سرنکوٹ//سرنکوٹ میں ٹریول ایجنٹوں کی من مانیوںسے مسافروں کو شدید ذہنی کوفت ہوتی ہے اور ان کا قیمتی وقت ضائع ہوتاہے ۔سرنکوٹ بس اڈہ پر مندر گلی کے نزدیک والے سومو سٹینڈ پر کئی کئی گھنٹوں مسافروں کو شدید گرمی میں گاڑیوں میںبٹھاکر رکھاجاتاہے اور اس پر طرہ امتیاز یہ ہے کہ جب تین تین گھنٹے گزرنے کے بعد گاڑی سواریوںسے بھر نہیں جاتی تو پہلے بیٹھی سواریوںسے اٹھ کر چلے جانے اور اپنا انتظام خود کرنے کاکہاجاتاہے ۔جمعرات کو سرینگر جانے والے پانچ افراد کو اسی طرح سے پریشان کیاگیا جنہوںنے پھر تین گھنٹوں بعد دوسرے سومو سٹینڈ پر جاکر گاڑی پکڑی اور وہ شام دیرگئے سرینگر پہنچنے۔ایک مسافر نے بتایاکہ وہ صبح ساڑھے نو بجے بس اڈہ پر پہنچاجہاںسے گاڑی کے ڈرائیور اور ساجد نامی ایجنٹ نے اسے اپنے ساتھ گاڑی میںلیا اور یہ بتایاکہ اس کی چار سواریاں گورسائی سے آرہی ہیں جن کے پہنچتے ہی وہ سرینگر روانہ ہوجائے گا ۔انہوںنے بتایاکہ کرتے کرتے گاڑی میں مزید چار افراد کوبھی اسی طرح سے بٹھایاگیا اور جب بھی ان سے گورسائی والی سواریوںکے بارے میں دریافت کیاجائے تو ان کا جواب ہوتاتھاکہ دس منٹ میں وہ اڈے پر پہنچ رہی ہیں ۔ انہوںنے مزید بتایاکہ جب ڈیڑھ گھنٹہ بیت گیا تو گاڑی کا ڈرائیور اور ایجنٹ وہاںسے غائب ہوگئے اور پھر وہ اس انتظار میں رہے کہ مزید سواریاں آئیں اور وہ گاڑی میں داخل ہوں۔انہوںنے بتایاکہ دن کے ساڑھے بار ہ بج گئے لیکن گورسائی سے کوئی سواری نہ آئی اورتین گھنٹے برباد کرنے کے بعد ان سے رہانہیں گیا اور انہوںنے ڈرائیور اور ایجنٹ کو ڈھونڈ کر ان سے وضاحت کی اور غم وغصہ کا اظہار کیاجس پر انہوںنے جواباًکہاکہ انہیں انہوںنے بیٹھنے کیلئے نہیں کہا لہٰذا وہ گاڑی سے چلے جائیں اور اپنا انتظام خود کرلیں ۔دیگر چار مسافروں نے بھی یہی کہانی بتائی ۔ انہوںنے بتایاکہ اس کے بعد وہ وہاںسے دوسرے سٹینڈ پر پہنچے جہاں سے ایک گاڑی میں بیٹھ کر دن کے ایک بجے روانہ ہوئے ۔مسافروں نے الزام لگایاکہ ایجنٹ نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور گورسائی کی سواریوں کا بہانہ بناکر انہیں اس لئے بٹھایاگیاتاکہ اسے مزید سواریاں بھی مل جائیں اور پہلے والی سواریاںدوسرے اسٹینڈ کارخ نہ کریں ۔ایک مسافر نے بتایاکہ اسے اس سے قبل بھی انہیںاسی اسٹینڈ سے ایک بار ایسا ہی تجربہ ملا لیکن وہ چار سواریوں کا سن کر گاڑی میں یہ سوچ کر بیٹھ گیا کہ شائد یہ گاڑی سب سے پہلے نکلے ۔مسافروں کاکہناہے کہ سرنکوٹ میں کوئی نظام بنایاجائے اور اس طرح سے لوگوں کو پریشان نہ کیاجائے ۔اس سلسلے میں جب ایس ڈی پی او سرنکوٹ سے بات ہوئی تو انہوںنے بتایاکہ ان کے پاس دن کو یہ شکایت آئی تھی جس پرفوری طور پر ایجنٹوں کوفون کرکے انہیں ہدایت دی کہ سواریوں کو دوسری گاڑی میں بٹھاکر روانہ کیاجائے اور ایسا ہی کیابھی گیا۔ انہوںنے بتایاکہ شام کے وقت انہوںنے ایجنٹوںسے میٹنگ کرکے انہیںسختی سے ہدایت دی کہ وہ آج کے بعد ایک ہی وقت میں ایک سے زائد گاڑیوں پر سواریاں نہ بھریں بلکہ دوسری گاڑی پر سواریوں کوتب بٹھایاجائے جب پہلے والی گاڑی روانہ ہو جائے ۔انہوںنے کہاکہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