سب جانتے ہیں کہ سن عیسوی کا رواں سال اب جانے والا ہے اور نیا سال آنے والا ہے اور نئے سال کی آمد پر لوگ ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکبادی پیش کرتے ہیں مگر میرا ماننا ہے کہ یہ مبارکبادی فضول ہے۔بے شک مبارکبادی اُس وقت دی جاتی ہے، جب انسان کسی ایسے کام کو انجام دے، جو کام انجام دینے والے کے ساتھ ساتھ ،معاشرہ اورملت کےلئے بھی باعث فخر ہو ۔گویا پرانا سال گزرنے سے اگر ہمارے لئے کوئی فخریہ کام یا کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام پذیر ہوا ہو تو یقیناً آپ اور ہم مبارکبادی کے مستحق ہیں ۔جب اس قسم کا کوئی فعل ہوا ہی نہ ہو تو مبارکباد کس بات کی اور کس کام کی؟ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم اپنے سبھی سابقہ کاموں کی ایک فہرست تیار کرتے، اور نئے سال کی آمد پر اُن کو گنتےاور پھر یہ دیکھتے کہ ہمارے کھاتے میں کتنی اچھائیاں اور کتنی بُرائیاںجمع ہوئی ہیں۔کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں نوکری ملی ہےیا ہم نے نیا گھر بنایا یا خرید لیا ہےیا ہماری خود کی، اپنے بال بچوں یا قرابتداروں کی شادیاں ہوگئ ہیں۔ایسابالکل نہیں ہے؟ بلکہ مطلب یہ ہے کہ سال بھر میں ہم بُرائیوں ِ،خرابیوں،خرافات اور دیگر رسومات ِ بد سے کتنے دور رہےہیں۔ سال بھر میںاپنے ہمسایوں کے ساتھ ہمارا کیسا سلوک رہاہے، سال بھر میںہم نے رشوت خوری سے کتنا پرہیز کیا ہے؟اوراگر ہم حاکم ہیں تومحکوم کے ساتھ کتنا اچھا سلوک برتائو رکھا ہے، اگر ہم آفیسر ہیں توہمارا اپنے ماتحت عملے کے ساتھ کتنامخلصانہ رویہ رہا ہے؟غرض ہمیں ہر میدان میں ہر سطح پر دیکھنا ہوگااور اپنے نامۂ اعمال جو اچھے یا بُرے کام ہم نے رواں سال میں درج کروائے ہیں،اُن کو تولنا ہوگایعنی اپنا احتساب کرنا ہے۔ اگر ہماری اچھائیوں کا پلڑا بھاری رہا تو ہم واقعی مبارکبادی کے مستحق ہیں، اگر ہمارے گناہوں کا پلڑا بھاری رہا تو یہ ہمارے لئے مصیبت کا باعث ہے اور پھر ہمیں انا للہ وانا الیہ راجعون ہی پڑھنا چاہئے۔کیونکہ اگر ہمارا یہ پورا سال نادانی میں بیت چکا ہے، کبھی مُڑ کر واپس نہیں آسکتا ہےلیکن پھر بھی ہم نادانی میں ہی کہہ رہے ہیں کہ ایک سال گزر گیا ہے۔ اپنی اس نادانی میں ہم یہ بھول جاتےہیںکہ یہ ایک سال بھی ہماری زندگی کا کم ہوچکا ہے۔ کیا پتہ گزرنے والے اس سال کی آخری رات ہی ہماری آخری رات ہو اور ہم اللہ کو پیارے ہوجائیں تو ہماری جھولی میں برائیوں کے بھاری پلڑے کے سوا کچھ نہیں ہوگا ،تو ہم اپنے خالق حقیقی کے سامنے کون سا منہ لے کر جواب دہ ہوں گے ،کیا ہمیں اس وقت پچھتاوا نہیں ہوگا؟ کیا ہمارا خالق اس وقت ہم سے ناراض نہیں ہوگا؟میں بذات ِ خودیہی سمجھتا ہوں کہ اگر خلق اللہ کے ساتھ میرا رویہ ،میرا سلوک اور میرے کام،احکامِ الٰہی و احکام ِ رسولِ رحمتؐاور انسانیت کے مطابق نہیں ہیں تو میری زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیںبلکہ میرااس دنیا میں ہونا بھی فضول ہے۔ اگر میں کسی کے کام نہ آؤں یا کسی کو کام آؤں تو معاوضہ کا تقاضا کروں تو میں انسان کہنے کے لائق بھی نہیں ہوں، کیونکہ انسان کا اس دنیا میں آنے کا مقصدبس یہی ہے کہ ہم بلا لالچ، بلا معاوضہ یا بغیر ِخود غرضی کے کسی کے کام آسکیں،کیونکہ آدمیت کانام ہی آدمی کے کام آنا ہے۔اس لئےنئے سال میں قدم رکھنے سے پہلے ہی ہمیں اچھے،نیک اور قابل قدر کاموں کاپُلان مرتب کرنا چاہئے اور اس پر عمل پیرا ہونے کےلئے اپنے نفسانی خواہشات اور حرص کو ترک کرنا چاہئے۔ایک بات جو میں آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں، یہ ہے کہ ہمیں نفس امارہ، لالچ، برے کام، رشوت خوری اور خود غرضانہ طرزِ عمل کا غلام نہیں بننا چاہئے کیونکہ ایسے کاموں کی غلامی کرنے سے ہم ناقص اور ناتواں ہوجائیں گےاور ہم سماج پر ایک کالا دھبہ ثابت ہوں گے۔ہاں!یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں آئندہ سال کےلئےاعادہ کرکے تیار رہنا چاہئے بلکہ عزم و استقلال کے ساتھ تہیہ کرلینا چاہئے کہ ہم اس سال رفتہ میں کچھ اچھا کرنے جارہے ہیں۔ اگر پچھلے سال ہماری طرف سے کسی کی مدد نہیں ہوسکی ہےتو اِس سال کسی نہ کسی مستحق طلب گارکی سخنے ،قدمے اور درہمے ضرورمدد کریں گے۔ اگر خدانخواستہ پچھلے سال ہماری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوگئی ہے یا کسی کو کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اس سال سے ایسا اس بات کا خیال رکھیں گےتاکہ ہماری پچھلی غلطیوں کا ازالہ ہوسکے۔ اُن افراد سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئیں گےبلکہ معافی طلب کریں گے، جن کوانجانے میں یا جان بوجھ کر ہماری طرف سے تکلیف پہنچی ہے ۔کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ ہم نے ان سبھی اچھی اچھی باتوں کو یکطرفہ چھوڑ کر محض مبارکبادی کے پیغامات پہنچانے پر ہی اکتفاکیا ہے اور اپنے گناہوں پر ہمیں ذرا بھر بھی پچھتاوا نہیںاور نہ ہی ہم اپنی سابقہ ناجائز اور بُرے طریقۂ کار کو چھوڑنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ اس ضمن میں ہمارے نوجوان بھائی بہن فہرست میں پہلے نمبر ہیں۔کیا یہ ایک المیہ نہیں کہ پچھلے سال کی الوداعی تقریب ،جو گلمرگ میں منعقدہوئی تھی، اُس میں زیادہ تر تعداد کشمیری نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ہی دیکھنے کو ملی اور وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، غیر ریاستی لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ رات کے بارہ بجے کے بعد بھی ناچتے گاتے دکھائی دے رہے تھےاور غیر شرعی شور شرابا،ڈانس اور ناچ گانے میں شامل لوگوں کی ایک خاصی تعداد ہمارے معاشرے سے ہی تعلق رکھتی تھی۔ شرمناک امر یہ بھی ہے کہ فحاشی کے ان اڈوں تک نوجوان نسل کی رسائی اُن کے والدین کے ذریعےہی ہوئی تھی ، جو یہ کہہ کر بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے ساتھ گلمرگ وغیرہ گھومنےلے جاتے ہیں کہ"بچے ہیں! ضد کرتے ہیں! ان کو لیجانا ہی پڑے گا" اور ہیپی نیو ائیر کی غیر اسلامی تقریبات میں شرکت کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ایسا کیوں ہورہا ہے ؟یہ بات سمجھ سے باہر ہے البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جن غیر اسلامی تہذیب و رسومات کو ہم ترقی کے نام سے جوڑتے ہیںوہ دراصل ہمارے لئے بُربادی کے سامان ہیں۔ ظاہر ہےکہ یہ کام شیطانی ہےجو بہر صورت ہمیںبربادی اور پستی کی طرف لے جارہے ہیں اوربالآخرطاغوتی نظام کے جال میں ڈال رہے ہیں۔ نئے سال کی تقریبات میں حصہ لیکر ہم یہ مان لیتے ہیں کہ ہم اسلام کی نہیں بلکہ مغرب کی تقلید کررہے ہیں اور اپنے نوجوان نسل کو بوسیدہ اور لچرمغربی کلچر میں دھکیل رہے ہیں۔کیا ایسے والدین کبھی یہ محسوس نہیں کرتے ہیں کہ اپنے نوجوان بیٹوں اور بیٹیوںکو اس گندے ماحول سے بچائیںاور ان کے دل و دماغ کو صاف و پاک کراکےاپنے معاشرے کے لئے باشعور شہری بنائیں۔ذی حِس اور باشعور والدین کو چاہئےکہ اس وبا کا قلع قمع کرنے کے لئےاپنی نوجوان نسل کو ایسے پروگراموں کا حصہ نہ بننے دیں اور دوسروں کو بھی ان کاموں سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔ایسے پروگراموں کی تشہیر اگر سوشل میڈیا یا پرنٹ میڈیا پر ہو بھی رہی ہو، تو اس کا بائیکاٹ کرنے سے گریزنہ کریں۔افسوس کا مقام ہے کہ یہاں اگر دینی اجتماعات ہورہے ہیں تو ان کی تشہیر کرنے والے گنے چُنے لوگ ہی ہوتے ہیں اور ایسے ویڈیوز اور آڈیوز صرف کچھ ہزار لوگ ہی دیکھ رہے ہیں اور اگر یہاں فحاشی، ناچ گانے وغیرہ کے کنسرٹ ہورہے ہیں تو ان کی تشہیر کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں آگے رہنے کی دوڑ میںلگےرہتے ہیں، لاکھوں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ ان کنسرٹس کو دنیا بھر میں دیکھتے رہتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ ہم شیطان کی پیروی کرنے میںپیش پیش رہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیںگویا ہم محض نامی گرامی مسلمان ہوکر رہ گئے ہیں۔میری باتیں کڑوی ضرور ہیں مگر حق بات تو یہی ہےکہ میں اپنے مسلم قوم کو ڈوبتے سورج کی طرح نہیں دیکھنا چاہتا ہوں بلکہ ایک ایسے سورج کی طرح دیکھنا چاہتا ہوں جو پوری دنیا کو اپنے نورسے روشن کرے۔میرے بھائی بہن، جو ان کنسرٹس کو دیکھنے جارہے ہیں، سے عاجزانہ گزارش ہےکہ جہاں کہیں کسی بھی کنسرٹس میں غیر اسلامی اور غیر اخلاقی کام کئے جارہے ہوں ،وہاں نہ جائیں۔ نیز نئے سال کی مبارکباد دینے میں پہل نہ کریں اور نہ ہی اپنے دفاتر،کیبن یا مکان میں نئے سال کی تقریبات منانے کی کوشش کریں کیونکہ یہ عمل جہاں غیر شرعی فعل ہے وہیں مغربی کلچرکی پیروی بھی ہے۔
(رابطہ۔7006259067)