عظمیٰ نیوز سروس
جموں//صوبہ جموں کے ضلع رام بن، ڈوڈہ،کشتواڑ اور دیگرعلاقوں میں عسکریت پسندی کو بڑھاوادینے میںمبینہ طو رپر ملوث شدت پسندوں کی پولیس نے شناخت کرلی ہے اور ان کے ٹیلیفون نمبرات بھی حاصل کرلئے گئے ہیں جو اس وقت پاکستان اور پاکستانی کشمیر میں موجود ہیں۔پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت 250افراد میں سے چالیس عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے بارے میں جانکاری ملی ہے۔پولیس کے لیے ایک اہم کامیابی میں، ڈوڈہ، رام بن اور کشتواڑ اضلاع میں حکام نے پاکستان اور پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے ان اضلاع سے تقریباً 40 عسکریت پسندوں کے “درست مقامات” کی نشاندہی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جہاں وہ مختلف عسکریت پسند تنظیموں کے کمانڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اور جموں خطے میں خاص طور پر ان کے آبائی اضلاع میں عسکریت پسندی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پولیس ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ ہمارے پاس کل 250 میں سے 40 عسکریت پسندوں کے “صحیح مقامات اور پتے” ہیں جو تین اضلاع سے پاکستان اور PoJK میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن کے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے زیر استعمال موبائل اور لینڈ لائن نمبروں کی بھی شناخت کر لی گئی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دیگر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور پتے کا پتہ لگانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی کچھ اور کامیابیاں بھی متوقع ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ ہماری ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔ جلد ہی، ہم مزید عسکریت پسندوں کے پتے اور مقامات کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔اس کا استعمال ہندوستانی حکومت (وزارت خارجہ) پاکستان کو یہ بتانے کے لیے کرے گی کہ یہ عسکریت پسند پاکستان اور PoJK میں ایسے مقامات سے کام کر رہے ہیں اور دوسری صورت میں پرامن اضلاع میں عسکریت پسندی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ پولیس ان میں سے کچھ عسکریت پسندوں کے خلاف اگلے ہفتے چارج شیٹ پیش کرے گی۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پاکستان اور پی او جے کے میں کیمپ کرنے والے عسکریت پسندوں کے صحیح مقامات، پتے، تنظیموں اور صفوں کی نشاندہی کرنا پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اہم کامیابی ہے، ذرائع نے کہا کہ اس سے نہ صرف عسکریت پسندوں کے خلاف بلکہ پاکستان کے خلاف بھی انتہائی مضبوط کیس بنے گا ۔