نوال ا لسعدوی | دُنیائے عرب کی ’سمن دی بوائر‘

نوال السعدوی(Nawal El Saadawi)جن کاانتقال حال ہی میں یعنی21؍مارچ2021ء کو ہوا؛ مصر کی ایک ایسی بارعب فیمنسٹ،سماجی کارکن،ڈاکٹر، ماہر نفسیات اورکامیاب ادیبہ ہیںجنھوں نے عرب خواتین پر ہورہے جنسی تشددکے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی استحصال پر بے باک اور بے لاگ ہوکر بولا اور لکھا ہے۔اُنھوں نے عورتوں کے حق کے لیے کافی جدوجہد کی اور عرب خواتین کو اُن کا جائز مقام اور رتبہ دلانے کے لیے پوری عمر کوشاں رہیں۔اُنھوں نے عورتوں کے ایسے مسائل پر ارتکاز کیا جن کے تحت بالخصوص دیہاتی عورتوں کے ساتھ رسم و رواج یا مذہب کی آڑ میں استحصال ہوتا رہا ۔اُنھیںعورتوں کے مساوی حقوق کی جدوجہد میںجو مصیبتیں اُٹھانا پڑیں ،اُن سے نہ صرف اُن کی ذاتی زندگی متاثر ہوئی بلکہ پیشے کے اعتبار سے بھی کافی دُشواریوںکا سامنا کرنا پڑا۔ اُنھیں ’’دُنیائے عرب کی سمن دی بوائر(Simon de Beavoir)‘‘کے نام سے بھی جانا اور پہچانا جاتا ہے۔نوال نے جرأت مندی اور جذبۂ شوق سے سرشار ہوکر ہر نوع کے استحصال اور ناانصافی بالخصوص عورتوں کے مسائل اوراُن کے جائز حقوق اور بالعموم انسانی حقوق کے لیے اپنی آواز اس قدر بلند کردی کہ اُس کی آواز کو ہمیشہ ہمیشہ بند کردینے کی کوششیں بھی کی گئیں۔
 نوال سعدوی مصر کے ایک صوبے قلیوبہ کے ایک گاؤں کفر طحلہ میں 27اکتوبر؍ 1931ء کو پیدا ہو ئیں۔ اُن کے والدین نے اُس دور کے ایک عام چلن سے بغاوت کرکے اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیج دیا تھا۔کیوں کہ اُس دور میں صرف لڑکوں کی تعلیم کو اہمیت حاصل تھی جب کہ لڑکیوں کو اسکول بھیجنے پر ممانعت تھی یا یوں کہیے کہ معیوب سمجھا جاتا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب عرب اور مصر کی کم سن بچیوں کاCircumcisionیعنی ختنہ کیا جاتا تھا۔ اگر چہ نوال کے والدین نے ایک طرف عام رسم ورواج کے خلاف اپنی بیٹیوں کو بھی اسکول بھیج دیا تھا وہیں دوسری طرف اُن سے قدامت پسندی کا دامن ہاتھ سے پوری طرح چھوٹ نہیں پایا اور 6 سال کی عمر میںنوال کا ختنہ کرا دیا، جس کا ذکر اُنھوں نے اپنے ناول The Hidden Face of Eve(1977) میں درد کے پُر اثر بیانیہ کے ساتھ کیا ۔مثال کے طور پر اُنھوں نے لکھا ہے کہ’’ جب تیز دھار بلیڈ میرے عضو پر چلائی گئی تو خون کی ندی جیسے بہنے لگی اور درد کی انتہا یہ تھی کہ اگر دیگر اعضاء بھی کاٹ دیئے جاتے تو مجھے محسوس ہی نہیں ہوتا۔‘‘چوں کہ نوال خود ایک ڈاکٹر تھی لہذا اُنھوں نے نسوانی ختنے اور اُس سے پیدا شدہ خرابیوں کے حوالے سے نڈر ہوکر لکھا۔
نوال نے1955ء میں یونی ورسٹی آف قاہرہ(University of Cairo)سے ڈاکٹر آف میڈیسن(Doctor of Medicine)مکمل کیا جب کہ یونی ورسٹی آف کولمبیا، نیو یارک سے 1966ء میں ماسٹر آف پبلک ہیلتھ(Master of Public Health) کامیاب کیا۔ نوال نے1955سے 1965ء تک یونی ورسٹی آف قاہرہ اسپتال،دیہاتی طبی مرکز،طحلہ اور طبی وزارت میں بہ حیثیت ڈاکٹر کام کیا ۔اس دوران اُنھوں نے اپنا ایک رسالہ’’ہیلتھ‘‘ بھی جاری کیا ۔ وہ 1966ء سے1972ء تک وزارت صحت میں پبلک ہیلتھ ایجوکیشن کی ڈائریکٹر جنرل بھی رہی ہیں اور مصری میڈیکل ایسوسی ایشن کی اسسٹنٹ جنرل بھی رہ چکی ہیں۔1973ء سے1976ء تک اُنھوں نے عین شمس یونی ورسٹی کے فیکلٹی آف میڈیسن میں کام کیا اور اس دوران’’ عورت اور عصبانیت ‘‘(Women and Neurosis‘‘پر تحقیق کرکے قاہرہ کے آرٹس اور سوشل سائنس میں 1974ء سے1978ء تک ایک مصنفہ کے عہدے پر فائز رہیں۔1978ء سے1979ء تک اقوام متحدہ میں افریقہ اور مشرق وسطی کی مشیر بھی رہی ہیں۔
