غازی سہیل خان
کشمیر کو اولیا کی سرزمین کہا جاتا ہے اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔کشمیر میںاگر آج کوئی کلمہ گو مسلما ن اللہ تعالی کی توحید پر قائم ہے تو یہ بھی ان ہی اولیا اور بزرگوں کی دین ہے ۔ اپنی ماضی سے جُڑے رہنا ایک انسان کے لئے اُتنا ہی ضروری ہے جتنا انسانی جسم کے ساتھ روح کا وابستہ رہنا ضروری ہے ۔گذشتہ دنوں ایک کتاب’’ سنڈیکیٹ میڈیا ‘‘کی طرف سے وصول ہوئی، جس کا نام ’’پانچ بڑے اولیائے کشمیر‘‘ ہے جس کو وادی کشمیر کے ہی ایک معروف مصنف عاشق کشمیری نے مرتب کیا ہے ۔عاشق کشمیری کا اصل نام سید عتیق اللہ بخاری ہے۔ آپ کا تعلق ضلع بڈگام کے درمنہؔ علاقے سے ہے ۔آپ مشہور مصنف ،ادیب ،شاعر اور قلم کار ہیں ،اس کے علاوہ درجنوں اُردو اور انگریزی کتابوں کے مصنف بھی رہ چُکے ہیں جبکہ آپ کے چند شعری مجموعے بھی شایع ہو چُکے ہیں۔محترم موصوف کافی عرصہ تک جماعت اسلامی جموں کشمیر کے ترجمان روزنامہ اخبار ’’اذان ‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے چُکے ہیں اورآج اپنے ہی گھر میں بزرگی کے ایام گزار رہے ہیں ۔آپ کی مرتب کردہ کتاب ’’پانچ بڑے اولیائے کشمیر ‘‘کا تعارف اور مختصرجائزہ آپ تک پہنچانا چاہوں گا ۔یہ اس کتاب کا ساتواں ایڈیشن ہے ۔یہ کتاب خصوصی طور سے طلبہ کے لئے مرتب کی گئی ہے تاکہ نئی نسل یہ جان سکے کہ ہمارے اسلاف اور بزرگوں نے کن قربانیوں کے بعد کشمیر کی وادی میں دین اسلام کی شمع کو روشن کیا ۔صاحب کتاب اسی حوالے سے صفحہ11پر لکھتے ہیں کہ ’’ یہ تعارف علماء اور مورخین و محققین کے لئے نہیں ہے بلکہ ان طلبہ و طالبات کے لئے ہے جو اسکول سے یونیورسٹی تک کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ان کو سائنس وغیرہ کی تعلیم میں کسی حد تک سُدھ بُدھ تو ضرور ہوتی ہے (اور یہ اُن کے لئے ضروری بھی ہے ) لیکن اسلام اور اسلام پیش کرنے والوں کے بارے میں اُن کی معلومات صفر کے برابر ہوتی ہے ‘‘۔چونکہ کشمیر میں اسلام عرب کے ممالک سے نہیں پھیلا ہے بلکہ وسط ایشا سے آئے ہوئے بزرگوں کی محنت سے پھیلاہے ۔اسی کتاب میں صفحہ 75پر مصنف رقم طراز ہیں کہ ’’کشمیر میں اسلام ،براہ راست عرب دنیا کے ذریعہ نہیں بلکہ وسط ایشا کے مبلغ حضرات کی کوششوں سے پھیلا ۔لہٰذایہاں صوفیاء اور ریشی حضرات کا کافی اثر رہا ہے جس نے یہاں کی معاشرتی زندگی کے ہر میدان کو متاثر کیا ،نتیجتاً علماء و فضلاء جو علامہ اور مولانا کے ناموں سے مشہور ہوتے تھے بابا اور ریشی کے ناموں سے کشمیر میں مشہور ہوتے تھے، جب کہ یہ حضرات اپنے وقت کے جید علماء میں شمار تھے ۔‘‘
مذکورہ کتاب میں کشمیر کے پانچ بڑے اولیاء کرام کا تذکرہ مختصراً اور جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ان اولیا میںحضرات عبدالرحمن بلبل شاہ ؒ،حضرت شاہ ہمدانؒ،حضرت علمدار کشمیرؒ،حضرت سلطان العارفین ؒاور حضرت بابا نصیب الدین غازی ؒ کا ذکر شامل ہے ۔مقدمہ جو کہ صاحب مرتب نے خود لکھاہے کے بعد سب سے پہلے کشمیر میں’’ تحریک اسلامی کا اولین داعی و نقیب‘‘ عنوان کے تحت حضرت عبدالرحمن بلبل شاہ ؒ کے ذکر سے شروع کیا ہے ۔چونکہ وادی کشمیر میں سب سے پہلے اسلام پھیلانے کا سہرا حضرت بلبل شاہ ؒکے سر ہی جاتا ہے جو کہ اصل میں ترکستان کے رہنے والے تھے ،انہوںنے بغداد کے بعد کشمیر کا رُخ کیا اور یہاں توحید کے کلمے کو بلند کیا۔ ایک مشہور واقع گزرا ہے جس میں رنچن شاہ کے نام کا ایک بادشاہ کشمیر میں ہوا کرتا تھا جس نے اسی بزرگ کو دیکھ کے اسلام قبول کر لیا تھا، جس کے سبب یہاں اسلام کے لئے ماحول ساز گار ہو گیا تھا، کے متعلق صفحہ 15 آپ اس واقعہ کو پڑھ سکتے ہیں۔ کشمیر کا یہ پہلا بادشاہ تھا جس نے بلبل شاہ ؒ کے ہاتھوں اسلام قبول کر لیااسکے علاوہ اور بھی بڑی شخصیات نے بلبل شاہ ؒ کے ذریعے اسلام کی آغوش میں پناہ لی تھی، جس کا تذکرہ بھی کتاب میں موجود ہے۔اس کے بعد’’ کشمیر میں اسلامی انقلاب کے عظیم داعی‘‘ عنوان کے تحت سالارعجم حضرت شاہ ہمدانؒ کا ذکر ِخیر کتاب میں شامل کیا گیا ہے ۔کہتے ہیں میر سید علی ہمدانی کشمیر کی تاریخ کے کامیاب ترین مبلغ تھے ۔شاہ ؒصاحب کے ہاتھ پر کم از کم 37ہزار غیر مسلم اسلام لائے ۔وہیں کشمیر میں صدیوں سے مساجد میں پڑھے جانے والی اوراد فتیحہ بھی آپؒ نے ہی شروع کی تھی ۔لکھتے ہیں کہ ’’اوراد فتیحہ حضرت امیرؒ کا مشہور و معروف رسالہ ہے ۔توحید سے لبریز ہے اور پچھلے چھ سات سو سال سے کشمیر کی مساجد میں اس کا’ ورد‘ کیا جاتاہے ۔مورخوں کے مطابق’’ اوراد‘‘ شریف ان تمام وظائف کا مجموعہ ہے جو حضرت امیر نے ایک ہزار چار سو اولیائے کرام سے جمع کئے ہیں ‘‘(ص 39)تاہم یہ دوسری بات ہے کہ بعد میں چند شکم پرست مولوی اور پیر نما لوگوں نے اس توحید سے لبریز کلام میں شرکیہ کلام حلول کر کے لوگوں کے ذہنوں میں بدگمانیاں پیدا کر کے سیدھی سادھی عوام کو شرک کے گھڑے میں ڈال دیا اور آج بھی ایک اچھی خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اس شرک کے گھڑے میں گر گئے ہیں اور باہر نکلنے کی کوئی سبیل نہیں پاتے ۔شاہ ہمدان توحید پرست بلکہ توحید کے ہی داعی تھے اوراعلیٰ کلمتہ الحق کو جہاد سمجھتے تھے ،فاسق اور ظالم حکمرانوں کے ہمیشہ خلاف رہے ہیں ۔اس کے بعد ایک اور عنوان ’’کشمیر میں سلوک و روحانیت کا روشن چراغ ‘‘کے تحت حضرت علمدار کشمیر ؒ کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے ۔انہیں کشمیر میں شیخ لعالم ؒ کے نام سے بھی جانتے ہیں ۔آپ ؒ عید قربان کے دن پیدا ہوئے ۔مورخین کے مطابق شیخ ؒ کے آبا و اجداد کشتواڑ سے تھے ، بعد میں وہ کشمیر وارد ہو گئے ۔انتہائی مقبول شاعر بلکہ آج کی تاریخ میں بھی شیخ ؒ کی شاعری ہر کسی نوجوان و بزرگ کی زبان پر موجود ہے اور اُن کی شاعری کی مختلف زبانوں میں ترجمے بھی ہوئے ہیں ۔کشمیری زبان میں نعت گوئی کی ابتدائی شاعری بھی شیخ نورالدین کی طرف سے ہی منسوب کی گئی ہے ۔ڈاکٹر نصرت نثار نے اپنی ایک تصنیف میں’’کشمیری نعت گوئی کی تاریخ ‘‘عنوان کے تحت لکھا ہے کہ اُنہوں نے(شیخ العالم ؒ) اپنی شاعری میں رسول اللہؐ کی تعریف کی ہے ،اُن کاا خلاص اور اُن کے ساتھ بے پناہ عقیدت کا اظہار کیا ہے ،اُن کی یہ عقیدت کبھی فریاد کبھی معرفت اور کبھی ’درود‘ بن کر اُن کے منہ سے نکلتی ہے ‘‘۔علاو ازیں حضرت شیخ نے راہبانہ زندگی گزارنے پر شدید قسم کی چوٹ کی ہے ۔ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’جنگلوں و غاروں میں سکونت کرنا بندروں اور چوہوں کا کام ہے ۔