’میرے حصے کی دنیا‘

پرتپال سنگھ بیتاب (ولادت ۱۹۴۹ء پونچھ)کا نام ہندوستان کے ادبی منظر نامے کے لیے محتاج تعارف نہیں۔ ایک معتبر شاعر کی حیثیت سے آپ نے پورے ملک میں جموں کشمیر کی نمائندگی کافریضہ انجام دیا ہے۔ بیوروکریسی کی آفیسرانہ شان وشوکت والی زندگی سے دامن بچاکرآپ نے شعر وسخن کو ہی اپنی شان وشوکت کی معراج سمجھا۔ اپنے کلام کوہی اپنی شناخت کا سرنامہ بنایا۔ عمر بھر شعر وسخن کے جام سے شغل رکھا اور اسی نشۂ مے سے اپنی فکر و فن کو دوآتشہ بناتے رہے۔نیتجۃًایک درجن سے زائد شعری مجموعے منظر عام پر آئے جن میںپیش خیمہ(۱۹۰۸ء) سراب در سراب (۱۹۸۴ء)خود رنگ  (۱۹۹۵ء)موج ریگ (۲۰۰۳ء)نظم اکیسویں صدی (۲۰۰۸ء) فلک آثار (۲۰۱۳ء)اور ایک جزیرہ بیچ سمندر (۲۰۱۹ء) قابل ذکر ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ جیسے نقادوں نے آپ کی شاعری پر اظہار خیال کیا ہے جو بیتاب صاحب کی شاعری کے لیے ایک سند کا درجہ رکھتا ہے۔
 زیر نظر مضمون میں مجھے بیتاب کی شاعری پر گفتگو مقصود نہیں ہے۔ میں ان کی شاعری سے پہلو تہی کرکے حال ہی میں منظر عام پر آئی ان کی تازہ کتاب ’’میرے حصے کی دنیا‘‘ کاجائزہ لینا چاہتا ہوں جو بیتاب صاحب کی خود نوشت سوانح ہے۔ہر چند کہ بیتاب صاحب ایک ادیب کے بجائے ایک شاعر کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتے ہیں مگر ان کی یہ کتاب نثری بلکہ سوانحی ادب میں ان کے قد وقامت کاتعین کرتی نظر آتی ہے۔
’’میرے حصے کی دنیا ‘‘میں اس کے مولف پرتپال سنگھ بیتاب نے ابتداء ہی میں اس بات کا اظہار کردیا ہے کہ اس میں انہوں نے سب کچھ نہیں لکھا ہے۔ نہ ہی ہر شخص اپنی زندگی سے متعلق ساری باتیں لکھ سکتا ہے۔ ظاہر ہے انسان کا اس کی زندگی میں بہت سارے ایسے مسائل ومعاملات سے سامنا ہوتا ہے جن میں سے ہر ایک کو طشت از بام نہیں کیا جاسکتا۔ جان جاک روسو اور سینٹ اگسٹن جیسے کم ادیب ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کی کوتاہیوں اور کمیوں کا پردہ فاش کرنے کی جرات رندانہ کرسکتے ہیں۔ اسی لیے نقادوں نے ’’اعترافات‘‘ اور ’’خود نوشت سوانح‘‘ میں فرق بھی کیا ہے۔ خود نوشت میں ہر شے کا ذکر ضروری بھی نہیں لیکن ضروری باتوں کا سوانح میں ذکر نہ کیا جائے ایسا بھی نہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ بیتاب صاحب نے اس بات کی ضرور تاکید کی ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے سب سچ لکھا ہے سچ کے سوا کچھ نہیں لکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں ایک ادیب اور فنکار ہمیشہ سچا ہی ہوتا ہے اور اس میں یہ جرات ہوتی ہے کہ زمانے کی آنکھوں سے آنکھیں ملاکر سچائی کا ظہار کرسکے۔ بیتاب صاحب کی اس کتاب میں کئی جگہ اس جرات رندانہ اور ہمت مردانہ کا اظہار سامنے آتا ہے۔
کتاب کو پڑھنے کے بعد میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب پچھلے پچاس برس کی سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل ومعاملات کو آئینہ کرتی ہے۔چونکہ بیتاب صاحب جموں وکشمیر کی بیوروکریسی سے وابستہ رہے ہیں۔ ایک اعلی افسر کی حیثیت سے نظام حکومت کے بہت سارے معاملات سے جڑے رہے ہیں اس لیے اس کتاب میں خاص طور سے جموں وکشمیر کا سیاسی وسماجی منظر وپس منظر طشت از بام ہوتانظر آتا ہے۔ 