نوال کی ادبی ، سائنسی اور سماجی خدمات سے اس بات کابہ خوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ اُنھوں نے کس طرح قلیل عرصے میں ادب اور سائنس میں شہرت حاصل کر لی لیکن جس رفتار سے اُنھوں نے ترقی کے زینے طے کیے ؛اُسی رفتار سے وہ مصر اور عرب کی ایک متنازعہ شخصیت بھی بن گئیں جس کے لیے اُنھیں نہ صرف ذاتی طور بلکہ پیشے کے اعتبار سے بھی کافی مہنگی قیمت چکانا پڑی یعنی وزارت صحت سے اُن کی کتاب ’’Women and Sex‘‘ کی اشاعت کے فوراً بعد نوکری سے برخواست کر دیا گیا۔کیوں کہ مذکورہ کتاب ممنوعہ موضوعات جیسے لڑکیوں کا ختنہ، سیکس اور مذہب وغیرہ کا احاطہ کرتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اُن کے رسالے ’’ہیلتھ‘‘ کے ساتھ ساتھ اُن کی طبی خدمات پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔علاوہ ازیں اُ ن کی دیگر کتابوں کی اشاعت پر بھی روک لگا دی گئی ۔اس کے باوجود بھی نوال نے ایسے حساس موضوعات پر لکھنے کا عمل جاری رکھا جو کسی عام ادیب کے بس کی بات نہیں تھی۔مثال کے طور پر اُنھوں نے عورتوں کے مسائل ،جنسیت، تزویج محرم،طوائفیت،کنواریت کی رسم اور دیگر سماجی مسائل یعنی پدر شاہی، رشوت، طبقاتی جبراور بنیاد پرستی وغیرہ جیسے موضوعات پر بے باکی اور جرأت مندی کے ساتھ قلم اُٹھایا۔جب 1981ء میں نوال نے صدر انور سادات کی یک جماعتی حکومت پر تنقید کی تو اُنھیںدو ماہ قید کی سزا دی گئی۔ اُنھیں پھر انور سادات کے قتل کے بعد ہی رہا کیا گیا۔ جب اُن سے سزا ملنے کی وجہ پوچھی گئی تو اُنھوں نے کہا:’’مجھے اس لیے سزا ہوئی کیوں کہ میں نے سادات پر یقین کیا تھا۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ ہمارے یہاں جمہوریت ہے اور کثیر جماعتی نظام ہے ،اس لیے تم تنقید کر نے کے لیے آزاد ہو۔ بہر صورت میں نے اُن کی پالیسی پر تنقید کی اور میں جیل پہنچ گئی۔‘‘نوال نے 1982ء میں ’’ایسوسی ایشن برائے یک جہتی عرب خواتین‘‘کی بنیاد ڈالی لیکن 1991ء میں سرکاری حکم نامے کے مطابق مذکورہ ایسوسی ایشن پر روک لگا دی گئی۔Stephanie McMillanکے نوال سے مکالمے سے یہ پتا چلا ہے کہ 1992ء میں نوال کا نام Death Listمیںشامل کر لیا گیا تھا جو ایک سعودی اخبار میں بھی شائع ہوئی تھی۔اُنھوں نے Rachel Cookکو دئیے گئے ایک انٹرویو میں جو The Guardian میں 11؍اکتوبر2015ء کو شائع ہوا تھا؛ کہا ہے کہ’’ایک دفعہ میں نے مؤذن سے اذان دیتے وقت یہ اعلان سنا کہ نوال سعدوی کو قتل کیا جانا چاہیے۔‘‘ جس کے بہ موجب اُنھیںملک بدر ہونا پڑا لیکن ملک بدر ہوجانے کو اُنھوں نے منفی زاویے سے نہیں دیکھا کہ وہ اب اپنے ملک کے لیے کچھ نہیں کرسکتی ہے یا یہ کہ وہ اب اپنے ملک میں عورتوں پر ہورہے ظلم و زیادتی کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی؛ بلکہ اُنھوں نے ملک بدر ہوجانے کو بھی مثبت زاویے سے دیکھا اور وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ ’’موت کی دھمکی نے میری زندگی کو ایک نئی اہمیت سے روشناس کرایا۔‘‘
