نالہ موری کلاروس سے ریت،باجری اور بولڈر نکالنے کا کام جاری | انتظامیہ خاموش،کلاروس،تھین،خمریال،میرباغ،مدمادومیں پانی کی قلت

کپوارہ//کپوارہ میں گزشتہ تین دہائیو ں کے نا مساعد حالات کا ناجائز فائد ہ اٹھا کر خود غر ض عنا صر  یہا ں کے ندی نالو ں سے غیر قانونی طور ریت ،بجری اور پتھر نکا لنے میں سر گرم عمل ہے اور اس عمل سے نہ صرف ما حولیات کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ لوگو ں کو بھی پریشانیو ں کا سامنا ہے ۔ کپوارہ قصبہ سے 10کلو میٹر دور نالہ موری ناگسری میں دوران شب ریت اور بجری نکالنے کا کام عروج پر ہے جس کی وجہ سے مذکورہ نالہ کاوجود خطرے میں پڑ گیا ہے جس کے با عث مقامی لوگو ں میں کا فی تشویش پائی جارہی ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ نالہ موری سے علاقہ کے نصف درجن دیہات کو پینے کا پانی سپلائی کیا جاتا ہے جبکہ دھان کی ارا ضی کی بھی اسی نالہ کے پانی سے سینچائی ہوتی ہے تاہم گزشتہ کئی برسو ں سے مذکورہ نالہ سے دوران شب کچھ خود غر ض عنا صر چوری چھپے جے سی بی مشینو ں کے ذریعے ریت اور بجری نکالنے کے علاوہ بو لڈر پتھر نکالتے ہیں جس کی وجہ سے اس نالہ کی ہیت بگڑ گئی ہے ۔مقامی لوگو ں کے مطابق نالہ موری ناگسری سے علاقہ کلاروس ،تھین ،خمریال ،میر با غ ،مد مادو اور ایز گنڈ کو پینے کا پانی فراہم ہو تا ہے لیکن گزشتہ تین برسو ں کے دوران ان علاقوں کے لوگو ں کو پینے کے پانی حاصل کرنے میں کا فی دشواریو ں کو سامنا کرنا پڑتا ہے ۔لوگو ں نے الزام لگایا کہ دوران شب جے سی بی مشینو ں کے ذریعے ریت اور بجری نکالنے کے بعد نالہ کا گندہ پانی ریزروائرو ں میں جمع ہوتا ہے اور جب محکمہ جل شکتی اگلے روز پینے کے پانی کی سپلائی فراہم کرتے ہیں تو وہ گندہ اور نا قابل استعمال ہوتا ہے ۔مقامی لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جے سی بی مشینو ں کے ذریعے کھدائی کے دوران نالہ سے کیچڑ اور دوسرا کچرا ریزروائرو ں میں جمع ہوتا ہے جس کے بعد ان ریزروائرو ں میں پانی کی مقدار بہت کم جمع ہوتی اور علاقہ کو کچھ منٹوں کے لئے پینے کا پانی نصیب ہوتا ہے ۔مقامی لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ موری نالہ کو محکمہ فشریز نے ٹرواٹ نالہ بھی قرار دیا کیونکہ اس نالہ میں ٹراوٹ مچھلیا ں پائی جاتی ہیں تاہم محکمہ فشریز کے ساتھ ساتھ محکمہ جیالوجی نے بھی خاموشی اختیار کی ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نالہ سے علاقہ کی ہزارو ں کنال اراضی کو سینچائی کے لئے پانی فراہم کیا جاتا ہے تاہم نالہ کی کھدائی اس قدر ہوئی ہے کہ اب مشکل سے دھان کی اراضی سیراب ہوتی ہے کیونکہ جے سی مشینو ں کے زریعے نالہ کی کھدائی کے دوران نالہ کی گہرائی بہت زیادہ ہوئی ہے جس کی وجہ سے مشکل سے اس نالہ سے کسان دھان کی اراضی کی سینچائی کے لئے پانی حاصل کرتے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ نالہ موری سے غیر قانونی طور ریت اور باجری نکالنے کا معاملہ کئی بار انتظامیہ کی نو ٹس میں لایا گیا لیکن انہو ں نے آج تک کوئی بھی کاروائی عمل میں نہیں لائی ۔لوگو ں نے اس ضمن میں گورنر انتظامیہ سے مدا خلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نالہ موری کلاروس کا وجود جو خطر ے میں ہے،کو بچایا جائے ۔