نوکوالوفا//نیوزی لینڈ کے قریب واقعے ملک ٹونگا میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے سے صورتحال تشویش ناک ہوگئی اور ٹونگا کی حکومت نے عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔ یاد رہے کہ ہفتے کے روز بحرالکاہل کے ملک ٹونگا میں سونامی کو فلپائن کے 1991کے سونامی کے بعد بدترین سونامی قرار دیا جارہا ہے۔ٹونگا میں سونامی سے ایک خاتون کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ خاتون کا تعلق برطانیہ سے ہے۔سمندرکے اندرا?تش فشاں پھٹنے اورسونامی کے بعد سے ٹونگا کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔ٹونگا کے پڑوسی ملک نیوزی لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ گہرے دھوئیں اورراکھ کے بادل کے باعث ٹونگا کے ائیرپورٹ پرامدادی پروازوں کا اترنا ممکن نہیں۔حکام کے مطابق بحری جہازوں کے ذریعے بھی امداد کی فراہمی آئندہ کچھ روز تک ہونے کا امکان نہیں۔ہفتے کو ٹونگا میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے سے خوفناک آوازیں پیدا ہوئیں جو 800 کلومیٹر دور فجی میں بھی سنی گئیں۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویرمیں 5کلومیٹر چوڑا راکھ، بھاپ اور گیس کا شعلہ 20کلومیٹر تک بڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ساحل کے قریب رہائشی علاقوں میں بڑی لہروں کوگھروں عمارتوں کو لپیٹ میں لیتے اورلوگوں کو اونچے ٹیلوں کی جانب بھاگتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