کشمیری پنڈتوں کی ذہانت اور متانت کا اعتراف نہ صرف جموں وکشمیر کی عوام کرتی آئی ہے بلکہ ہند اور بیرون ہند میں بھی اُنھیں شہرت ومقبولیت حاصل رہی ہے ۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے روشن مستقبل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ،اپنا وقت ضائع نہیں کرتے ،محنت ولگن سے کام کرنا کوئی ان سے سیکھے۔ایک خاص بات یہ بھی کہ دُور اندیشی اورنرم مزاجی کی صفت اُن کی سرشت میں ہوتی ہے ۔یہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں اگر جاتے ہیں تو اپنا ماحول بنالیتے ہیں ۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہنرمندی جیسے انہی کے حصے میں آئی ہو۔یہی وجہ ہے کہ ریاستی اور ملکی سطح کے بڑے عہدوں پر یہ لوگ فائز ہیں ۔دیگر شعبوں کی طرح ادبیات کے میدان میں بھی کشمیری پنڈتوں کی خدمات آب ِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں ۔جموں کشمیر میں مہاراجوں کے دور میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے بعد دارالترجمہ سے وابستہ عالم فاضل لوگوں میں جہاں غلام غوث خان اور مولوی فضل الدّین پیش پیش رہے ہیں تو وہیں پنڈت بخشی رام اور لالہ نسبت رائے نے بھی ترجمہ نگاری میں بہتر خدمات انجام دی ہیں ۔اُس ابتدائی دور میں پنڈت ہرگوپال کول خستہ جیسا قابل قدر ادیب اپنے قلم کی جولانیاں دکھا چکا ہے ۔اُسی دور کے کشمیری پنڈت جناب سالگرام سالک نے جہاں’’ لُغات اردو‘‘اور ’’محاورات اردو‘‘کے نام سے کچھ کتابچے مرتب کیے تو وہیں اُس کشمیری پنڈت نے ’’قانون تعزیرات جموں وکشمیر’’ضابطۂ دیوانی‘‘کے علاوہ ’’گنجینۂ فطرت’’داستان جگت رُوپ‘‘اور ’’تحفۂ سالک ‘‘جیسے ادب پارے اردو کودیے۔غرضیکہ تاایں وقت کشمیری پنڈتوں کا ایک بہت بڑا قافلہ نظر آتا ہے جنھوں نے اُردو زبان وادب کی خدمات انجام دینے میں کوئی بھی کسر اُٹھائے نہیں رکھی ہے ۔اسی قافلے میں ایک فعال اور خوش مزاج شخصیت شامل ہے جسے علمی وادبی حلقوں میںپیارے ہتاش کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
پیارے ہتاش وادیٔ کشمیر کی پیداوار ہیںکہ جن کا بچپن،لڑکپن ،جوانی اور ادھیڑ عمری کے شب وروز اور ماہ وسال کشمیر میں گزرے ہیں وہ کشمیر کہ جسے شاعروں ،ادیبوں اور سیاحوں نے جنت ارضی کہا ہے ۔1990ء کے بعد جب کشمیر میں بحرانی حالات پیدا ہوئے تو ہزاروں کشمیری پنڈتوں کی طرح اُنھیں بھی اپنی جائے پیدائش اور وطن عزیز کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ چھوڑناپڑا ۔پیارے ہتاش تقریباً30برس سے جموں میں مقیم ہیں ۔اپنے نام ہی کی طرح لکھنے پڑھنے والوں کو پیارے لگتے ہیں ۔ایک شریف اور مہذب کشمیری خاندان میں اُن کی پرورش کچھ اس طرح ہوئی ہے کہ اُن کے قول وفعل ،رفتار وگفتار اور چال ڈھال سے ایک شریف اور منکسرالمزاج انسان کی شبیہ آنکھوں میں گھر کرجاتی ہے ۔