نیویارک //امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ریاستوں میں پابندیاں اٹھانے اور معمولاتِ زندگی بحال کرنے سے متعلق تین مراحل پر مشتمل گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔وائٹ ہاوس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بعض ریاستوں میں معلوماتِ زندگی فوری طور پر بحال ہو جائیں۔صدر ٹرمپ کو رواں برس صدارتی انتخاب کا چیلنج بھی درپیش ہے اور وہ لاک ڈاون کے خاتمے اور معیشت کا پہیہ چلانے کے خواہش مند ہیں۔ تاہم متعدد رہنماوں کو خدشہ ہے کہ اگر پابندیوں میں نرمی کی گئی تو کرونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔امریکہ کی مختلف ریاستوں میں کرونا وائرس کا پھیلاو روکنے کے لیے گھروں میں قیام، اجتماع پر پابندی، اسکولوں کی بندش سمیت دیگر پابندیاں نافذ ہیں۔ پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ تازہ ترین اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر اْن کی ماہرین کی ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں اب دوسرا قدم اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ملک کو کھولنے جا رہے ہیں۔"اْن کے بقول ملک میں بڑے پیمانے پر یہ رائے پائی جاتی ہے کہ ملک کو کھول دیا جائے۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ملک کو کھولنے کا کئی مرتبہ بیان دے چکے ہیں۔ ایسٹر سے قبل بھی انہوں نے کہا تھا کہ پورے ملک کو 12 اپریل تک کھول دیا جائے گا۔ریاستوں میں معمولاتِ زندگی بحال کرنے سے متعلق وائٹ ہاوس کی گائیڈ لائنز کے تین مراحل ہیں جس کے تحت منصوبے پر عمل کرنے سے پہلے ریاستی گورنروں کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ کرونا وائرس سے ہلاکتوں اور نئے کیسز میں کمی آ رہی ہے۔نئے کیسز اور ہلاکتوں کا گراف نیچے آنے کی صورت میں 14 روز کے بعد ریاستی گورنرز کاروباری سرگرمیوں پر عائد پابندیاں مرحلہ وار اٹھائیں گے۔