سبزار احمد بٹ
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بچے کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور کسی بھی قوم کے بچے اس قوم کی امانت ہوتے ہیں اور اس امانت کی حفاظت قوم کے ہر فرد پر لازم ہے۔ان بچوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی تربیت کا خیال رکھنا بھی ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ ان کی جسمانی نشوونما بہترین اور مقوی غذا سے کی جاسکتی ہے جب کہ ذہنی تربیت کے لیے بچوں کے لئے بہترین اور ان کی پسند کا ادب تخلیق کرنا ضروری ہے۔موجودہ دور میں ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی ہو رہی ہے اور شاعر، ادیب اور قلمکار روز اپنے قلم سے نئے جوہر دکھاتے ہیں لیکن بچوں کے ادب کی طرف بہت کم دھیان دیا جارہا ہے ۔اس کا مطلب ہر گر یہ نہیں ہے کہ کوئی لکھ نہیں رہا ہے بچوں کے لئے بلکہ ہر بڑے یا اوسط درجے کے شاعر بچوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھتے ہیں۔ہاں مگر اس ادب کو بچوں تک نہیں پہنچایا جارہا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے بچے اردو ادب اور مطالعہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔بچوں کا ادب تخلیق کرنے سے نہ صرف زبان محفوظ رہے گی بلکہ اخلاقیات پر مبنی کہانیاں اور نظمیں لکھ کر بچوں کی کردار سازی کاکام بھی انجام دیا جاسکتا ہے ۔
موجودہ دور میں بھی کچھ لوگ بچوں پر لکھنے کو ترجیح دے رہےہیں۔ اس ضمن میں پرویز مانوس کا نام لیا جاسکتا ہے۔ پرویز مانوس کی ابھی تک زائد از 24تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں اور انہیں مختلف اعزازات سے نوازا جا چکا ہے ۔پرویز مانوس بچوں کے لئے نظمیں اور کہانیاں تواتر کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔حال ہی میں بچوں کی کہانیوں کا مجموعہ “پاپا جلدی آجانا” منظر عام پر آچکا ہے ۔مذکورہ کتاب جازب نظر ہے اور بہت عام فہم زبان میں لکھی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب موٹے الفاظ میں شائع کی گئی ہے اور بچوں کو پڑھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ مذکورہ کتاب کا انتساب ان معصوم بچوں کے نام کیا گیا ہے جن کا قیمتی بچپن پیٹ کی آگ بجھاتے بجھاتے وقت کی بے رحم دھول میں دب کر رہ گیا۔اس کتاب کا پیش لفظ محمد زماں آزردہ نے لکھا ہے۔مذکورہ کتاب پر سابق پرنسپل سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر اصغر حسین سامون نے “پیغام” عنوان کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔کتاب پر غلام نبی شاکر ،کلچرل ایجوکیشن ونگ کے سابقہ او ایس ڈی اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح سے کرتے ہیں ” پرویز مانوس کی کتاب پاپا جلدی آجانا کا مسودہ پڑھ کر مجھے لگتا ہے کہ ہماری ریاست میں اطفالِ ادب کی صورتحال بہت زیادہ مایوس کن نہیں ہے اور یہ کہ مانوس جیسے ادیب بچوں کے ادب اور اس کے ذریعے بچوں کی تعلیم و تربیت میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں ۔اس کتاب میں مانوس نے جو کہانیاں لکھی ہیں، وہ واقعی بچوں کی نشوونما میں اہم رول ادا کر سکتی ہیں “۔
پرویز مانوس کے کہانیوں کے مجموعے میں پندرہ کہانیاں شامل ہیں جو ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔” بہادر بیٹی” نامی کہانی میں گائوں کا پچاس سالہ مکار اور لالچی ساہوکار رام دین کی بے بسی اور مجبوری کا فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی کمسن بیٹی ککرتی سے شادی رچاتا ہے ۔شادی کے بعد ککرتی کو پتہ چلتا ہے کہ یہ ساہوکار کی چوتھی شادی تھی۔ککرتی بہت بہادری کا مظاہرہ کر کے اس ساہوکار کے چنگل سے بچ جاتی ہے اور ساہوکار قانون کے ہتھے چڑھ جاتا ہے ۔