یہ بات قابل حیرت ومسرت ہے کہ پیارے ہتاش ہندی ،انگریزی،اردو ،سنسکرت اور کشمیری زبان نہ صرف جانتے ہیں بلکہ ان زبانوں میں اُن کی قلمی حصہ داری بھی رہی ہے ۔وہ مسلسل ان زبانوں میں لکھ رہے ہیں ، اُن کے تخلیقی سوتے خشک نہیں ہوئے ہیں ۔اُن کے قلم کی روانی کا یہ عالم ہے کہ ہرسال اُن کی غزلوں کا کوئی مجموعہ یا کسی ادیب کے ادب پارے کو ترجمے کا روپ دے کر اُسے شائع کراتے ہیں ۔
غرضیکہ گلستان السنہ کا یہ مالی اردو،ہندی،سنسکرت،انگریزی اور کشمیری بولنے اور لکھنے والوں کو گلہائے رنگارنگ پیش کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے ۔ایک مضمون نگار،شاعر اور مترجم کی حیثیت سے پیارے ہتاش نے علمی وادبی حلقوں میں اپنی ایک پہچان بنائی ہے ۔اُن کی اس وقت تک 32کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں کچھ کشمیری میں ہیں ،کچھ ہندی میں ،کچھ انگریزی میں اور کچھ اُردو میں ۔جہاں تک اُن کی غزلیات کے مجموعوں کی تعداد کا تعلق ہے وہ 11ہیں جن کے عنوانات کچھ اس طرح سے ہیں’’لمحات گمشدہ’’کرب وجود’’گردش ایّام ’’یاد زعفران’’لہو لہو آنگن’’حال زار’’وادیٔ اشکبار’’سبزہ سے صحرا تک’’دُور ریگزاروں میں ’’دردِ نہاں‘‘اور’’دشت ِتنہائی’’ان کے علاوہ پیارے ہتاش کی غزلیات کے جو مجموعے اشاعت کے منتظر ہیں اُن میں ’’عذاب در عذاب’’بستیاں اُجڑ گئیں’’چناروں سے دُور’’گلی گلی آباد تھی’’کہاں گئے وہ لوگ’’حادثوں کا ہجوم ‘‘اور’’کارگاہِ سُخن‘‘شامل ہیں ۔
پیارے ہتاشؔ کی غزلیات کا مجموعہ’’چناروں سے دُور‘‘کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے یہ محسوس کیا کہ وہ ایک نہایت حساس اور قدرشناس شاعر ہیں جنھوں نے اپنے جذبات واحساسات اور تجربات ومشاہدات کے اظہار وترسیل کے لیے صرف غزل جیسی مقبول صنف سخن کو اپنایا ہے اور وہ بھی سہل ممتنع کے انداز میں ،حالانکہ جہاں تک پیارے ہتاش کی ذات اور اُن کی داخلی کائنات کا تعلق ہے اُس میں درد وکرب اور ہجوم یاس وحسرت کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کے اظہار کے لیے غزل کی تنگ دامنی ناکافی ہے لیکن اس کے باوجود اُنھوں نے غزل ہی کو اپنایا ہے جس کے باعث اُن کے قاری کو احساسات وجذبات کی ایک محدود دُنیا نظر آتی ہے ۔البتہ زیرنظر مجموعے میں بہت سے اشعار موصوف کی مشاہداتی کائنات کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جن میں اک درد،گھٹن،رنج والم اور احساس محرومی کی چبھن وکسک محسوس ہوتی ہے ۔مثلاً اُن کی غزلوں سے ماخوذ کچھ ایسے اشعار ملاحظہ کیجیے جن میں اُن کا عمر بھر کا تجربہ اور مشاہدہ در آیا ہے اور جوایک خاص طرح کا پیغام معلوم ہوتے ہیں:
