ظفر اقبال
اوڑی// ضلع بارہمولہ کے سرحدی قصبے اْوڑی میں ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کی غیر معمولی آمد جاری ہے، جس سے یہ علاقہ سرحدی سیاحت کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ اس بڑھتی ہوئی سیاحت سے مقامی معیشت اور کاروبار کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے، تاہم رہائش کی محدود سہولیات نے ایک نئے مسئلے کو جنم دیا ہے۔مقامی باشندوں اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر کاروباروں میں خاصی رونق آئی ہے، لیکن خاص طور پر ہفتہ وار تعطیلات اور سیاحت کے عروج کے دنوں میں متعدد سیاحوں کو قیام کے لیے مناسب جگہ نہیں مل رہی۔اس صورتحال کے پیش نظر مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سلام آباد میں قائم ٹورسٹ ریسیپشن سینٹر کو رات کے قیام کے لیے دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ رہائش کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔سیاحتی شعبے کے نمائندوں نے اْوڑی کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر سجاد شفیع سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ سیاحت کے ساتھ اس معاملے کو مؤثر انداز میں اٹھائیں تاکہ ٹی آر سی کی رہائشی اور کیفے ٹیریا کی سہولیات فوری طور پر بحال کی جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مرکز کی بحالی سے نہ صرف سیاحوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ حکومت کی سرحدی سیاحت کو فروغ دینے کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔ایک مقامی سیاحتی اسٹیک ہولڈر نے کہااْوڑی میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں سیاح آ رہے ہیں، لیکن مناسب رہائش کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ سلام آباد کا ٹی آر سی جلد از جلد فعال ہونا چاہیے تاکہ سیاح آرام دہ قیام کی سہولت حاصل کر سکیں۔اس مطالبے پر ردِعمل دیتے ہوئے اْوڑی کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر سجاد شفیع نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پہلے ہی حکومت کے سامنے اٹھا چکے ہیں۔انہوں نے کہا میں نے متعلقہ حکام سے درخواست کی ہے کہ اس مرکز کو جلد از جلد سیاحوں کے لیے فعال بنایا جائے۔ ٹی آر سی کی بحالی سے اْوڑی میں سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو نمایاں تقویت ملے گی۔