اس سلسلے میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دنیا والوں کے سلام اور ان کی دعائے رحمت پہنچا دیتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فرحت کے موجب ہیں،اور اسی طرح وہ مجرموں کو دنیا والوں کی لعنت اور پھٹکار اور زجر و توبیخ سے مطلع فرما دیتا ہے جیسے جنگ بدر میں مارے جانے والے کفار کو ایک حدیث کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توبیخ سنوا دی گئی،کیونکہ یہ ان کے لیے اذیت کی موجب ہے۔لیکن کوئی ایسی بات جو صالحین کے لیے رنج کی موجب،یا مجرمین کے لیے فرحت کی موجب ہو ،وہ ان تک نہیں پہنچائی جاتی۔اس تشریح سے سماع موتیٰ کے مسئلے کی حقیقت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔(تفہیم القرآن)
جو خود انسان کی طرح محتاج اور عاجز ہوں اور کسی بھی کام کا اختیار نہ رکھتے ہوں، انہیں پُکارنا کہاں کی عقلمندی ہے؟نادانی میں جو لوگ اس سنگین گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں دیکھو اللہ تعالیٰ انہیں کس طرح چیلنج دے کر غوروفکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
’’بیشک تم جن کو اللہ کے ماسوا پکارتے ہو وہ تو تمہارے ہی جیسے بندے ہیں پس ان کو پکارو اور انھیں چاہیے کہ وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔‘‘ (الاعراف:194)
مذکورہ بالا آیت کے چند آیات بعد ہی ایک آیتِ پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں انسان کے سامنے ان تمام مصنوعی بتوں کے نقائص کو مُبَرہن کر کے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے:’’اور جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو نہ وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں‘‘۔(الاعراف:197)
غیر اللہ کو پُکارنے سے انسان کو دوہرا نقصان ہوتا ہے ایک یہ کہ زندگی بھر اس کی دعاؤں کو استجابت ہی نہیں ملتی ہے اور دوسرا یہ کہ اس فعلِ بد کے ذریعے سے اس کا شمار ظالموں میں ہوتا ہے۔نبی اکرمﷺ سے مخاطب ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کو اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کر دیا ہے:
’’اور نہ پکار اللہ تعالیٰ کے سواء کسی ایسی ہستی کو جو نہ تجھے نفع دے سکے اور نہ نقصان پہنچا سکے۔ اگر تو ایسا کرے گا تو پھر تیرا شمار ظالموں میں سے ہوگا‘‘۔(یونس:106)
حاجت روائی،مشکل کشائی اور کار سازی کے سارے اختیارات خدا ہی کے ہاتھ میں ہے،اس لئے صرف اور صرف اس سے دعائیں مانگنا برحق ہے۔وہ لوگ جو خدا کو چھوڑ کر کہیں اور پر اپنی دعاوئوں کو لے کر حاضری دیتے ہیں ان کی دعائیں بے نتیجہ بھٹک رہی ہیں اور وہ ایک تیرِ بے ہدف کے مانند ہوتے ہیں۔ارشاد ربانی ہے:
’’اُسی کو پکارنا برحق ہے۔رہیں وہ دُوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں،وہ اُن کی دعاوئوں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔اُنہیں پُکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تُو میرے منہ تک پہنچ جا،حالانکہ پانی اُس تک پہنچے والا نہیں۔بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرِ بے ہدف‘‘(الرعد:14)
آیات مذکورہ سے یہ ظاہر ہوا کہ خدا کے مقابلہ میں سب ہیچ اور بے بس ہیں۔کوئی کسی کی مدد اور تکلیف کو دور نہیں کر سکتا،صرف اور صرف اللہ ہی ہے جو سب کی مدد کرتا ہے،لہٰذا ہر حالت میں اللہ ہی کو پُکاریںاور اسی سے دُعا کریں اور اس پُکار میں دوسرے کو شریک نہ کریں۔چونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پُکارنا شرک ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بہت سی جگہوں پر دعا کے ساتھ لفظ ’’مَعَ اللہ‘‘ لاکر اپنے سوا تمام درباروں کو ٹھکرانے کی ہمیں دعوت دے دی ہے۔اس حوالے سے سطورِ ذیل میں چند آیات پیش کی جاتی ہیں:
’’اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور اِلٰہ کو پکارے گا جس کے حق میں اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے اور کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے‘‘۔(الم منون:117)’’اور اللہ کے سوا کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو۔اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے۔ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے۔فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔‘‘(القصص:88)’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو‘‘۔(الجن:18)
اللہ کے ساتھ کسی اور کو پُکارنے کا معاملہ اتنا سنجید ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی اس سے باخبر کیا گیا کہ اگر آپ بھی اس سنگین گناہ کے مرتکب ہونگے تو فوراً اللہ کی پکڑ میں آجائیں
گے۔اس معاملے میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رعایت نہ دے دی گئی تو کسی اور کی کیا مجال کہ وہ شرک کرنے کے بعد بھی یہ امید رکھے کہ وہ خود بچ نکلے گا یا کسی کے بچانے سے بچ جائے گا۔جن لوگوں کے ذہنوں میں اس طرح کا خیال اور تصور بیٹھا ہوا ہے وہ ایک بہت ہی بڑے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔قرآنِ پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی برحقؐ سے اس طرح مخاطب ہیں:’’پس اے پیغمبر! اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو مت پکارو ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے‘‘۔اس آیتِ پاک کے ذیل میں مولانا ڈاکٹر محمد اسلم صدیقیؒ نے ایک مختصر اور جامع نوٹ لکھا ہے جو کہ اپنے اندر ایک بڑے ہی علمی خزانے کو لئے ہوئے ہیں۔لکھتے ہیںخطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے،عتاب مخالفین پر یہ اور آگے کی چند آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں۔قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ بعض دفعہ کسی برائی کی شناعت کو نمایاں کرنے کے لیے اپنے پیغمبر کو اس برائی سے روکتا ہے اور ارتکاب کی صورت میں عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ معاذاللہ آنحضرتؐ سے اس برائی کے ارتکاب کا اندیشہ ہوگیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھمکا کر اسے روکا گیا۔ بلکہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ یہ برائی اور یہ جرم اللہ تعالیٰ کے یہاں اس قدر قابل نفرت اور شدید عذاب کا مستحق ہے کہ اگر پیغمبر بھی اس کا ارتکاب کرے جس کا کوئی امکان نہیں تو وہ بھی سزا سے نہ بچ سکے۔اس لیے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے یعنی کسی اور کو معبود بنانے سے روکنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب فرمایا گیا۔لیکن اس میں روئے سخن قوم ہی کی طرف ہے۔لیکن آپ ﷺ سے خطاب کا مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض آپ ؐ بھی بندگی کی راہ سے بال برابر ہٹ جائیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو معبود کی حیثیت سے پکارنے لگیں تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔چہ جائیکہ کوئی اور شخص اس جرم کا ارتکاب کرے اور پھر وہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت نہیں آئے گی تو اسے اپنے دماغ کا علاج کرنا چاہیے۔
mail:[email protected]