جن کے دم سے ہے دُنیا
وہ دُنیا میں ہیں بے نام
فرض ہے ہر انساں کا یہ
وہ آئے اوروں کے کام
زندگی ہے تو موت بھی ہے
ہر آغا ز کا ہے انجام
سب کو یہاں سے جانا ہے
رہ جانا ہے باقی نام
پیارے ہتاشؔ کے ان اشعار میں جہاں زندگی اور موت کی سچائی کا ذکر ہے تو وہیں انھوں نے دوستوں کی بے وفائی اور سازشوں کی بات بھی کی ہے ۔ آخری شعرمیں شاعر کی وسیع القلبی کا اندازہ اس بات سے ہوجاتا ہے کہ وہ بے وفا لوگوں کو بھی خوشحالی کی دعا دیتا ہے ۔گویا انتقامی کاروائی کے جذبے سے اُس کا دل عاری ہے ،یہ بڑی بات ہے ۔پیارے ہتاش نے سماجی بُرائیوں کو بھی اپنے بہت سے اشعار میں ہدف ِ ملامت بنایا ہے ۔اُن کی دُور رس نگاہوں نے انسانی قدروں کی پامالی اور زبوں حالی کے بہت سے گھناونے کھیل دیکھے ہیں ۔ اُنھیں اس بات کا شدید احساس ہے کہ وفاشعاری،خود داری اور ایمانداری کا جذبہ لوگوں کے دلوں سے مفقود ہوچکا ہے اور ہر شخص مطلب پرستی اور خود غرضی کے مرض میں مبتلا ہے ۔چنانچہ وہ اس طرح کے اشعار کہنے پر مجبور ہیں :
اپنے مطلب کے لیے مرتے ہیں لوگ
سوچتا ہوں دل میں کیا کرتے ہیں لوگ
صورت حالات ہے کتنی عجیب
آج اپنے آپ سے ڈرتے ہیں لوگ
بھول جاتے ہیں وقار زندگی
چند سکّوں کے لیے مرتے ہیں لوگ
عصر حاضر کی فتنہ پرور ذہنیت اور مادیت پرستی کے نشے میں مبتلا آج کا انسان تمام اخلاقی وروحانی قدروں کو فرسودگی اور غیر منافع بخش باتیں تصور کرکے ایک ایسی زندگی جی رہا ہے جس میں نہ تو تہذیب وشائستگی کا کوئی عنصر نظر آتا ہے اور نہ ہی کسی نظم وضبط کی پابندی ۔آئے دن ہمارے سماج ومعاشرے میں فرقہ پرستی،ذات پات،علاقائیت ،امیری ومفلسی ،مالدار ونادار اور دھرم ومذہب کی بنیاد پر لوگوں کی تقسیم ایسے تشویشناک ،مایوس کن اور قابل مذمت حربے ہیں جن کا احساس پیارے ہتاش کو بہت زیادہ ہے ۔اُن کی آنکھوں نے سماج میں جو کچھ ناہمواریاں اور سیاہ کاریاں دیکھی ہیں اُنھیں اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے ۔مثلا اُن کے یہ اشعار ایک خاص طرح کے احساس محرومی اور ذہنی افسردگی کا اظہاریہ معلوم ہوتے ہیں :
اب کہاں پہلا سا اس میں جوش ہے
کیا کہوں دل سربہ سر خاموش ہے
کس کو یہ معلوم کیا ہے زندگی
زندگی میں کس کو اتنا ہوش ہے
کہہ نہیں سکتے ہوا کیا سانحہ
آج سارا شہر ہی خاموش ہے
روایتی موضوعات کی بھر مار کے باوجود پیارے ہتاش کے بہت سے اشعار زندگی رنگ ہیں ۔وہ تنہائی پسند تو ہیں ہی قدامت پسند بھی ہیں ۔حسن وعشق کی لطافتیں اور پُر بہار ومسرورکن لمحات اُن کی زندگی میں بہت کم آئے ہیں ۔ہجر وتنہائی اور زندگی کی دائمی سچائیوں کا بیان اُن کی غزلوں کے بیشتر اشعار میں نظر آتا ہے ۔ پیارے ہتاش کے پاس ایک پاکیزہ ذہن ودل ہے جو ہر وقت اچھے خیالات کو اپنے اندر بسائے رکھنے کا عادی ہے اور ایسی حیا آمیز آنکھیں ہیں جو ہر کسی کی ماں ،بہن ،بیٹی کو اپنی ماں ،بہن ،بیٹی کی طرح دیکھتی ہیں ۔اُن کے کلام میں ایک واضح پیغام سیدھے سادے الفاظ میں ہوتا ہے جسے سمجھنے میں بہت زیادہ غوروتدبر کی ضرورت نہیں پڑتی ۔مثلاً ذیل کے اشعار پر دھیان دیجیے:
