سرینگر //صدر اسپتال ، سپر سپیشلٹی اسپتال، بون اینڈ جوائنٹ برزلہ اور دیگر ٹریشری کیئر اسپتالوں میں کورونا مخالف ایس او پیز پر کوئی عمل نہیں ہورہا ہے۔جی ایم سی سرینگر کے تحت کام کرنے والے اسپتالوں میں ٹکٹ کونٹروں کی کمی اور او پی ڈی میں مریضوں کیلئے سہولیات کے فقدان کی وجہ سے بھاری بھیڑ جمع ہورہی ہے۔ 20جولائی کو گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر سے منسلک اسپتالوں صدر اسپتال، سپر سپیشلٹی، بون اینڈ جوائنٹ برزلہ اور دیگر اسپتالوں میں معمول کا کام کاج شروع کردیا گیا لیکن کسی بھی اسپتال میں کورونا وائرس کیلئے وضع کئے گئے قوائد و ضوابط پر عمل نہیں ہورہا ہے جو کورونا وائرس کی تیسری لہر کا سبب بن سکتا ہے۔ صدر اسپتال میں ٹکٹ کونٹرپر افرادی قوت کی کمی اور او پی ڈی میں مریضوں کیلئے سہولیات کے فقدان کی وجہ سے بھیڑ جمع ہورہی ہے۔ گرمی میں بھیڑ کی وجہ سے وائرس پھیلنے کا زیادہ امکان ہے لیکن اسپتال کافی دیر تک بند رہنے کی وجہ سے مریض مجبور ہے۔مریض اور نہ ہی تیماردار ماسک لگا رہے ہیں اور نہ سماجی دوری کا اہتمام کررہے ہیں لیکن اس کے بائوجود بھی انتظامیہ خاموش بیٹھی ہے ‘‘۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے ترجمان ڈاکٹر محمد سلیم خان نے بتایا ’’ایس او پیز پر عمل کرانا میڈیکل سپر انٹنڈنٹوں کا کام ہے لیکن اسوقت مریضوں کی کافی تعداد علاج و معالجہ کیلئے آرہی ہے۔ ڈاکٹر سلیم خان نے کہا ’’صدر اسپتال سرینگر میں روزانہ 2500نئے مریضوں کا اندراج ہورہا ہے جبکہ دوسری بار طبی تشخیص کیلئے آنے والے مریضوں کی تعداد اس سے دوگنی ہوتی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ صدر اسپتال میں اسوقت روزانہ ایک ہزار لوگ موجود ہوتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی نہ تو ماسک لگاتا ہے اور نہ ہی سماجی دوری کا اہتمام کرتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ سماجی دوری اور ماسک پہننے پر لوگوں کو مجبور کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں 4ٹکٹ کونٹر موجود ہیں لیکن اس کے بائوجود بھی بھیڑ جمع ہورہی ہے ۔ ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ اسپتال کی سیکورٹی میں بھی اتنا عملہ تعینات نہیں ہے جو ایس او پیز پر عمل کرائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف شعبہ میڈیسن میں 800کے قریب مریض روزانہ آرہے ہیں اور ایسی صورتحال میں ایس او پیز پر عمل کرانا مشکل ہے۔