پٹواریوںونائب تحصیلداروں کی اسامیوں کیلئے جاری نصاب میںاردوکو ثانوی حیثیت دینے کامعاملہ

جموں// تحریک بقائے اُردو کے ایک وفد نے وزیر برائے خوراک ، شہری رسدات ، امور صارفین اور قبائلی امور کے ساتھ ملاقات کی ۔ وفد میں یونیورسٹی آف جموں اینڈکشمیر کے اُردو سکالر شامل تھے۔ وفد نے وزیر کو اپنی مطالبات کی فہرست پیش کی جن میں نائب تحصیلدار امتحان میں اُردو مضمون شامل کرنا بھی موجود تھے۔انہوںنے جے اینڈ کے سروس سلیکشن بورڈ کی طرف سے مشتہر کئے گئے 18؍ نومبر2017ء کے نائب تحصیلدار امتحان میں 100نمبرات پر مشتمل اُردو مضمون آخری مرحلے میں شامل نہیں کیا تھا۔ اس دوران وفدنے اردو کے نمبرات کو میرٹ لسٹ میں شامل کرنے کی مانگ کی ۔ اس دوران وزیرذوالقار علی چوہدری نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو اپنی طرف سے حل کرنے پوری کوشش کریں گے تاکہ اردو کو جائز مقام دلایا جاسکے۔ وفد نے کہا کہ سال ۲۰۱۵؁ء میں جموں و کشمیر سروس سلکشن بورڈ نے محکمہ مال کی اسامیوں کو پر کرنے کے لئے اشتہار (Advertisment)  نکالی جس میںسے پٹواری اور نائب تحصیلدار کے لئے چند اسامیاں مختص کی گئیں اور JKSSB نے باضابطہ طور پر ان اسامیوں کو پر کرنے کے لئے مقابلہ جاتی امتحان conduct کرانے کے لئے نصاب تیار کیا تھا۔ محکمہ مال کی ضرورت کے پیشِ نظر اردو کو بھی نصاب میں شامل کر لیا گیا ۔ جس کو لے کر کافی حلقوں میں مباحثے ہوئے اور آخر معاملہ عدالت تک لے جایا گیا ۔جب عدالت بھی اس پہ صحیح فیصلہ دینے میں کامیاب نہ ہو پائی تو اُنھوں نے JKSSBکے سر یہ معاملہ ٹھونس دیا ۔اور اب جب پہلے نصاب کو بدل کر JKSSBنے نیا نصاب تیار کیا ہے تو اس میں اردو کی حیثیت ثانوی رکھی گئی ہے یہ نصاب محکمہ مال کی ضرورت کے بلکل منافی ہے پہلے بھی جب نائب تحصیلداروں اور پٹواریوں کے لئے Recrutment)  کی گئی تو اس میں بہت سارے ایسے لوگ بھی آگئے جو اردو سے مکمل طور پر نابلد تھے جس کی وجہ سے جو کام حالصتاََ اردو میں  ہوتا تھا وہ صحیح طرح سے نہیں ہو رہا ہے کیوں کہ Patware اور Naib Tehsildar کے لئے اردو جاننا ضروری ہے ۔اس نئے نصاب کے مطانق Candidate کو پہلے General Study کا امتحان پاس کرنا ہے اس کے بعد اردو کا امتحان صرف کوالیفائی کرنا ہے  اور وہ بھی 40% نمبرات لے کر اور یہ نمبرات merit میں شامل نہیں کئے جائے گے یعنی  اردو کو صرف کوالیفائی کرنا ہے اور وہ بھی خارجی سطح پہ۔ اردو ریاست کی  سرکاری زبان ہے اور سرکاری زبان کے ساتھ اس طرح کا رویہ ناقابل برداشت  ہے اس لئے ہماری آپ سے مودبانہ گذارش ہے کہ آپ اس معاملے میں ذاتی دلچسپی دکھاتے ہوئے مداخلت کریں اور ہماری مانگ کو پورا کیا جائے تاکہ محکمہ مال میں ہماری ریاست اور قوم کے قیمتی ورژے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے ۔ان سکالروں نے خدشہ ظاہر کی کہ امتحان پاس کرنے کے لئے صرف جنرل نالج پرچے کوہی اہم قرار دیا جائے گا اور اُردو پرچے کو خاص اہمیت حاصل نہیں ہوگی ۔وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ اُردو ریاست جموں وکشمیر کی سرکاری زبا ن ہے اور اس کی حفاظت کرنے کیلئے حکومت وعد ہ بند ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت بشمول دیگر زبانوں کے اردو زبان کو ترقی دینے کے لئے تمام تر اقدامات کرے گی۔انہوں نے تحریک بقائے اُردو کی اردو زبان کو ترقی دینے میں اُن کی کوششوں کو سراہا ۔وزیر نے یقین دلایا کہ وہ اس مسئلے کو مال ، امداد ، باز آباد کاری کے وزیر اور ایس ایس آر بی کے چیئرمین کے ساتھ اٹھائیں گے ۔جنرل سیکرٹری تحریک بقائے اردو سنیٹرل ذاکر بھلیسی ، ٹی بی یو کے ممبران ڈاکٹرمحمد ذاکر ، عمر فاروق ، سجاد احمد بانڈے،عمرفاروق ،، محمد انیس چاڑک ،  جاوید احمدشاہ،عبدالقیوم ، اعجاز احمد ، عارف ایوب شاہ اور مختار احمد اس موقعہ پر موجود تھے۔