ٹریفک پابندیاں باغبانی شعبے کیخلاف منصوبہ بند سازش

سرینگر//سابق وزیر خزانہ سید الطاف بخاری نے وادی کی معیشت کے اصل منبع بالخصوص باغبانی شعبے کو منصوبہ بند سازش کے تحت ختم کرنے کا اندیشہ ظاہر کیا،جبکہ یہ شعبہ ہی مشکل اوقات میں ریاست کی معیشت کو اعتدال میں رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا’’سرینگر جموں شاہراہ کی خستہ حالی کے ساتھ ساتھ کشمیر کو بیرون دنیا سے ملانے والے واحد زمینی رابطے پر شہری ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی،کشمیری عوام کو اجتماعی طور ہر سزا دینے کے منصوبے کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کے سست رویہ سے اب شاہراہ بند ہونے کا عمل روز کا معمول بن چکا ہے۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا’’ موسم سرما کے دوران لوگوں کو شاہراہ کی حالت کے نتیجے میں لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،بالخصوص بانہال،رام بن،ناشتری،بٹوت امر چشمہ اور پٹنی ٹاپ کے مقامات پر نیشنل ہائے وائے اتھارٹی آف انڈیا شاہراہ کی تجدید اور اس کی توسیع کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کو تمام موسموں میں ملک کی دیگر ریاستوں سے جوڑنے کیلئے ٹھوس اور مستقل اقدامات کی تلاش کیلئے کوششیں نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا’’ اس کے نتیجے میں نہ صرف مسافر بلکہ میوہ،سبزی اور لائیو اسٹاک سے بھری گاڑیاں کافی عرصے کیلئے درماندہ ہوتی ہے،جس سے نہ صرف لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،بلکہ ریاست کی معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت نے وادی میں’’ کولڈ چین اسٹور‘‘ کو فروغ دے رہی ہے،اور دوسری طرف شاہراہ پر شہری گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی جا رہی ہے،جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر اسٹوریج مراکز سے میوہ جات گاڑیوں کی نقل و حمل میں رخنہ پڑ گیا۔سابق وزیر خزانہ نے کہا’’ میوہ جلد خراب ہوتا ہے،اور اس کی زندگی بھی کم ہوتی ہے،جبکہ میوہ تاجروں کو معقول موسم کے دوران ملک کے دیگر حصوں کے بازاروں میں یہ میوہ روانہ کرنے تک کافی رقومات صرف کرنے پڑتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ریفریجرٹیڈ گاڑیوں کو شاہراہ پر ان کی جسامت،جبکہ بنیادی طور پر سڑک کی خستہ حالت کو لیکرچلنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ سید الطاف بخاری نے کہا’’اس طرح کی گاڑیوں کی عدم دستیابی سے میوہ کاشتکاروں اور تاجروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،جو بیرون ریاستوں کے بازاروں میں اپنا مال روانہ کرنے میں اپنے وقت اور کرایہ کا بچانا چاہتے ہیں۔‘‘ بخاری نے کہا کہ اس طرح کے مشکل حالات میں جب مال بردار گاڑیوں کی بلا خلل نقل و حمل کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے،ایسا نظر آرہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ کاشتکار اور میوہ تاجروں کو اپنی پیداوار کی معقول حق ادائی نہ ہو،کیونکہ انکے مسائل کا ازالہ ہی نہیںکیا جاتا۔سید الطاف بخاری نے کہا کہ گزشتہ کچھ دہایوں سے میوہ صنعت کو شورش کے دوران کافی نقصان ہوا،اور حکام کے رویہ سے ایسا نظر آرہا ہے کہ وہ اس صنعت کو مکمل طور پر تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا’’ وادی میںباغبانی شعبے پر بلواسطہ یا بلا واسطہ70فیصد آبادی براہ راست روزگار منحصر ہے،جبکہ یہ صنعت سالانہ8ہزار کروڑ روپے کے قریب رقوامات کا کاروبار کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کی پالسیوں میں اس شعبے پر بنیادی طور پر توجہ مرکوز ہونی چاہے،تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہے۔ سابق ریاستی وزیر نے امید ظاہر کی کہ اس شعبے کی ریاستی معیشت میں اہم کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے سرکار اقدامات اٹھائے گی۔