زندگی کا ہے ہر سفر تنہا
کٹ رہی ہے یہ سر بسر تنہا
ساتھ جن کے یہ زندگی گزری
وہ گئے مجھ کو چھوڑ کر تنہا
کوئی جاتا نہیں ہے ساتھ کبھی
زند گی کا ہے یہ سفر تنہا
پیارے ہتاش کی نظر میں ذات پات ،رنگ ونسل ،بھید بھاؤ،اونچ نیچ ،مندر مسجد اوردین دھرم کے جھگڑے علمی امن ،بھائی چارے اور رواداری کے لیے انتہائی خطر ناک اور انسانیت سوز ہیں ۔وہ اس بات کے قائل ہیں کہ جب زمین ایک ہے ،آسمان ایک،چاند ایک، سورج ایک ، پانی ایک اورخون کا رنگ ایک جیسا ہے تو پھر نسل آدم میں تفرقات اور تضادات کیوں ۔وہ تو تمام ملکوں کی سرحدوں کو دیکھ کر مایوس ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سارے جہاں کے لوگ ایک دوسرے کو اپنے خاندان کے لوگ تصور کریں ۔ ایک غزل کے درج ذیل اشعار میں پیارے ہتاش کا مشاہدہ ہمیں اس طرح کا پیغام دیتا ہے:
پتھر آخر پتھر ہی ہے
اپنے ہو ں یا پرائے پتھر
اس کا کبھی انجام بھی سوچا
سوچ کے کیا برسائے پتھر
دل میں شرمندہ ہوں گے
جن ہاتھوں نے اُٹھائے پتھر
وادی میں یہ کہاں تھا پہلے
ہر جانب سے آئے پتھر
بہرحال پیارے ہتاش میں شاعری کے جراثیم اُن کی کہنہ مشقی کے ساتھ موجود ہیں ۔اُن کے شعری مجموعہ ’’چناروں سے دُور‘‘میں تشبیہات واستعارات بہت کم نظر آتے ہیں ۔سہل ممتنع کے انداز میں اپنامافی الضّمیر بیان کرتے ہیں ۔وہ ’’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ‘‘کے قائل نہیں ہیں ۔اُن کی یہ کوشش رہتی ہے کہ عام فہم الفاظ میں اُن کی بات اُن کے قاری تک پہنچے۔شعری صنعتوں کو میں شاعری کا زیور کہتا ہوں لیکن پیارے ہتاش ؔنے اپنے کلام میں شعری صنعتوں کو نہیں برتا ہے۔ ایک ایسا غزلیہ شاعر کہ جس کے مجموعوں کی تعداد 18تک پہنچنے والی ہے لیکن اس کے باوجود اس کمی کاشدید احساس ہورہا ہے کہ پیارے ہتاش نے نظمیہ شاعری سے اجتناب کرتے ہوئے صرف غزل کو ہی اپنے تجربات ،مشاہدات اور افکار وخیالات کے اظہار کا وسیلہ بنایا ہے ۔میرا خیال یہ ہے کہ اگر وہ نظمیہ شاعری کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتے تو اُن کی مقبولیت میں چار چاند لگ جاتے ۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ موصوف تادم حیات اپنے نثری اور شعری کارناموں کے ساتھ جڑے رہیں !۔
رابطہ۔اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اُردو
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری( جموں کشمیر)
موبائل نمبر۔7889952532