افتخاراحمدقادری
حضرتِ عبد الله ؓ کہتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اے جوان لوگو! تم میں سے جو طاقت رکھے نکاح کرے، اس لیے کہ نکاح آنکھوں کو نیچا کرتا ہے اور شرمگاہ کو ( زنا سے) بچاتا ہے، اور جو شخص خرچ کی طاقت نہ رکھے وہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس خواہش نفس کو ختم کردے گا۔ ( مسلم)حضرتِ انس ؓکہتے ہیں کہ رسولِ خداؐ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص نکاح کرلیتا ہے تو اپنا آدھا دین مکمل کرلیتا ہے، لہٰذا اسے چاہیے کہ باقی آدھے دین کے معاملے میں الله تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ ( بیہقی) معلوم ہوا کہ نکاح نہ کرنے والا نکاح کی سنت کے اجر و ثواب سے محروم رہتا ہے ۔نکاح انسان میں شرم و حیا پیدا کرتا ہے اور نکاح آدمی کو بد کاری سے بچاتا ہے۔ نکاح سے دین مکمل ہوتا ہے۔نکاح نسل انسانی کی بقا کا ذریعہ ہے۔ اسلامی سوسائٹی میں نکاح صرف ایک معاہدہ ہی نہیں، ایک مقدس رشتہ ہے، اس کو اخلاق کی پاکیزگی کا بہت بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہےاور سنت رسول ؐ بھی ہے۔
عہد جاہلیت میں عرب حسب و نسب پر زور دیتے تھے، یہودی مال و دولت کو دیکھتے تھے، عیسائی حسن و خوبصورتی کا خیال رکھتے مگر اسلام میں دین کا اعتبار ہے۔
حضرتِ زینبؓ بنت جحش آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں، لیکن آپ ؐ نے زید بن حارثؓ سے بیاہ دیا تھا، زید ایک غلام تھے جو آزاد کردئے گئے تھے۔
ایک معزز انصاری گھرانے نے اپنی لڑکی کے لئے رشتہ تجویز کرنے کی آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم سے درخواست کی۔ آپؐ نے فرمایا تم ایک جنتی کو چاہتے ہو تو بلالؓ سے بیاہ دو، صرف حسن اور دولت کو دیکھ کر شادی کرنے والے اسلام کے صحیح مقصد کو نہیں سمجھے۔ حسن بگاڑنے والا اور دولت نافرمان بنانے والی ہوتی ہے، ایک سیاہ رنگ والی سادہ سی شریف اور دیندار عورت دوسری عورتوں سے بدرجہا بہتر ہے۔آج کل اکثر مسلمان گھرانوں میں دین کے بجائے یہی فکر ہوتی ہے کہ پیسے والی لڑکی بیاہی جائے تاکہ کھلی دولت گھر میں آئے، اس کو آپ کاروباری شادی بھی کہہ سکتے ہیں، ایسی شادیاں الله کی برکت سے محروم ہوتی ہیں، خاندانی اور دینی زندگی میں جو لطف و مسرت ہے، وہ ایسے گھرانوں میں نہیں ہوتی۔ ایک بڑی نازیبا صورت جو آج کل ان ممالک میں مسلم ماحول میں زور پکڑ رہی ہیں کہ یہاں کے معاشرے میں باعزت رہنے اور کاروبار کی کامیابی کے لیے کسی غیر مسلم لڑکی سے شادی رچائی جاتی ہے۔ ایسی شادیوں میں عام طور پر یہ حیلہ ذہن میں رہتا ہے کہ اہل کتاب عورت سے شادی جائز ہے۔ حالانکہ اس میں بڑی احتیاط لازم ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ان پیغمبروں کو آسمانی کتابیں ملی تھیں لیکن ان کی تعلیمات اب مسخ ہوگئی ہے، اگر ان کی سچی تعلیمات پر عمل کرنے والی لڑکی ملتی ہے تو اس سے شادی ہوسکتی ہے، اس جواز میں یہ بھی شرط ہے کہ وہ غیر مسلم اہل کتاب لڑکی ذمی یعنی اسلامی ملک میں رہنے والی ہو، امریکہ برطانیہ اور یورپ میں رہنے والی بے باک ننگ لڑکی سے تو سختی سے ممانعت ہے۔
مذہب اسلام میں نکاح کا مقصد ہی ملت کے لیے پاک اور نیک نسل فراہم کرنا ہے، جو شرک و کفر، بے حیائی اور عریانی کی لعنت سے محفوظ ہو، سورہ مائدہ میں جو اجازت ہے وہ مشروط رخصت ہے، ان ملکوں میں رہنے والی غیر مسلم لڑکی اپنی سوسائٹی سے مرعوب اور متاثر گھرانے میں پرورش پانے والی اولاد مسلمان کیسے رہ سکتی ہے۔
ان شادیوں میں دینداری کا مسئلہ تو بعد کا ہے، پاک پاک دامنی سے ہی محرومی رہتی ہے۔ قرآن مجید میں صاف صاف ارشاد ہے کہ مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یاد رہے کہ دنیاوی اغراض و مقاصد کے لیے الله رب العزت سے دھوکا نہیں جاسکتا۔ شرافت، عصمت، تعلیم، دینداری اگر نکاح کا معیار نہ ہو تو ایسی ہر شادی، چاہے وہ اہل کتاب عورت سے ہو، چاہے جہیز بٹورنے کی غرض سےمسلمان لڑکی سے ہی کیوں نہ ہو مکروہ ہے۔
[email protected]