اس کہانی میں جہاں بچوں کو اس بات کا سبق دیا گیا ہے کہ وہ ہر حال میں بہادری کا مظاہرہ کریں اور ظلم کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں وہیں سماج کے اس بے حس اور ظالم طبقے کے منہ پر بہت خوبصورتی کے ساتھ تھپڑ رسید کر دی گئی ہے جو مجبور لوگوں کی مجبوری اور بے بسی کا فائدہ اٹھا کر ان کی بیٹیوں کواپنا کھلونا سمجھتے ہیں ۔کہانی “انعام” میں جب سارے بچے دوڑ مقابلے میں حصہ لیتے ہیں تو راستے میں ایک آدمی درد سے کرا ہ رہا ہوتا ہے اور اسے سخت پیاس لگی ہوتی ہے لیکن سبھی بچے اس انسان کو نظر انداز کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں دانش ،جو سب سے آگے ہوتا ہے، ایک دم سے رک جاتا ہے اور ہار جیت کی پرواہ کئے بغیر اس انسان کو سہارا دیتا ہے اور اسے پانی دیتا ہے۔آخر پر جب اس بات کا انکشاف ہوتا اور لوگ جان جاتے ہیں کہ دانش نے کس وجہ سے یہ مقابلہ ہارا ہے تو سب لوگ دانش کی اس دانشمندی، انسانیت اور رحم دلی سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کہانی سے بچوں کو یہ درس دیا جاتا ہے کہ انسانیت اور رحم دلی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے ۔” عبرت” نام کی بڑی دلچسپ کہانی بھی اس کتاب میں پیش ہوئی ہے جس میں بہت شاندار انداز میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جوش میں ہوش نہیں کھونا چاہئے ،انسان کو ظلم سے باز آنا چاہئے کیونکہ ہمارے کرتوت لوٹ کر ہمارے ہی پاس آتے ہیں ،ہمیشہ اچھا کرنا چاہئے ۔ایک اور کہانی ” گھمنڈی لڑکی ” بھی پیش کی گئی ہے جس میں گھمنڈی لڑکی ،جس کی پرورش بڑے ناز و نیم سے ہوئی ہوتی ہے، شکار کے لئے جنگل جاتی ہے۔وہاں وہ پانی میں گر جاتی ہے اور اسے کافی ٹھنڈ لگتی ہے ۔سردی سے بچنے کے لئئے وہ لڑکی اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کراپنے آرام کے لیے ایک بڑھیا کی کٹیا کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔یہی بڑھیا یہ معاملہ بادشاہ کے دربار میں پیش کرتی ہے ۔بادشاہ ،جو اس گھمنڈی لڑکی کا باپ ہوتا ہے، ایک انصاف پسند راجا ہوتا ہے جو اپنی گھمنڈی بیٹی کے ہاتھوں سے بڑھیا کی کٹیا بنوانے کا حکم دیتا ہے اور اپنی بیٹی کو اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ ہم سب برابر ہیں، کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا ۔اپنے فائدے کے لئے کبھی بھی کسی غریب کا نقصان نہیں کرنا چاہیے۔کہانی “جھوٹ کی سزا” چھوٹی صحیح لیکن اس میں پیغام بڑا ہے ۔اس کہانی کے ذریعے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ہمیں کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ورنہ ایک دن ایسا آئے گا کہ ہمارے سچ پر بھی لوگ بھروسہ نہیں کریں گے۔ ” پچھتاوے کے آنسو” نامی کہانی بھی کافی دلچسپ کہانی ہے جس میں حامد اپنے ماں باپ کے بے جا لاڈ پیار کی وجہ سے اس قدر بگڑ جاتا ہے کہ اسے بزرگوں تک کی بھی تمیز نہیں رہتی ۔بالاآخر اپنی بے وقوفی کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپاہج ہوکر رہ جاتا ہے ۔یہ کہانی نہ صرف بچوں کے لئے نصیحت آموز ہے بلکہ اس میں والدین کے لیے بھی پیغام ہے کہ بچوں سے بے جا لاڈ پیار کرنے سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔ ان کہانیوں کے علاوہ ” نیکی کا اجر”،”سخاوت کا انعام”اور “دوست” جیسی دلچسپ کہانیاں بھی اس کتاب میں شامل ہیں ۔
منجملہ طور پر کہا جاسکتا ہے کہ کہانیوں کا مجموعہ بچوں کے لئے ایک حسین تحفہ ہے۔امید ہے کہ بچوں کا ادب تخلیق کرنے پر ہمارے شاعر ادیب اور قلمکار حضرات مزید دھیان دیں گےتاکہ نئی نسل اور ادب کے درمیان پیدا ہوئے خلا کو کسی حد تک کم کیا جاسکے۔
رابطہ۔اویل کولگام، کشمیر
فون نمبر۔7006738436