یو این ایس
سرینگر//جموں و کشمیر میں نجی اسکولوں کی فیس کے تعین اور اس سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے قائم فیس فکسیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی گزشتہ دو ماہ سے چیئرمین نہ ہونے کے باعث عملاً غیر فعال ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں فیس منظوری کی فائلیں زیر التوا پڑی ہیں جبکہ والدین کی شکایات پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہو پا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابقحکومت نے 25 مارچ 2023 کو ریٹائرڈ جسٹس سنیل حالی کو ایف ایف آر سی کا چیئرمین مقرر کیا تھا۔ ان کی تین سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد حکومت نے ان کی مدت میں 30 اپریل 2026 تک ایک ماہ کی توسیع کی تھی، تاہم اس کے بعد اب تک نئے چیئرمین کی تقرری عمل میں نہیں لائی گئی۔کمیٹی سے وابستہ ایک افسرنے بتایا کہ چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث ایف ایف آر سی مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے اور نجی اسکولوں کی جانب سے جمع کرائی گئی تقریباً دو ہزار فیس ڈھانچوں کی منظوری سے متعلق فائلیں فیصلہ ہونے کی منتظر ہیں۔ افسرکے مطابق موجودہ ضابطوں کے تحت ان فائلوں کی منظوری صرف کمیٹی کا چیئرمین ہی دے سکتا ہے، اس لیے کوئی بھی زیر التوا معاملہ نمٹایا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ والدین اور دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے نجی اسکولوں کے خلاف درج شکایات پر بھی کارروائی بند ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کسی بھی اسکول انتظامیہ کو طلب کرنے یا کسی شکایت پر کارروائی کرنے کی مجاز نہیں کیونکہ چیئرمین کی عدم موجودگی میں اس کے اختیارات معطل ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ابتدائی طور پر موجودہ چیئرمین کی مدت میں اس وقت تک توسیع دینے کا عندیہ دیا تھا جب تک نئے چیئرمین کی تقرری نہ ہو جائے، تاہم تقریباً دو ماہ گزرنے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔یو این ایس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں فیس سے متعلق شکایات لے کر ایف ایف آر سی پہنچنے والے والدین کو مایوس واپس لوٹنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کی درخواستوں پر کوئی سماعت ممکن نہیں۔ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا کہ ریگولیٹری کمیٹی کے غیر فعال ہونے سے بعض نجی تعلیمی ادارے صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ اس وقت فیس کے تعین یا بے ضابطگیوں پر کارروائی کرنے والا کوئی مؤثر فورم موجود نہیں ہے۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں 5500 سے زائد نجی اسکول ایف ایف آر سی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جس کی ذمہ داری ٹیوشن اور دیگر جائز فیسوں کے تعین، ان کی منظوری اور والدین کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔اس معاملے پر ردعمل جاننے کے لیے وزیر تعلیم سکینہ ایتو سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے کوئی تبصرہ حاصل نہیں ہو سکا۔