وٹامن بی‘‘ توانائی کیلئے انتہائی اہم” | خون اور اعصابی خلیات صحت مند رہتے ہیں فکر ِ صحت

نداسکینہ صدیقی

وٹامن بی کی 8 مختلف اقسام ہیں ،جوتائی مائن (بی 1)، ویبو فلیووین (بی 2)، نیاسین (بی 3)، فینٹوتینک ایسڈ (بی 5)، پرآئیڈکسین (بی 6)، بائیوٹین (بی 7)، فولیٹ (بی 9) اور کوبالامن (بی 12) ہیں ان سب کو’’ بی کمپلیکس وٹامنز ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں بی 12 واحد ہے جو ہمارے جسم میں طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ باقی بی وٹامنز کا حصول غذا یا سپلیمنٹ سے ممکن ہوتا ہے۔
بی کمپلیکس سپلیمنٹ عام طور پر اس وقت تک فائدہ نہیں دیتےجب تک ان وٹامنز کی کمی جسم میں نہ ہوئے۔ وٹامن بی کی تمام قسمیں ہمارے جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں، انہیں اعصابی نظام کی معاونت، جلد، خلیات، خون بنانے، میٹابولزم اور توانائی وغیرہ کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ وٹامن بی 12ایک اہم غذائی اجزاء ہے جو جسم کو آپ کے اعصابی خلیات اور خون کے خلیات کو صحت مند رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
یہ آپ کے جسم کو ڈی این اے بنانے میں بھی مدد کرتا ہے، جو تمام خلیوں میں جینیاتی مواد اکٹھا کرتا ہے۔ جسم اپنے طور پر یہ وٹامن نہیں بناتا ہے، لہٰذا آپ کو ایسے کھانے اور مشروبات کا استعمال کرنا پڑتا ہے جن میں وٹامنز موجود ہوتے ہیں، اسے صحت کی بہتری کے لیے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ہمارے جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی اُس وقت ہوتی ہے جب آپ اپنی غذا میں اس کا صحیح استعمال نہیں کررہے ہو تےیا آپ کا جسم اسے جذب نہیں کرپارہاہو ۔ اس کی کمی جسمانی، اعصابی اور نفسیاتی علامات کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کا علاج ادویات سے بھی کیا جاسکتا ہے۔
علامات : اس کی کمی جسمانی، اعصابی اور نفسیاتی علامات کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کی کمی کی علامات آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ خراب بھی ہوسکتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں اس کی کم سطح ہونے کے باوجود کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتی۔ اس کی کمی والے افراد میں اعصابی علامات یا خون کی کمی کا نقصان ہوسکتا ہے۔
٭ تھکاوٹ یا کمزوری محسوس کرنا٭متلی، قے یا اسہال کا سامنا کرنا٭بھوک نہ لگنا٭ وزن میں کمی٭منہ یا زبان میں درد ہونا٭جلد کا زرد ہونا ٭ ہاتھوں اور پیروں میں جھنجھناہٹ ہونا٭ بینائی کمزور ہونا٭ یادداشت کمزورہونا٭ چلنے میں مشکل ہونا ٭افسردہ محسوس کرنا٭چڑچڑا پن محسوس ہونا۔
کلیجی : کلیجی میں وٹامن بی کی مختلف اقسام کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن بی 2، بی 5 اور بی 3 ہوتا ہے جب کہ فولیٹ، بی 6 اور بی 12 کو حاصل کرنا بھی ممکن ہوتا ہے۔ یہ غذا خون کی کمی کے شکار افراد کو اس مسئلے سے نجات دلانے کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔
انڈے : انڈے میں وٹامنز بی وافرمقدار میں ہوتا ہے خاص طور پر بایوٹین (بی 7) زیادہ ہوتا ہے۔ یہ انڈے کی زردی اور سفیدی دونوں میں پایا جاتا ہے۔ بائیوٹین بالوں، ناخنوں کی صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے جب کہ ڈپریشن اور ذہنی مسائل سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ اس وٹامن کے حصول کے لیے انڈوں کو اچھی طرح پکا کر کھانا چاہیے ،کیوں کہ انڈے کی کچی سفیدی میں ایک ایسا پروٹین ہوتا ہے جو جسم کو بائیوٹین جذب کرنے سے روکتا ہے۔
مچھلی : چربی والی مچھلی میں بی وٹامنز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ مچھلی میں بی 3، بی 12 اور بی 6 کے ساتھ ساتھ وٹامن بی 2، بی 1 اور بی 5 بھی ہوتے ہیں۔
بیف: اس میں وٹامن بی 3 کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔علاوہ ازیں 8 میں سے 6 وٹامنز بی پائے جاتے ہیں جو کہ اعصابی نظام اور جلد کو اچھی ساخت برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ بی 1، بی 2 اور بی 6 بھی اس گوشت سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
دودھ : اس میں وٹامن بی 2ہوتا ہے جو غذا سے حاصل ہونے والے توانائی کو جسم میں اخراج میں مدد دیتا ہے۔اس کے علاوہ دودھ سے جسم کو بی 12، بی 1 اور بی 5 بھی ملتا ہے۔
دالیں : دالوں سے جسم کو وٹامن بی 9 یا فولیٹ ملتا ہے جو خون کے صحت مند سرخ خلیات کے بننے میں مدد دیتا ہے۔ کالے اورسفید چنے وغیرہ اس اہم وٹامن کے حصول کا اچھا ذریع ہیں۔
سبز پتوں والی سبزیاں : سبز پتوں والی سبزیوں کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں ،یہ فولیٹ کے حصول میں مدد دیتی ہیں اور یہ خون کی کمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سورج مکھی کے بیج :سورج مکھی کے بیج وٹامن بی 5 سے بھرپور ہوتے ہیں، اگرچہ یہ وٹامن اکثر نباتاتی اور حیوانی غذاؤں میں ہوتا ہے، مگر وہ مقدار بہت کم ہوتی ہے اور اکثر پکانے میں ضائع ہوجاتی ہے۔ اس لیے سورج مکھی کے بیج اس حوالے سے فائدہ مند ہوتے ہیں۔دریں اثنادنیا بھر میںعام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ دودھ یا اس سے بنی چیزیں ہڈیوں کی مضبوطی کا سب سے آسان ذریعہ ہیں لیکن کئی دیگر چیزیں کھا کر بھی انسان اسی طرح کے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔اکثر لوگ ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے صرف دودھ کا استعمال کر کے بور ہو جاتے ہیں لیکن سبزیوں سمیت دیگر چیزوں کو کھا کر بھی ہڈیوں کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور اس طرح انسان کئی الگ الگ ذائقوں سے لطف اندوز بھی ہوسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق مضبوط ہڈیوں کے لیے انسان کے لیے اس دنیا میں کئی رنگین اور الگ الگ ذائقہ رکھنے والی چیزیں موجود ہیں۔گاجر اور پالک کے ایک گلاس جوس سے ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے سفر کا آغاز کیاجا سکتا ہے۔ یہ جوس آپ کے لیے صرف وٹامنز سے بھرا نہیں بلکہ اس میں کیلشیئم کی بھی بھرپور تعداد موجود ہوتی ہے۔دالوں اور چھولے کے ذریعے بھی ہڈیوں کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ ان کو پکا کر یا سلاد کے طور پر بھی استعمال کر کے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ہری سبزیاں جیسے کہ پالک، بروکولی اور بھنڈی بھی کیلشیئم سے بھرپور ہوتی ہیں۔