نیویارک //امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں تمام پیش گوئیوں کے برعکس ڈیموکریٹس نے اگلے دو سال کے لیے سینیٹ میں برتری برقرار رکھی ہے۔ سینیٹ میں 50-50 نشستوں کی ٹائی کی صورت میں نائب صدر کمالا ہیرس کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوا جس کی بدولت ڈیموکریٹ جماعت نے برتری حاصل کرلی، 6 دسمبر کو ریپبلکن کے امیدوار ہرشل واکر کا مقابلہ ڈیموکریٹ کے امیدوار رافیل وارنوک سے ہوگا جس کے بعد ممکن ہے کہ ڈیموکریٹس کو ایک نشست کے اضافے کے بعد 51نشستیں ہوجائیں گی۔تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق امریکی ذرائع ابلاغ فاکس نیوز سمیت متعدد نیوز چینلز کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست نیواڈا میں ڈیموکریٹس کی امیدوار کیتھرین کورٹیز نے سینیٹ میں کامیابی حاصل کی جبکہ ایزیزونا میں ڈیموکریٹ امیدوار مارک کیلی نے فتح حاصل کی۔ایریزونا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ ہوا، ڈیموکریٹ مارک کیلی نے 11 لاکھ 86 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں جبکہ ان کے مدمقابل ریپبلکن کے بلیک ماسٹر نے 10 لاکھ 55 ہزار ووٹ حاصل کیے، دوسری جانب ڈیموکریٹ کی کیتھرین کورٹیز4 لاکھ 87 ہزار 829 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں جبکہ ان کے مدمقابل ریپبلکن کے ایڈم لکسٹ کو 4 لاکھ 81 ہزار 273 ووٹ ملے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد اس ہفتے امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی بالادستی کی خبروں نے ریپبلکن پارٹی میں بے چینی پیدا کر دی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق، سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ناقدین نے انہیں خراب کارکردگی کا ذمہ دار ٹھہرایا، جب کہ دیگر ریپبلکن اپنے سینیٹ کے رہنما مچ میک کونل کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ دریں اثنا، وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اپنا سب سے مضبوط اشارہ دیا ہے کہ صدر جو بائیڈن دوبارہ انتخاب کی کوشش کریں گے ۔ریپبلکن اب بھی کانگریس کے ایوان زیریں جیتنے کے لیے پرامید ہیں، جو صدر بائیڈن کے منصوبوں کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے ، لیکن ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی ان کے امکانات معدوم ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے کے آخر میں، امریکی نیٹ ورکس نے اندازہ لگایا ہے کہ ڈیموکریٹکس نے ایریزونا اور نیواڈا میں دو سینیٹ کی نشستوں پر قبضہ کر لیااور ایوان بالا کا کنٹرول برقرار رکھا۔ میری لینڈ کے ریپبلکن گورنر لیری ہوگن نے سی این این کو بتایا، “یہ مسلسل تیسرا الیکشن ہے جس کی قیمت ٹرمپ کو چکانی پڑی ہے ۔ نامہ نگار انتھونی زورچر نے کہا کہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا ٹرمپ کے اتحادی آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو کنٹرول کرنے والی پارٹی عام طور پر وسط مدتی انتخابات میں نشستیں کھو دیتی ہے ، اور اس سال ڈیموکریٹس کی کارکردگی کم از کم 20 سال میں کسی بھی برسراقتدار پارٹی کے لیے سب سے بہتر سمجھی جارہی ہے ۔وائٹ ہاؤس کی سینئر ایڈوائزر انیتا ڈن نے بتایا کہ ‘ڈیموکریٹ کا سینیٹ میں کنٹرول عدلیہ، نامزدگیوں اور تقرریوں کے لیے نتیجہ خیز ہے ، ڈیموکریٹ کی جیت امریکی سینیٹ میں ایجنڈے کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی بہتر ثابت ہوئی۔خیال رہے کہ صدر کے پاس نامزدگیوں اور تقرریوں کے اختیارات ہوتے ہیں لیکن سینیٹ کے پاس بھی کسی امیدوار کو قبول کرنے اور مسترد کرنے کا اختیار ہوتا ہے ۔