پٹرول اورڈیزل مہنگا ہونے کا امکان

 نئی دہلی// پٹرول ڈیزل کے محاذ پر عام آدمی کے لئے ایک بری خبر ہے۔ برینٹ کروڈ نے امسال دوسری بار 70 ڈالر کا نشانہ پار کیا ہے۔ اس سے پہلے برینٹ کروڈ 31 جنوری کو 70 ڈالر کاآنکڑا پار کر 70.97 کی سطح تک جا پہنچا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کروڈ میں یہ بڑھوتری جاری رہی تو آنے والے دنوں میں پٹرول ڈیزل مہنگا ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کروڈ میںمزید توسیع دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔ اگر اس کے وجوہات کی بات کی جائے تو اس میں اوپیک ممالک کی جانب سے پیداوار کٹ کو جاری رکھنا، امریکی فیڈ ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافہ، مڈل ایسٹ کی موجودہ صورت حال اور روپے میں جاری گراوٹ کو سمجھا جا سکتا ہے۔اقتصادی تنگی کی وجہ سے وینزویلا کے پروڈکشن میں کمی آنا، ایران پر پابندی اور سعودی سمیت تمام ممالک کے درمیان جاری جیو پولیٹکل ٹینشن مہنگے خام کی وجہ ہیں۔ ان وجوہات کی وجہ سے مارچ کے اختتام تک خام تیل کی حد 63 سے 73 ڈالر کے دائرے میں کاروبارکرسکتا ہے۔ ہندوستان کا کچا تیل درآمد بل رواں مالی سال میں 25 فیصد بڑھ کر 87.7 ارب ڈالر پر پہنچنے کا اندازہ ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں میں تیزی آئی ہے جس سے ملک کی درآمد بل بڑھنے کا اندازہ ہے۔ہندوستان نے 2016-17 میں 21.40 ملین ٹن خام تیل درآمد کیاگیاتھا۔ قیمت کے حساب سے یہ 70.19 ارب ڈالر یا 4.7 لاکھ کروڑ روپے کا رہا۔ پٹرولیم وزارت کے پٹرولیم پلاننگ اینڈ اتجزیہ سیل (پی پی اے سی ) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق2017-18 میں خام تیل کی درآمد 21.91 کروڑ ٹن رہنے کا اندازہ ہے۔ہندوستان درآمد کے ذریعے تیل کی ضروریات کا 80 فی صد مکمل کرتا ہے۔