جموں //نیشنل مزدور کانفرنس کے صدر سبھاش شاستری نے گورنر انتظامیہ سے ایس آر او520کے ترمیم کو سختی سے لاگو کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک بیان میںانہوں نے کہا ہے کہ اس ایس آر او کو بیوروکریسی کے نچلے سطح کے عناصرنے اس دفعہ کا استحصال کیا ہے کیونکہ انکا سابقہ سرکاروں کے تیئں نرم رویہ ہے۔گورنر ستیہ پال ملک کی کی سراہنا کرتے ہوئے انہوں نے سیاسی پارٹیوں سے گورنر کی جانب سے کئے گئے متعدد انتظامہ اصلاحات لاگو کرنے سے سبق سیکھنے کو کہا۔انہوں نے دفتر طوالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتظامیہ کے نیک کاموں کو من و عن لاگو کرنے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے یہاں آر ایس پورہ کے موضع کھمب میں کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے گُذارش کی کہ وہ تمام محکموں کے سربراہوں کو ہدایت دیں کہ و ہ یومیہ اجرتوں پر کام کرنے والے کارکنوں کو باقاعدہ بنانے کے لئے خدمات جاری رکھنے کے سلسلہ میں 120 ووچر پیش کرنے پر اصرار نہ کریں کیونکہ یہ سارا ریکارڈ متعلقہ دفاتر کی فائیلوں میں محفوظ ہے۔انہوںنے کہا کہ ان یومیہ اجرتوں پر کام کرنے والے ورکروں کو باقاعدہ بنانے میں وقت لگ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک ان کو باقاعدہ بنایاجاسکتا ہے تب تک انکے اجرتوں کیلئے وافر فنڈز دستیاب رکھے جائیں ،تاکہ انکوپریانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔شاستری نے ریاستی پنشنروں کو مرکزی پنشنروں کے برابر میڈیکل الائونس دینے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوںنے وزیر اعظم سے اس سلسلہ میںمداخلت کرنے کی اپیل کی، تاکہ ریاستی پنشنروں کو راحت نصیب ہو۔اس موقعہ پر راجن بابو کھجوریہ ،بی ایس جموال، رام سنگھ ، سریند رکمار، رمیش شرما ، ترسیم ، سورج پرکاش، تلک راج، گردھاری لعل ،دلیپ بھگت و دیگران بھی شامل تھے۔