوارپر لگی تصاویرپر مر کوز ہوگئی، بڑی بڑی تصویریں چاروں طرف ٹنگی ہوئی تھیں ،ان میں آفس میں گردشی کرسی پر بیٹھے کوئی بڑے صاحب خیرات،امداد یا زکوٰۃ مستحقین میںبانٹتے دِ کھ رہے تھے ، خیرات حاصل کر نے والی جوان سال لڑکے لڑکیاں تھیں۔ یہ تصویریں اس بات کا برملا اظہار تھا کہ کم نصیب محتاج اس خیراتی ادارے کی تشہیر کا سامان  ہیں ۔ اس پر میرے ذہن میںیہ تیکھے سوالات کلبلائے کہ کیا یہ تصاویر اس پر دلالت نہیں کرتیں کہ ادارہ کسی تجارتی فرم کی طرح اشتہار بازی کی دلداہ بلکہ ریاکاری کی مریض ہے ؟ کیا یہ تصاویرامداد پانے والوں زندگی کے لئے رسوائی وخجالت کی باعث نہیں ؟ 
کیا نمائشی انداز میں خیرات و زکوٰۃ بانٹنے کا یہی دُ رست طریقہ ہے ؟ کیا یہ طرز عمل شریعت سے مطابقت رکھتا ہے؟ جودین یہ کہے کہ دائیں ہاتھ سے کسی کی مدد کر وتو بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں لگنا چاہیے تاکہ لوگوں کی غیرتوں کا سودا نہ ہو ،اس دین میں ان تشہیری تصاویر کہاں گنجائش نکلتی ہے ؟ یہ طرز عمل تو صرف اپنی کمپنی کی مشہوری کا انداز ہی کہلاسکتا ہے ۔ حال ہی میں ایک مقامی اخبار میں چھپی ایک بڑی سی کلر تصویر دیکھ رہا تھا،اس میں کچھ معزز حضرات چند آتش زدہ گان کو آٹا ،دال چاول اور تھوڑی سی رقومات فراہم کر رہے تھے ۔ میرا قیاس یہ ہے کہ یہ کوئی اتنی بڑی خاص ریلیف نہ تھی مگر پندرہ معزز اشخاص کے نام گرامی مع تصاویر مذکورہ اشتہار کی عبارت میں جلّی حروف میںدرج تھے ۔ مانتاہوں کہ ریلیف جمع کرنے میں زبردست کاوشوں کی ضرورت آن پڑ تی ہے اور آج کے دور میں اس کے لئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے بھی کوئی انکار نہیں ، اس کام میں انٹر نیٹ کا سہارا بھی اچھی بات ہے لیکن امدادبانٹنے کا یہ کونسا طریق کار ہے جس کواشتہارات اور تصویروں کی صورت میں میڈیا میں شائع کر کے محتاجوں ، مفلسوں اور ضرورت مندوں کے عزتِ َنفس سے کھلواڑ کیا جائے ؟ ان کی رسوائی کا سامان کیا جائے؟ کیا بگڑا سماج آگے ایسے غریب گھرانوں کی غیر ت مند لڑکیوںاورلاچار لڑکوں کو قبول کرے گا ؟ایک بار امداد اور معاونت کرکے آپ اللہ کے ان بندوں کو ہمیشہ کے لئے جبراً غیرت سے تہی دامن ہونے کا سبق  کیوںدیتے ہیں؟اس ضمن میں قرآن وحدیث کی واضح ہدایات ہیں کہ حاجت مندوںکی غیرت ، حمیت اور عزتِ نفس کو معمولی سی بھی ٹھیس نہ پہنچاؤاور نہ ان کے افلاس و محتاجی کا اعلان کر کے ان کے حقِ اخفاء کو پامال کرو۔نیز ان کی ضروریات اور مشکلات کا مصدقہ اسلوب میں پتہ لگانے میں بھی احتیاط کی پگڈنڈی کو نہیں چھوڑناچاہیے۔ مسلم معاشرے میں امداد ، زکوٰۃ اور اس طرح کے دوسرے مد ات ضرو رت مندوں میں بانٹنا ان پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ سائل ومحروم کے زمرے میں آنے والے محتاجوںکا شرعی حق ہے جو ان تک بہ طریق احسن پہنچناچاہیے لیکن ہمارے یہاں اس سلسلے میں جو طریق کار مروج ہے وہ انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی راہ میں خر چ کر نے کے تصور سے میل ہی نہیں کھاتا ۔ اور تواور ہم اس بارے میں اتنی بے اعتدالیوں کے مر تکب ہورہے ہیں کہ بعض ادارے صرف اور صرف اپنے ہم مسلک اور ہم خیال محتاج لوگوں کی ہی امداد کرتے ہیں جب کہ ودسرے محتاجوں کو اس شان ِ بے نیازی سے نظر انداز کر دیتے ہیں جیسے ان کی امداد کرنا قطعی حرام ہو ۔ اسلامی تعلیمات کا اس باب میں نچوڑ یہ ہے کہ پہلی ترجیح کے طور عشیرۃ الاقربین کو مالی امداد فراہم کی جائے پھر دیگر صاحبِ احتیاج لوگوں کی حتی المقدور معاونت ہو تو کسی بھید بھاؤ کے بغیر کی جائے ۔ یہ اجر وثواب کاکام ہے بشرطیکہ اسے محض اللہ کی رضاجوئی کے لئے بغیر کسی اشتہار بازی کیا جائے ۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے  ، لہٰذا اس نے دونوں آپشنز دئے ہیں کہ کوئی علانیہ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے یا کوئی خفیہ طور یہ نیک کام کرے ۔ علانیہ طور یہ کام کرنے سے دوسروں کو بھی اس کی ترغیب ضرورملتی ہے مگر اس میں شر اور فتنوں کے دروازے کھلنے کا بھی احتمال رہتا ہے ۔ بہر کیف جو لوگ بڑے بڑے اداروں کو صدقہ و خیرات کی صورت میں بڑی بڑی رقومات فراہم کرتے ہیں ، اللہ کے نیک بندے ان سے کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ آپ نے کس کو خیرات دی اور کس کو نہیں دی ، نہ لوگ ان سے کبھی حساب کتاب مانگتے ہیں ، یہ خود بھی بالعموم اپنی سالانہ آمدنی اور اخراجات کا گوشوارہ مشتہر نہیں کر تے ۔ یہ سارا کام اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر کیا جاتاہے مگر ان اداروں کے محاصلین اور منتظمین اگر اس بھروسے اور اعتماد کی دھجیاں اڑایں تو اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتا ہے؟ چونکہ زمانہ خراب ہے،اس لئے اداروں کے پاس خیراتی رقومات کے حوالے سے شفافیت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ ان اداروں کورائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت لائے اور جو کوئی شہری ان سے آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات اس ایکٹ کی رُوسے مانگے تو اداروں کو اس کی تفصیلات فراہم کر نے پر کوئی پس وپیش نہیں ہونا چاہیے ۔ خیراتی اداروں اور دارالعلوموںکے ذمہ داروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ اپنے روپے پیسے سے ان کی مدد کرتے ہیں، ظاہر ہے وہ ان اداروں کے منتظمین پر اعتماد کرتے ہیں ، اس لئے انہیں اس اعتماد کی کسوٹی پر اترنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اور سب سے بڑھ کر اللہ کے محاسبے سے ہمہ وقت ڈرتے رہنا چاہیے ۔ ا ہم بات یہ ہے کہ صدقہ وخیرات دینے والے اور اسے دینی ورفاہی کام کی انجا م دہی کے لئے لینے والے کو یہ کام بغیر کسی نمود و نمائش کے محض اللہ کی خوشنودی اور آخرت کی پونجی کے لحاظ سے کر نا چاہیے ۔ جو فرضی ادارے اور پیشہ ور گداگر  محتاجوں ، غریبوں ، ناداروں ، مفلسوں اور بیواؤں کی حق تلفی کرکے لوگوں سے خیرات کی چھوٹی بڑی رقم اینٹھ لیتے ہیں وہ گناہ عظیم کے مر تکب ہو جاتے ہیں ۔ ڈی سی سری نگر نے آغاز ِ رمضان میں بھک منگوں کی حوصلہ شکنی کر تے ہوئے جو انتظامی اقدام کیا ،اس کا عام لوگ خیر مقدم کرتے ہیں اور امید ہے کہ دوسرے اضلاع میں بھی اسے رائج العمل کیا جائے تاکہ بھکاریوں کا ٹڈی دَل نابود ہو ۔ نیز جوبے غیرت یتیم خانوں کے نام پر سال ہاسال سے صبح سویرے وین گاڑی میں لاوڈا سپیکر لگاکے گلی گلی اور محلہ محلہ شور شرابہ کر کے خیراتی رقومات اُچک لیتے ہیں ،وہ اس گورکھ دھندے سے باز آئیں ۔
فون نمبر 9419514537