کتاب کے ابتدائی صفحات کے مطالعے سے بیتاب صاحب کے عہد طفولت سے جو پردہ اٹھتا ہے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بیتاب صاحب  کے اجداد سے انہیںہجرت کا جو کرب ورثے میں ملا وہ ہمیشہ ان کی ذات، ان کی حیات اور ان کی سانسوں میں سرایت رہا اور وہ اس کرب کو ہمیشہ اپنے کاندھے پر اٹھائے پھرتے رہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے وطن مالوف سرزمین پونچھ کا او روہاں کے لوگوں کا بہت والہانہ تذکرہ کیا ہے۔ہر چند کہ وہ پونچھ کی سرزمین کو چھوڑ کر مستقل طور سے جموں میں رہائش پذیر ہوگئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ پونچھ ہی میں رہتے تو مولانا چراغ حسن حسرت کے بعدپونچھ کے اردو شعراء کی صف میں آپ کا نام سرفہرست ہوتا۔پونچھ میں تو کرشن چندر بھی ہمیشہ نہیں رہے۔ نہ ہی چراغ حسن حسرت پونچھ میں تاحیات رہے۔ تو بیتاب ہی کیوں؟ لیکن پونچھ والوں نے انہیں اپنی تاریخ سے کبھی الگ نہیں کیا جب کہ پونچھ کے شعراء کے حوالے سے بیتاب صاحب کی شاعری کی تعیین قدر اور پونچھ سے ان کی ابدی نسبت پر بات ہونی ابھی باقی ہے۔
یوں تو آج کل کے زمانے میں جو لوگ کسی صوبے یا ملک کی ایڈمنسٹریٹو سروس سے جڑ جاتے ہیں ان کی شان وشوکت کے کیا کہنے۔ لیکن اس کتاب کو پڑھنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کم وبیش بیس بائیس برس کی سروس تک بیتاب کو شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کبھی میسر نہیں آیا۔ ایماندار، سچے اور شاعرانہ طبیعت کے حامل ہونے کے ناطے وہ کبھی اعلی حکمرانوں کے منظور نظر نہیںرہے۔ نہ ہی انہیں اس کا کبھی شوق رہا کہ اعلی حکمرانوں کے پہلو میں اپنی شخصیت کو کہیں سیٹ کریں۔ بس وہ اپنا کام کرتے رہے بلکہ کئی بار تو ایسا لگا جیسے وہ اس کام میں مس فٹ ہی رہے۔ اور اس کا تذکرہ بھی انہوں نے کیا ہے کہ بیوروکریسی کی دنیا کے وہ آدمی نہیں۔ نہ ہی انھیں کبھی وہ آفیسرانہ شان وشوکت ملی۔ نہ ہی وہ اس کے متمنی اور خواہشمند رہے۔ بڑی مشکل سے رٹائرمنٹ سے پہلے کے آٹھ دس برسوں میں انہیں تھوڑا سا گھومنے پھرنے اور زندگی سے لطف اٹھانے کا موقع ملا۔بلکہ بحیثیت کمشنر سکریٹری سبکدوش ہونے کے بعد بھی اپنا ساز وسامان ماروتی آلٹو پر ہی لاد کر جموں کے لیے روانہ ہوئے۔ آج کل جب کہ لوگوں کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں ہیں اتنے بڑے آفیسر کو آلٹو ہی میسر ہو یہ بات بھی اس کی قناعت پسندانہ زندگی کی غمازی کرتی ہے۔