نوال مصر کی پہلی خاتون ہے جسے ارتداد کے لیے مورد الزام ٹھہرایا گیااورمذاہب کا احترام نہ کرنے کی صورت میں زندقہ(ملحد)قرار دے دیا گیا۔ مزید اُسے اسلام کی توہین کے لیے جبری طلاق کی دھمکیاں بھی دے دی گئیں۔اُس کے بعد الازہر، قاہرہ نے اُن کے ناول ’’The Fall of The Imam‘‘ پر پابندی بھی عائد کر دی۔جس عرصے کے لیے وہ مصر سے باہر رہیں اُس دوران وہ کئی یونی ورسٹیوں اور کالجوں جیسے ڈیوک یونی ورسٹی،واشنگٹن یونی ورسٹی، شکاگو یونی ورسٹی وغیرہ میں بہ حیثیت وزیٹنگ پروفیسر کام کرتی رہیں۔ جب اُن سے ملک بدر ہوجانے پر طرح طرح کے سوالات پوچھے گئے تو اُنھوں نے ایک انٹرویو میں جو کہ رسالہ ’’Two Eyes‘‘ میں شائع ہوا تھا،کہا :’’مصر میں میری جان کو خطرہ تھا، اس لیے اپنی جان بچانے کے لیے مجھے مصر کو چھوڑنا پڑا۔میں ہمیشہ کے لیے بیرونی ممالک میں نہیں رہ سکتی ہوں۔مجھے مصر میں ہی رہنا ہے اور تھوڑے سے عرصے کے لیے بیرون ملک بھی رہنا ہے ۔۔۔میری اصل زندگی مصر میں ہے۔۔۔ہمیں مقامی سطح پر رہ کر ہی کام کے ساتھ ساتھ جدوجہد کرنا ہے اور مقامی سطح سے ہی اپنے کام اور جدوجہد کو عالمی سطح تک لے جانا ہے۔‘‘
نوال نے عورتوں کے حقوق کے لیے لڑتے لڑتے اپنی زندگی میں بہت کچھ کھو دیا۔اُنھیں قتل کی دھمکیاں ملیں،ملک بدر ہونا پڑا لیکن کبھی بھی اُن کے دل میں اپنے ملک کے تئیں نفرت پیدا نہیں ہوئی۔انسانی حقوق بالخصوص عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جو کام اُنھوں نے کیا ہے اُس کا اعتراف نہ صرف مصر اور عرب میں کیا گیا ہے بلکہ بیرونی ممالک میں بھی اُسے لائق ستائش تصور کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اُنھیںاُس اعتبار سے قابل توجہ نہیں سمجھا گیا جس کی وہ حق دار تھیں۔جس کی شکایت اُنھیں خود بھی رہی ہے کہ ’’مجھے اپنے ہی ملک نے دھوکہ دے دیا۔ مجھے مصر کا سب سے بڑا عزاز ملنا چاہیے کیوں کہ میں نے عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی کے خلاف کافی جدوجہد کی تھی۔‘‘اس بات کا اعتراف کشور ناہید نے بھی کیا ہے:’’عرب عورتوں میں نوا ل سعدوی نے کس قدر کام کیا، جیل کاٹی، کتابیں لکھیں ، عورتوں کی مساوات کی جدوجہد کی؛چوں کہ کبھی امریکہ کی حمایت نہیں کی، اس لیے قابل توجہ نہیں مانی گئیں۔‘‘
اُنھوں نے اپنی خود نوشت کے پہلے حصے’’A Daughter of ISIS‘‘میں لکھا ہے کہ اُنھوں نے ایک ایسے سماج میں آنکھیں کھولی جہاں بیٹی کو بیٹے کے برابر تصور نہیں کیا جاتا تھا یہاں تک کہ اُن کی دادی کہا کرتی تھی کہ’’ ایک بیٹا پندرہ بیٹیوں کے برابر ہے۔بیٹی ایک طرح کی بیماری ہوتی ہے۔‘‘نوال کی تین شادیاں ہوئیں۔ پہلی شادی احمد حلمی سے ہوئی لیکن بعد میں جب وہ منشیات کے عادی ہوگئے اور ایک دفعہ نوال کو مارڈالنے کی کوشش کی تو پھر بعد میں اُن کی طلاق ہوگئی۔ دوسری شادی ایک وکیل سے ہوئی لیکن اُنھیں نوال کے لکھنے سے کافی چڑ تھی اور ایک دفعہ جب نوال کو اپنے شوہر اور لکھائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے لیے کہا گیا تو اُنھوں نے اپنی لکھائی کا انتخاب کیا اور اس طرح دوسرے شوہر نے بھی طلاق دے دی۔ تیسری شادی شیرف ہتاتا سے ہوئی جو ایک ڈاکٹر اور ناول نگار کے ساتھ ساتھ نوال کی کئی کتابوں کے انگریزی مترجم بھی تھے۔ بہ قول نوال ’’ہتاتا دنیا کا واحد فیمنسٹ مرد ہے۔‘‘لیکن نوال نے اُنھیں بھی طلاق دے دی کیوں کہ اُنھوں نے کئی عورتوںسے تعلقات بنائے ہوئے تھے۔جس پر نوال نے ایک جگہ لکھا ہے کہ’’ اُس نے صنفی مساوات پر کئی کتابیں تو لکھ ڈالیں لیکن اپنی ہی بیوی کے ساتھ دھوکہ کیا۔‘‘
نوال جب جیل میں تھیں تو لکھنے کا جنوں اس حد تک تھا کہ ایک خاتون قیدی سے کہیں سے Eye Pencilچوری کروا لی تھی اورToilet Paperپر لکھنا شروع کیا تھا۔کیوں کہ وہ جدوجہد کے لیے لکھائی کو سب سے بڑا ہتھیار تصور کرتی تھیں۔شاید اسی لیے اُنھوں نے کہا تھا کہ’’Nothing Can Defeat Death Like Writing‘‘۔وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ’’دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے میری لکھائی چھین نہیں سکتی ہے۔‘‘ جب وہ جیل میں تھی تو جیلر نے اُن سے کہا تھا کہ’’ اگر مجھے آپ کی سیل میں کاغذ اور قلم مل جائے تو اُس سے کم خطرنک یہ ہے کہ مجھے آپ کی سیل میں بندوق مل جائے۔‘‘اُن سے جب پوچھا گیا کہ جدوجہد کے لیے آپ کے نزدیک سب سے بڑا ہتھیار کیا ہوسکتا ہے۔؟تو اُنھوں نے کہا کہ’’ غریبی اور جہالت سے لڑنے کے لیے لکھائی سے اچھا اور بڑا ہتھیار کوئی نہیں ہو سکتا ہے۔‘‘
نوال خود اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ اُن میں غصہ بہت ہے اور یہ غصہ تقریباً پوری زندگی اُن کے ساتھ رہا ہے۔حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اُن کا غصہ کم نہیں ہوپایا۔ اُنھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ’’ اُس نے اکثر دیکھا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ادیبوں کے برتاؤ میں نرمی آجاتی ہے لیکن میرا معاملہ بالکل اس کے بر خلاف ہے ۔میرا غصہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔‘‘
نوال نے اپنی زندگی میں کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا؛چاہے وہ اپنی ذاتی زندگی کا معاملہ ہو یا پھر عورتوں کے حق اور انصافی کی لڑائی ہو۔اُن کے دل میں کبھی بھی موقعہ پرست بننے کی خواہش نہیں جاگی،اُنھوں نے انعام و اکرام کی خاطر مظلوم اور متشدد خواتین سے منہ نہیں پھیرا اور اُنھوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر عورتوںکے حقوق کے لیے کام کیا۔اس تناظر میں اُنھوں نے ایک انٹرویو میں بھی کہا تھا:’’جب میں جیل سے واپس آئی تو میرے سامنے دو ہی راستے تھے۔ ایک وہ راستہ جو مجھے حکومتی اداروں کا غلام بنادیتی،سیکورٹی حاصل ہوتی،جعلی کامیابی ہاتھ آجاتی،حکومت کی طرف سے انعامات مل جاتے،بہترین ادیبہ کے خطاب سے نوازا جاتا۔یہ ایک ایسا راستہ تھا جہاں میں اخباروں اور ٹیلی وژن پر چھا جاتی۔دوسرا راستہ جو بہت کٹھن تھا اور مجھے جیل تک لے جاسکتا تھا۔جب سے میں نے قلم ہاتھ میں لیا اور لکھنا شروع کیا تب سے خطرہ میری زندگی کا جزولاینفک بن گیا۔‘‘
