پونچھ//چکاں دا با غ کے راستے ہونے والی تجارت میں 2008کے بعد سے اب تک کوئی خاطر خواہ بدلائو نہیں ہوا جس کی وجہ سے نہ صرف پونچھ کے نئے تاجروں کو مواقع مل رہے ہیں بلکہ اس تجارت میں شامل پرانے تاجربھی تشویش مند ہیں ۔چکانداباغ تجارتی مرکز سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ اور پونچھ کے تاجروں کے درمیان ہو رہی اس تجارت میں نوجوانوں کو نظر انداز کر نے کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔ بے روزگار نوجوانوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام پر جان بوجھ کر انہیں نظرانداز کرنیکا الزام عائد کیا۔جاوید اقبال ریشی نے کہا کہ گیارہ سال پہلے دونوں ملکوں کے بیچ شروع ہوئی تجارت میں آج تک نئی فرموں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی اور سیاسی پشت پناہی والے لوگوں کو ہی اس میں شامل رکھاگیاہے جبکہ نئے تاجروں کیلئے کوئی مواقع میسر نہیں اوران کی خاطر دروازے بند کردیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت میں محض 35 ٹرک سامان کی ہی تجارت ہوتی ہے جو بہت کم ہے جبکہ اس تجارت میں یومیہ ا یک سو ٹرکوں کی تجارت شروع کرکے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس میں مواقع دیئے جانے چاہئیں ۔ پونچھ راولاکوٹ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرزاق خاکی اور نائب صدر کرشن سنگھ صراف نے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ حدِ متارکہ پر دو طرف تاجروں کی میٹنگ منعقد کروائیں تاکہ تاجر اپنے مسائل بات چیت کے ذریعہ حل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ تجارت میں اضافہ کے بجائے کمی کی جارہی ہے جس کہ وجہ سے تاجروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تجارتی اشیاء میں اضافہ کیاجائے ۔