کتاب میں جموں وکشمیر کے سیاسی مسائل ومعاملات کا بھی بار بارذکر آیا ہے۔ کہیں کہیں حالات پر اور جمہوری نظام پر بھی طنز کے تیر ونشتر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور ان کی مہاجرت پر بھی بہت کھل کر بات کی گئی ہے۔ ان کے مسائل ومعاملات کو بھی اس میں ابھارا گیا ہے۔ایک اور اہم بات جو پور ی کتاب میں ان کی ہجرت کے کرب کی طرح بار بار سامنے آتی ہے وہ ہے سکھ قوم کے ساتھ خواص کاسوتیلا سلوک۔بیتاب صاحب جگہ جگہ اس قوم کے بارے میں باتیں کرتے ہیں ۔ کرنا بھی چاہیے۔ ان کا حق بھی ہے۔ بلکہ ان پر فرض بھی ہے کہ وہ اسی قوم کے ایک فرد ہیں۔ انہوں نے بڑی وضاحت سے اس دکھ کا اظہار کیا ہے کہ سکھ قوم سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ بارہا سوتیلے سلوک کا شکار ہوئے۔ ان کا یہ تشخص کئی بار ان کے پروموشن کے آڑے آیا۔سچی بات یہ ہے کہ یہی تشخص اس قوم کی ہمت مردانہ کا بہت بڑا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اس قوم نے دوسری قوموں کی طرح اپنے تشخص کا کبھی سودا نہیں کیا خواہ اس کے لیے اسے کتنے ہی نقصان برداشت کرنے پڑے۔ جہاں بھی رہے اسی تشخص کو اپنی شناخت کا تاج بنائے رکھا۔
ملی ٹینسی اور وادی کے حالات کا بھی کتاب میں جگہ جگہ تذکرہ ملتا ہے۔ہمارے سماج میں ذات پات کی گہری ہوتی جڑوں پر بھی بیتاب صاحب نے اظہار خیال کیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپنی سرگزشت حیات قلمبند کرتے ہوئے بیتاب صاحب ایک بیور کریٹ سے زیادہ شاعر نظر آتے ہیں۔ ہر مسئلے اور ہر موضوع پر آپ نے اپنے ہی اشعار کو بطور نمونہ واستدلال پیش کرکے اپنی شاعرانہ خو کو سب سے اعلی وبالا اور سب سے اہم بتانے کی کوشش کی ہے۔ ایسا محسوسوس ہوتا ہے کہ شاعرانہ عظمت کے سامنے ان کی آفیسرانہ شان وشوکت ہمیشہ مدھم رہی۔ وہ صرف اور صرف شاعر بن کر جیے۔ ان کے تمام مجموعوں سے قطع نظر صرف ’’میرے حصے کی دنیا ‘‘ میںموجود اشعار سے بھی پرتپال سنگھ بیتاب کی شاعری پر بہت کھل کر بات کی جاسکتی ہے۔ اس میں آپ نے نظمیں بھی ذکر کی ہیں اور متفرق اشعار بھی۔ ظاہر ہے ایک شاعر غم جاناں کو غم دوراں بناکر پیش کرتا ہے بلکہ ذات کے غم کو کائنات کا غم بناکر پیش کرنا زیادہ مشکل ہے اور ایسا صرف قادر الکلام شاعر ہی کرسکتا ہے۔اور بیتاب صاحب اس میں کامیاب نظر آتے ہیں۔
کتاب میں بہت ساری ایسی اہم باتیں مذکور ہیں جن کو یہاں نقل کیا جانا فائدے سے خالی نہ ہوگا لیکن میں صرف دو باتیں یہاں ذکر کرنے پر اکتفا کروں گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ دسویں جماعت کے امتحان کے بعد وہ اپنے آبائی وطن پونچھ کی سیر کے لیے نکلے تو ان کی ماں نے ان کی جیب میں تیس روپے ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’یہ پیسے خرچ کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ اس لیے ہیں کہ سفر میں اور پردیس میں کبھی کوئی مشکل پیش آجائے تو پیسہ کام آتا ہے‘‘۔ سفر کے وقت بڑوں کی اس طرح کی نصیحتیں شاہراہ حیات میں بہت کام آتی ہیں۔ ماں کی اس نصیحت کو پڑھ کر مجھے لبنان کے ایک مشہور ومعروف عربی ادیب ، مورخ اور شاعر عمر فروخ کی یاد آگئی جن کی سرگزشت حیات کو ابھی میں نے عربی سے ترجمہ کرکے اردو میں شائع کرایا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وہ جب پی ایچ ڈی کرنے کے لیے جرمنی جانے لگے تو ان کے ماں باپ نے بہت ساری نصیحتیں کی۔ ان کے چچا نے نصیحت کی کہ ’’اکیلے جارہے ہواور اکیلے ہی واپس آنا‘‘ ۔ اس کے بعد جرمنی کے ان کے دوسالہ سفر کو دیکھ لیجیے کیسے کیسے موقعے پر ان کی ہم جماعت ساتھیوں یا دیگر لڑکیوں نے ان پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی مگر وہ کبھی نہیں پگھلے۔ نہ کاہو سے دوستی نہ کاہو سے بیر کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے جب وہ واپس آئے توبس اکیلے ہی آئے۔
