محمد بشارت
کوٹرنکہ//گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں نصرت جہاں نامی خاتون کی مبینہ موت کے خلاف کوٹرنکہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ یہ احتجاج پی ڈی پی رہنما گفتار چوہدری کی قیادت میں منعقد ہوا جس میں نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور مقامی شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے اور طبی نظام میں اصلاحات کے مطالبات درج تھے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جاتیں تو شاید یہ افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی رہنما گفتار چوہدری نے کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی بھی ڈاکٹر، طبی عملے یا انتظامی اہلکار کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ان کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن آواز بلند کی جائے گی۔گفتار چوہدری نے حکومت اور متعلقہ حکام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے میں بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو عوام کے ساتھ مل کر کوٹرنکہ سے راجوری تک پیدل مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی ایم سی راجوری کا گھیراؤ کرکے بھرپور احتجاج بھی کیا جائے گا تاکہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔مظاہرین نے اس موقع پر ایک اور اہم مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ راجوری میں کئی برسوں سے تعینات ڈاکٹروں کے تبادلے کیے جائیں تاکہ صحت کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور بہتر عوامی خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی جگہ طویل عرصے تک تعیناتی سے انتظامی مسائل اور عوامی شکایات جنم لیتی ہیں، اس لیے حکومت کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔مظاہرین نے حکومت سے اپیل کی کہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور جلد تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ سچائی عوام کے سامنے آسکے اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔ احتجاج پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا جبکہ شرکاء نے انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