صرف ایسے ہی نیکو کاروں کو خاص رتبہ عطا کیا جاتا ہے جو زندگی گزارتے ہوئے اپنے اہل عیال کے ساتھ رہ کر پانچ نمازوں کو قائم رکھیں گے اور اُن سے تصفیہ قلب حاصل کریں گے ۔‘‘(صفحہ 47)اس کے بعد’’ کشمیر میں اسلامی تشخص کا معمار ‘‘عنوان کے تحت حضرت سلطان العارفین ؒکی زندگی کو چوتھے نمبر پر پیش کیا ہے ۔انہیں لوگ کشمیر میں مخدوم صاحب ؒ کے نام سے بھی جانتے ہیں ۔ان کی زندگی علمی زندگی تھی اور لوگوں کے ساتھ ملنا جُلنا ،اُن کو دعوت دین دینا ان کی زندگی کا اہم ترین مشغلہ تھا ،ایک جگہ مخدوم صاحب کی خودی کے متعلق صفحہ نمبر 60پر کچھ اس طرح سے رقم کیا گیا ہے کہ ’’جب مخدوم صاحب کے پاس روئسا ،امراء اور حکام آتے تھے تو آپ کسی کے لئے کھڑا ہونا تو درکنار معمولی سا اظہار تو قیر و تعظیم کرنا گوارہ نہیں فرماتے ۔نہ کلام میں اور نہ طعام میں کسی قسم کا تکلف برتنے اور رخصت کرنے میں عجلت سے کام لیتے ۔‘‘آخر پر داعی اسلام حضرت بابا نصیب الدین غازیؒ کی زندگی کے چند اہم گوشوں کو اجمالی طور پیش کیا ہے ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’ حضرت بابا نصیب الدینؒکی ساری زندگی ایک حقیقی داعی اسلام ،مجاہد اسلام ،مبلغ ،واعظ مفتی ،صوفی باصفا ،عالم با عمل اور معنوی مرشد ،راہ شریعت و معرفت کی زندگی تھی ۔جہاد فی الاسلام کے ہر پہلو اور ہر عنوان کے مطابق اپنا فریضہ انجام دیا۔‘‘(صفحہ 75)
یہ تھے ہمارے بزرگان ِ دین اور اسلاف جن،ہوں نے اللہ کی توحید کو ہر لمحہ بُلند کر کے ہی رکھا اور دعوت دین کو حرزِ جاں بنا یا۔لیکن افسوس !ہم میں سے کچھ کم ظرف لوگوں نے ان کی قبروں کو سجدہ گاہ اور عبادت گاہ بنا دیا ہے ۔کیساکھلا تضاد ہے کہ جو توحید کی الم کو بُلند کر کے اس دنیا سے چلے گئے اور اب اُن کے ماننے والے اُن کے ہی اس مشن کے خلاف شرک و بدعات میں پڑ گئے ہیں اور عام لوگوں کو بھی اسی شرک اور قبر پرستی کی گہری کھائی میں ڈال رہے ہیں۔بایں ہم کتاب کو بزرگوں کی محبت میںمرتب کیا گیا ہے وہیں اس میں چند خامیوں کی نشاندہی کرنا چاہوں گا تا کہ اگلے ایڈیشن میں وہ دور ہو سکیں ۔چوں کہ یہ کتاب طلبہ کے لئے لکھی گئی ہے لیکن اس میں چند مشکل الفاظ کو استعمال میں لایا گیا ہے جن کو سمجھنے میں طلبہ حضرات کو مشکل ہو سکتی ،ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مشکل الفاظ کو حاشیہ پر آسان طریقے سے سمجھایا بھی جا سکتا ہے ۔کتاب کی قیمت کو طلبہ کے مطابق تھوڑا کم ہونا چاہیے تھا تاکہ ہر کسی کی دسترس میں اس کا خریدنا ہو جاتا ۔اسی طرح سے صاحب مرتب کی زندگی کے متعلق مختصر سا تعارف بھی اس کتاب میں ہونا چاہئے تھا وہیں ان پانچ اولیائے کشمیر کے ناموں کے ساتھ القاب ،اور تخلص وغیرہ کی وجوہات کو بھی بیان کیا جانا چاہئے تھاجس کی کمی محسوس ہوئی ۔ان چند معمولی خامیوں کے باوجود کتاب انتہائی دیدہ زیب اور املا کی غلطیوں سے پاک ہے ۔وہیں ڈئزاینگ بھی انتہائی خوبصورت اور پُر کشش ہے میں اس کتاب کی اشاعت کے حوالے سے ’’سنڈیکیٹ میڈیا ‘‘کو مبارک باد دینا چاہوں گا کہ انہوں نے یہ اہم کام انجام دے کے نوجوان نسل تک اپنے اولیائے کشمیر کے متعلق جاننے اور اور اُن کی تعلیمات کو سمجھنے کا ایک موقعہ عنایت فرمایا ہے ۔’’کتاب سنڈیکیٹ میڈیا ‘‘کے علاوہ سرینگر میں کسی بھی اسلامی بُک سنٹر پر دستیاب ہے ۔
(رابطہ۔ 9906664012)