سرینگر// عالمی شہرت یافتہ عالم دین، سینکڑوں کتابوں کے مصنف اور الرسالہ کے مدیر مولانا وحید الدین خان 96 بر س کی عمر میں دہلی میں انتقال کرگئے۔ مرحوم کو دہلی کے نظام الدین میں سپرد خاک کیاگیا۔ یادرہے کہ 96سال کی عمر میں مولانا وحید الدین کل رات دہلی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔دس دن پہلے انہیں کورونا سے متاثرہونے کے بعد دہلی کے اپولو اسپتال میں منتقل کیاگیاتھا۔ جہاں انہوں نے کل آخری سانس لی۔ انہوں نے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔انہوں نے اردو، انگریزی ، ہندی اور عربی زبانوں میں مختلف موضوعات پر دو سو سے زائد کتابیں تحریر کی ہیں۔ انہوں نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا، قرآن کی تفسیر بھی لکھی۔اسلامی مرکز کے صدر کے طور پر مولانا محترم دینی خدمت کا کام انجام دینے لگے اور اسلامی مرکز کے ترجمان کے طور پر انھوں نے اکتوبر 1976میں ماہنامہ الرسالہ جاری کیا۔ عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد اْنھوں نے علومِ جدیدہ کی طرف توجہ دی۔ سب سے پہلے اْنھوں نے انگریزی زبان سیکھی۔ اْس کے بعد مغربی علوم کا مطالعہ شروع کیا۔ حتیٰ کہ جدید علوم میں پوری دسترس حاصل کرلی۔ادھر وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’’مولانا کی علمی بصرت اور روحانیت کو یاد رکھا جائے گا‘‘۔جمعرات کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے مولانا واحید الدین خان کی وفات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دین اور روحانیت کے بارے میں انتہا درجہ کا کمال حاصل تھا اور مولانا کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ایک ٹویٹ میں پی ایم مودی نے کہا کہ ’’مولانا وحیدالدین خان کے انتقال سے رنجیدہ ہیں۔ انہیں مذہب اور روحانیت کے سلسلے میں گہری بصیرت کے لئے یاد کیا جائے گا۔ انہیں سماج کی خدمت اور معاشرہ کو بااختیار بنانے کا بھی شوق تھا۔ ان کے اہل خانہ اور ان کے ان گنت خیر خواہوں کے لیے تعزیت پیش ہے۔ خدا ان کی مغفرت فرمائیں‘‘۔