مینڈھر میں تار بندی سے تقسیم سرحدی پنچایت گوئی

 مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کے سرحدی علاقہ میں آباد پنچایت گوئی کے مکینوں نے مقامی سرپنچ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے قائم کئے جانے والے کووڈ کئیر سنٹر کو تار بندی سے باہر قائم کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مکینوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ گوئی پنچایت تار بندی کی وجہ سے دو حصوں میں تقسیم ہو ئی ہے جس کی وجہ سے ڈھیرہی ڈبسی علاقہ کی چار وارڈیں تاربندی کے اندر آباد ہیں جبکہ لنجیوٹ کی تین وارڈیں تار بندی کے باہر آباد ہے تاہم مقامی سرپنچ نے کووڈ کئیر سنٹر کو تین وارڈو ں میں قائم کر دیا ہے جبکہ آبادی اور وسائل کے اعتبار سے تار بندی کے اندر مذکورہ سنٹر کو قائم کیاجانا تھا ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ تار بندی کی وجہ سے ان کا دیگر علاقوں بالخصوص سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر او ر ضلع ہیڈ کوارٹر سے ہمیشہ رابطہ منقطع رہتا ہے جبکہ کووڈ کے اس مشکل وقت میں ڈھیری ڈبسی علاقہ میں کووڈ کئیر سنٹر کی ہی وجہ سے مکینوں کو سہولیات میسر ہو سکتی تھی تاہم مقامی سرپنچ نے سرحدی علاقوں کو یکسر نظر انداز کر تے ہوئے مذکورہ سنٹر کو تار سے باہر ہی قائم کر دیا ہے جس میں تاربندی اور صفر لائن کے اندر آباد لوگوں کی پہنچ مشکل ہو گئی ہے ۔مکینوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ان کیساتھ کی گئی نا انصافی کا سنجیدہ نوٹس لیا جائے اور کووڈ کئیر سنٹر کو تار بندی کے اندر قائم کیا جائے تاکہ مشکل میں مبتلالوگوں کو سہولیات میسر ہو سکیں ۔بلاک میڈیکل آفیسر مینڈھر نے بتایا کہ مذکورہ سنٹر کا قیام بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کی جانب سے عمل میں لایاگیا ہے تاہم اس سلسلہ میں پتہ کیا جائے گا ۔بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر مینڈھر نے بتایا کہ مذکورہ علاقہ دور دراز ہے جہاں پر ڈاکٹر کا پہنچانا مشکل ہے تاہم اس سلسلہ میں ایس ڈی ایم سے بات چیت کی جائے گی ۔