نوال کو اُن کی ادبی، سائنسی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزات و انعامات سے نوازا گیا ۔ اُنھیںیونی ورسٹی آف یورک، یو۔کے، یونی ورسٹی آف النوئس، شکاگو، یونی ورسٹی آف اینڈریوز، اسکاٹ لینڈ اور یونی ورسٹی آف ٹرمسو، ناروے سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں تفویض ہوئیں۔اس کے علاوہ اُنھیں کئی ادبی انعامات سے بھی نوازا گیا ہے مثال عرب ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا ایوارڈ،پیرس اور فرانس کی فرانکو۔عرب فرنڈ شپ ایسوسی ایشن،سپریم کونسل برائے آرٹس اور سوشل سائنس،قاہرہ،مصر،پندرہویں پرمی انٹرنیشنل کٹالونیا ایوارڈ،بین الاقوامی مصنفہ برائے2003ء ایوارڈ، The Great Minds of 21th Centuary Award،اِننا انٹرنیشنل انعام،بلجیم،فنلن نکولاس ایوارڈ،افریقن لٹریری ایسو سی ایشن وغیرہ جیسے انعامات سے نوازا گیا ہے۔
نوال ایک ڈاکٹر، ماہر نفسیات،سماجی کارکن کے ساتھ ساتھ کامیاب ادیبہ بھی رہی ہیں۔اُنھوںنے ناول، افسانے، ڈراما،غیر افسانوی ادب اورمضامین کے ساتھ ساتھ خود نوشت بھی لکھی ہے۔اُن کی جملہ تصانیف عربی زبان میں ہیں۔جس کہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں تبدیلی لانے کی خواہاں تھی۔کیوں کہ اُن کا ماننا تھا کہ تبدیلی کا آغاز مقامی سطح سے ہوجانا چاہیے ۔یہی وجہ ہے کہ اُنھوں نے اپنے ذریعہ اظہار کے لیے عربی زبان کا انتخاب جان بوجھ کر کیا تھا۔ اُن کی کتابوں کا ترجمہ تقریباً تیس زبانوں جیسے انگریزی، فرانسیسی،جرمنی، ہسپانوی،پرتگالی،سویڈن،ڈینش،اطالوی،جاپانی، ترکی، اردو وغیرہ میں ہوا ہے۔اُن کے ناولوں میں ’’Memoris of a Women Doctor‘‘،’’Two Women in One‘‘،’’Women at Point Zero‘‘،’’The Death Of Only Man On Earth‘‘جس کا اردو ترجمہ’’آخری آدمی کی موت‘‘ کے نام سے ہوا ہے،’’The Fall of The Imam‘‘،’’Love in the Kingdom of Oil‘‘،’’God Dies By The Nile‘‘،’’The Innocence Of The Devil‘‘بہ طور خاص شامل ہیں۔ اُن کے افسانوی مجموعوں میں ’’I Learnt Love‘‘،’’The Moment of Truth‘‘،’’The Thread and The Wall‘‘،’’She was The Weaker‘‘،’’Breaking Barriers‘‘،’’She Has No Place in Paradise‘‘وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اسی طرح ڈراما میں’’Twelve Women in a Cell‘‘،’’ISIS‘‘،’’God Resigns in The Summit Meeting‘‘اہمیت  کے حامل ہیں۔دیگر کتب میں ’’Women and Sex‘‘،’’Women is the Origin‘‘،’’Men and Sex‘‘،’’The Naked Face of Arab Women‘‘،’’Women and Neurosis‘‘،’’  A New Battle in Arab Women Liberation‘‘،’’The Hidden Face of Eve‘‘وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے دوحصوں پر مشتمل خود نوشت بھی لکھی ہے جس کے پہلے حصے کا ترجمہ’’A Daughter Of ISIS‘‘کے نام سے ہوا ہے اور دوسرے حصے کا ’’Walking Through Fire‘‘ کے عنوان سے ترجمہ ہوا ہے۔
پتہ۔ترال، پلوامہ، جموں و کشمیر
فون۔9149958892
ای میل۔[email protected]
���������