سرینگر //نیشنل ہیلتھ میشن کے تحت وادی کے شہری اور دور افتادہ علاقوں میں قائم اسپتالوں اور دیگر طبی مراکز میں کام کرنے والے ملازمین نے بدھ کو تمام سرکاری اسپتالوں میں 72گھنٹوں کی کام چھوڑ ہڑتال شروع کردی ہے جس کے نتیجے میں وادی میں کئی طبی اداروں کا کام کاج متاثر ہوا جبکہ مریضوں کو بھی علاج و معالجے کے بغیر ہی گھر واپس لوٹنا پڑا ۔ سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والے نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز جن میں آر این ٹی سی پی، این اے سی او اور دیگر اسکیموں کے تحت کام کرنے والے ملازمین بھی ہڑتال میں شامل ہوگئے ہیں۔نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز نے جموں کے پریس کلب، لیہہ، لداخ ، پونچھ، دراس اور کرگل کے علاوہ دائریکٹر نیشنل ہیلتھ میشن کے دفاتر میں احتجاجی دھرنے دئے ۔ احتجاجی دھرنوں میں شامل نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز اپنی مانگوں کو لیکر نعرہ بازی کررہے تھے۔ نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ترجمان عبدالرﺅف نے بتایا کہ این ایچ ایم ملازمین کے علاوہ دیگر مرکزی معاونت والی سکیموں میں کام کرنے والے ملازم بھی ہڑتال میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے دوران بڑے سرکاری اسپتالوں کے علاوہ دورافتادہ علاقوں میں قائم طبی مراکز میں بھی کام کاج متاثر رہا ہے جبکہ ایسوسی ایشن نے 21نومبر کو سرینگر کی پریس کالونی میں احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وادی کے مختلف علاقوں سے آنے والے این ایچ ایم ملازمین حصہ لیں گے۔ واضح رہے کہ نیشنل ہیلتھ میشن ایمپلائز ایسوسی ایشن نے اپنی مانگوں کو لیکر 15دنوں تک ہڑتال کی تھی جس کے بعد ریاستی سرکار نے این ایچ ایم ملازمین ککی مستقلی کیلئے پالیسی ترتیب دینے کیلئے ایک اعلیٰ سطی کمیٹی تشکیل دی تھی۔