نعمت ِ الٰہی
مسعود محبوب خان
آج کا انسان ظاہری آسائشوں، مصنوعی نفاست اور آرام طلبی میں اس قدر گم ہوچکا ہے کہ وہ بہت سی بنیادی نعمتوں کی قدر کھو بیٹھا ہے۔چنانچہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی حفاظت، راحت اور صحت کا ذریعہ بنایا، انسان اُنہی کو بسا اوقات زحمت، شرمندگی یا بدصورتی سمجھنے لگتا ہے۔ پسینہ بھی اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، جسے اکثر لوگ محض بے آرامی یا ظاہری خرابی کا سبب سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ انسانی جسم کے تحفظ اور توازن کا ایک نہایت اہم قدرتی نظام ہے۔جبکہ جسمانی صحت، طاقت، حرکت اور تندرستی کے لئے پسینہ آنا وہ نعمت ہے، جو خاموشی سے انسان کی زندگی کی حفاظت کرتی رہتی ہیں۔
آج کے دور میں بہت سے لوگ پسینہ آنے کو شرمندگی، بدصورتی یا ’’پرسنیلٹی خراب ہونے‘‘ کی علامت سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پسینہ انسانی جسم کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ ایک حیرت انگیز حفاظتی ڈھال ہے۔ ہمارے بزرگ جب پسینہ آتا دیکھتے تو شکر ادا کرتے کہ ’’جسم کھل گیا‘‘، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پسینہ صحت کی علامت ہے، بیماری کی نہیں۔ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو نہایت حکمت اور توازن کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ انسان کے جسم کا نارمل درجۂ حرارت تقریباً 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ جب موسم کی شدّت، جسمانی محنت، ورزش، ذہنی دباؤ یا بخار کی وجہ سے جسم کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے تو قدرتی طور پر جسم کے لاکھوں مسام متحرک ہو جاتے ہیں اور پسینہ خارج ہونے لگتا ہے۔یہ پسینہ جلد کی سطح پر آکر بخارات کی شکل اختیار کرتا ہے اور جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ اگر یہ نظام موجود نہ ہو تو انسانی جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ طبّی اعتبار سے اگر جسم کا درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو یہ کیفیت شدید بخار کے برابر ہوتی ہے، جو دل، دماغ، جگر اور گردوں جیسے نازک اعضاء کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ گویا پسینہ صرف پانی کے قطرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے زندگی بچانے والا ایک خاموش محافظ ہے۔
انسانی جسم میں پسینہ پیدا کرنے والے غدود (Sweat Glands) دو بنیادی اقسام کے ہوتےہیں۔ ایک ’’ایکرائن غدود‘‘ جو پورے جسم میں پھیلے ہوتے ہیں اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا کام کرتے ہیں، جب کہ دوسرے ’’ایپوکرائن غدود‘‘ ہوتے ہیں جو بغلوں اور جسم کے بعض مخصوص حصّوں میں پائے جاتے ہیں۔ انہی غدود سے پیدا ہونے والے پسینے میں بیکٹیریا شامل ہوکر بو پیدا کرتے ہیں۔ اس حقیقت سے معلوم ہوتا ہے کہ پسینہ بذاتِ خود بدبو نہیں ہوتا بلکہ صفائی کی کمی اور جراثیم اس کی بو کا سبب بنتے ہیں۔ اسی لئے اسلام نے طہارت، غسل اور صفائی پر زور دیا ہے۔
ماہرین طب کے مطابق پسینہ انسانی جسم کے قدرتی حفاظتی اور صفائی کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگرچہ جسم سے فاسد مادّوں اور زہریلے عناصر کے اخراج کا بنیادی کام جگر اور گردے انجام دیتے ہیں، تاہم پسینہ بھی جلد کے مساموں کو کھولنے، جسمانی توازن برقرار رکھنے اور جلد کو فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باقاعدہ ورزش کرنے والے افراد عموماً زیادہ چُست، توانا اور صحت مند دکھائی دیتے ہیں۔ پسینہ خون کی گردش کو بہتر بناتا، جلد کو تازگی بخشتا اور جسمانی درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جب انسان ورزش، محنت یا جسمانی سرگرمی کرتا ہے تو جسم میں حرارت بڑھتی ہے اور پسینہ اُس اضافی حرارت کو کم کرکے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ یہی قدرتی نظام انسان کو شدید گرمی اور جسمانی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔
طبّی ماہرین کے مطابق جسمانی حرکت اور ورزش کے نتیجے میں آنے والا پسینہ ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، فالج، موٹاپے اور بعض سانس کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمی ذہنی دباؤ کم کرنے اور مجموعی صحت بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طبّی دنیا میں ایک بیماری این ہائیڈروسس (Anhidrosis) کہلاتی ہے، جس میں انسان کے جسم کو مناسب مقدار میں پسینہ نہیں آتا۔ ایسے افراد شدید گرمی میں جلد تھکن، چکر، بے ہوشی اور ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ اُن کا جسم خود کو مؤثر انداز میں ٹھنڈا نہیں رکھ پاتا۔ یہ بیماری اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ پسینہ محض ایک عام جسمانی عمل نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تحفّظ کے لیے ایک نہایت اہم اور قدرتی نظام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کو انسان اکثر معمولی یا باعثِ زحمت سمجھتا ہے، وہی دراصل اُس کی صحت، طاقت اور بقاء کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہوتی ہے۔
آج کا انسان مشینوں اور مصنوعی آسائشوں کا اس قدر عادی ہوچکا ہے کہ وہ معمولی گرمی بھی برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ ہر وقت اے سی میں رہنا، جسمانی مشقت سے دور بھاگنا اور پسینہ آنے سے گھبرانا ایک عام عادت بنتی جارہی ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل میں یہ تصور پیدا ہورہا ہے کہ پسینہ آنا بدتہذیبی یا غیر مہذب طرزِ زندگی کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ درحقیقت پسینہ انسانی جسم کی صحت مند کارکردگی کی نشانی ہے۔ ماہرین ِ صحت کے مطابق روزانہ ہلکی ورزش، تیز چہل قدمی یا کسی مناسب جسمانی سرگرمی کے نتیجے میں آنے والا پسینہ جسم کو نہ صرف چُست اور توانا رکھتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ، بے خوابی اور ڈپریشن جیسے مسائل میں بھی کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جسمانی حرکت خون کی روانی بہتر بناتی ہے اور انسان کو سستی اور کاہلی سے بچاتی ہے۔
جب انسان کا جسم حرکت اور محنت سے محروم ہوجاتا ہے تو اُس کے قدرتی نظام بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انسان پسینے کو محض بے آرامی نہ سمجھے بلکہ اسے ایک فطری، مفید اور صحت بخش عمل کے طور پر قبول کرے۔ اعتدال کے ساتھ محنت، ورزش اور جسمانی سرگرمی نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی سکون اور بہتر زندگی کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔بے شک پسینہ انسانی جسم کا ایک خاموش محافظ ہے۔ پسینہ جسم کو شدید گرمی سے محفوظ رکھتاہے، جسمانی درجۂ حرارت کو متوازن بناتاہے اور کئی بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر انسان غور کرے تو اُسے احساس ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کے اندر کس قدر حیرت انگیز اور حکمت بھرے نظام رکھے ہیں جن پر ہماری صحت، زندگی اور بقاء قائم ہے۔ پسینہ خاموشی سے ہمارے جسم کو ٹھنڈا رکھتاہے، تھکن کے اثرات کم کرتاہے اور ہمیں نقصان دہ اثرات سے محفوظ رکھنے کا سبب بنتا ہے۔ گویا یہ چند قطرے انسان کی زندگی کے محافظ ہیں۔
رابطہ۔ 09422724040