دوسری جو بات بیتاب صاحب نے لکھی ہے اور میں اسے یہاں قابل ذکر سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ سکھ قوم سے تعلق رکھنے اور پنجابی مادری زبان ہونے کے ناطے شروع میںبیتاب صاحب پنجابی میں بھی شعر کہتے تھے۔ بیتاب صاحب لکھتے ہیں کہ ’’یہ میری ادبی اٹھان بلکہ اڑان کا عہد تھا۔ اسی عہد میں میں نے سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا کہ مجھے اردو اور پنجابی میں سے کسی ایک ہی زبان میں شاعری جار ی رکھنی چاہیے۔دونوں زبانوں میں شاعری کرنا شاید دو کشتیوں کا سوار ہونے کے مترادف ہے‘‘۔ یہ فیصلہ ان کے لیے بہت کٹھن بھی تھا پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ ’’پنجابی تو ان کی مادری زبان ہے۔ اس میں شعرکہا تو کیا کہا اور پھرانھوں نے اردو میں شاعری میں نام پیدا کرنے کی ٹھان لی‘‘۔ 
آخری بات کتاب کے اسلوب پر۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بیتاب صاحب شاعر ہیں اور شاعری ہی ان کی شناخت ہے۔ نثر آپ کی پہچان نہیں لیکن اس کتاب میں آپ کا اسلوب تحریر بہت شستہ ، شائستہ اور شگفتہ ہے۔ اسلوب کی شیرینی ہر جگہ ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ بیان کی لطافت قاری کو اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ البتہ الفاظ کو ضبط کرنے کے اہتمام سے مجھے ذاتی طور سے تکلیف ہوئی کہ اس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ کئی جگہ لفظوں کے ضبط سے مجھے محسوس ہوا جیسے میں کشمیری رسم الخط میں کوئی تحریر پڑھ رہا ہوں۔ اس کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔
خلاصہ یہ کہ یہ ایک خوب صورت سوانح حیات ہے۔ اس میں پچھلی نصف صدی کی سیاسی ، سماجی اور معاشی ومعاشرتی مسائل کی بخیہ گری کی گئی ہے۔ یہ کتاب کسی آفیسر شاعر کی کتاب زندگی کے وہ اوراق ہیں جن میں اس کے کاروان زندگی کے نشیب وفراز کی داستانوں کو اس طرح قلمبندکیاگیا ہے جو قاری کو عبرت وموعظت کے کئی پاٹھ پڑھاتی ہے۔ جو اسے زندگی کی حقیقت سے بھی قریب کرتی ہے اور سیاسی وسماجی اور معاشی ومعاشرتی مسائل سے بھی اسے ہم آغوش ہونے اور ان سے نبرد آزماہونے کے گربھی سکھاتی ہے۔ہم اس اہم کتاب کے لیے بیتاب صاحب کو مبارکباد دیتے ہیں اور ان کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی مادری زبان کو چھوڑ کر اردو سے ساری زندگی عشق کیا اور اسے جان وتن سے اپنا بنائے رہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کتاب کو قارئین پسند کریں گے اوراسے سند قبولیت سے نوازیں گے۔
(صدر شعبۂ عربی  بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری(
فون نمبر۔   9086180380