عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کی سب ڈویژن چھاترو کے پہاڑی علاقوں میں پانچ ماہ قبل سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے جیش کے پاکستانی کمانڈر سیف اللہ اور اس کے سات دیگر غیر ملکی ساتھیوں کے خلاف جاری تحقیقات میں کشتواڑ پولیس کو ایک اور بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پولیس نے اس نیٹ ورک کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے ایک اہم ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے مبینہ طور پر اس گروہ کو تقریباً دو برس تک علاقے میں سرگرم رہنے میں مدد فراہم کی۔ پولیس کے مطابق یہ گرفتاری ملی ٹینٹوںکے معاون نیٹ ورک کے خلاف جاری تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے اس خفیہ سپورٹ سسٹم کی مزید پرتیں کھلنے کی توقع ہے جو ان پہاڑی علاقوں میں غیر ملکی ملی ٹینٹوںکو پناہ، نقل و حرکت اور دیگر سہولیات فراہم کرتا رہا۔ سیف اللہ اور اس کے سات ساتھیوں کو سیکورٹی فورسز نے ’’آپریشن تراشی‘‘ کے دوران ہلاک کیا تھا۔ملی ٹینٹوں کے خاتمے کے بعد کشتواڑ پولیس کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان کے معاون نیٹ ورک کی نشاندہی اور اسے ختم کرنا تھا، جس نے مبینہ طور پر انہیں طویل عرصے تک علاقے میں محفوظ رکھا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پولیس نے محمد رفیق نائیک ولد غلام علی نائیک ساکن داتھر سنگھ پور کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پرملی ٹینٹ سرگرمیوں میں سہولت کاری میں ملوث رہا ہے۔ یہ گرفتاری پولیس سٹیشن چھاترو میں درج ایف آئی آر زیر نمبر 03/2026کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، جس میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 61(2)، 109، 147 اور 148، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعات 13، 16، 18، 19اور 20، اور آرمز ایکٹ کی دفعات 7/27شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ محمد رفیق نائیک مبینہ طور پر چھاترو علاقے میں سیف اللہ گروپ کا اہم ہینڈلر تھا اور وہ غیر ملکی ملی ٹینٹوںکو فعال مدد اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ اس پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے اور ان تمام افراد کی نشاندہی ہو سکے جو کسی نہ کسی شکل میں ملی ٹینٹوں کی معاونت میں ملوث رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کشتواڑ پولیس نے منیر احمد و مشکور احمد دونوں ساکنان چھاترو کو ملی ٹینٹسرگرمیوں میں سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جاری تحقیقات کا مقصد نہ صرف اس نیٹ ورک کے باقی ماندہ عناصر کو بے نقاب کرنا ہے بلکہ ان کے پاکستان میں موجود ہینڈلرز کے ساتھ روابط کا بھی سراغ لگانا ہے۔ ساتھ ہی ملزم کے کردار کی مکمل جانچ اور نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان کی شناخت پر بھی کام جاری ہے۔
سلال ڈیم کے تمام دروازے کھول دئے گئے
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//ریاسی ضلع میں واقع سلال ڈیم کے تمام دروازے مسلسل بارش کے باعث ذخیرہ آب میں پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافے کے بعد کھول دیے گئے ہیں۔حکام کے مطابق ضلع ریاسی اور بالائی آبی ذخائر کے علاقوں میں مسلسل بارش کے نتیجے میں ڈیم میں پانی کی آمد تیزی سے بڑھ گئی، جس کے پیش نظر ذخیرہ آب میں پانی کی سطح کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام دروازے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ڈیم سے پانی کے منظم اخراج اور بالائی علاقوں سے آنے والے شدید بہاؤ کے باعث دریائے چناب میں پانی کی سطح نمایاں طور پر بلند ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں دریا میں تیز بہاؤ اور شدید طغیانی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔انتظامیہ نے دریائے چناب کے کناروں پر رہنے والے لوگوں سے انتہائی محتاط رہنے کی اپیل کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ دریا کے قریب جانے سے گریز کریں، کیونکہ مزید بارش اور ذخیرہ آب کے انتظامی تقاضوں کے مطابق پانی کی سطح میں مزید اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