وسیم نذیر بٹ
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مکافاتِ عمل کیا ہے؟ کیوں کہتے ہیں کہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے؟ مکافاتِ عمل کا مطلب ہوتا ہے عمل کا بدلہ۔ عمل جو ہم کرتے ہیں اور بدلہ جو ہمیں ملتا ہے۔ اس دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے، اس کا بدلہ ضرور اسے ملتا ہے، پھر چاہے وہ اچھا ہو یا بُرا۔ اچھائی کی جزا جس طرح ضرور ملتی ہے ،اسی طرح بُرائی کی سزا بھی ملتی ہے۔ آج کسی کا دل دکھاؤ گے تو کل کو اپنا دل ضرور دُکھے گا، آج کسی کا حق مارو گے تو کل کو اپنا حق بھی نہیں ملے گا۔ آج کسی کو دھوکہ دو گے تو کل کو خود بھی دھوکہ کھاؤ گے۔ مگر بات تو صرف سمجھنے کی ہے۔ اگر کسی کے ساتھ بُرا کرو اور خود پربُرا وقت آجائے تب بیٹھ کر یہ سوچو کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور جواب نہ ملے، حقیقت جانتے ہوئے بھی اس بات کا اعتراف نہ کرسکو کہ یہ مکافاتِ عمل ہے تو شاید ابھی ضمیر سو رہا ہے۔ ہر انسان کو یہ صلاحیت حاصل ہے کہ جب وہ کچھ بُرا کر رہا ہوتا ہے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت ضرور کر رہا ہوتا ہے، مگر یہ الگ بات ہے کہ اس آواز کو دبا دیا جاتا ہے اور اس کی سُنی نہیں جاتی۔بُرے وقت کی بُرائی سے ڈرنا چاہیے اور اس فانی دنیا میں کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار مکافاتِ عمل کے بارے میں ضرور سوچ لینا چاہیے۔جو آپ کسی کے ساتھ کرتے ہیں بلآخر آپ کے ساتھ ہونا بھی ٹھہر چُکا۔ میرا ماننا ہے کہ لازمی نہیں کہ آپ نے خُود کسی کے ساتھ بُرا کِیا ہو تو ہی آپ کے ساتھ بُرا ہو ،اگر آپ کسی بُرے کی بُرائی میں شریک بھی ہیں یا اسکی سائیڈ پر اُسکے ساتھ کھڑے ہیں تو بھی آپ مکافاتِ عمل کے حقدار ہیں۔
اِمام غزالی فرماتے ہیں کہ روزِ محشر اگر سینگ والی بکری نے بغیرسینگ والی بکری کو سینگ مارا ہو گا تو اللہ سُبحانہ و تعالیٰ سِینگ والی بکری کے سِینگ اُتار کر بغیر سینگ والی بکری کو لگا کر فرمائیں گے کہ آج تُو اِسے مار آج تُجھ سے کوئی باز پُرس نہیں ۔قُدرت نے مکافات کا فِلٹر نہایت باریک رکھا ہے، جس سے ایک سینگ بھی چھانا جائے گا تو رُوح کو داغدار کرنے والے جُرم کے تو کیا کہنے۔
خبردار !قُدرت کے پاس آپکے کئے گئے ہر گُناہ کی معافی ہے لیکن فطرت کے پاس ہرگز معافی نہیں۔ایک شخص نے 20 سال شراب پیتے گُزار دیئے ،اچانک دِل بہ مائل توبہ ہُوا، صُبج توبہ کی توبہ قبول ہُوئی اور خواب میں بشارت بھی مِل گئی کہ توبہ قبول ہوچُکی، لیکن 20 سال شراب پینے سے پھیپھڑے اور جِگر جو گل سڑ چُکے ہیں، وہ پہلی حالت میں نہیں آنے والے۔بہرحال اُس عذاب کو آپ کو ہر حال میں جھیلنا ہی ہے۔فطرت کے قانون میں آم کی جگہ آم ہی اُگتا ہے امرُود نہیں ۔
وقت کے پہیے میں اوپر آنے پر آپ کہتے ہیں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔لیکن یقین کیجئے جب آپ اُسی پہئیے میں نیچے کی طرف آتے ہیں تو پھر جو ہوتا ہے،ہرگز نہیں دیکھا جاتا اور انسان کبُوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے سوچتاہے کہ شاید خطرہ ٹل گیا، لیکن نہیں۔۔۔وہ تو شروعات ہوتی ہے۔ مکافاتِ عمل دستک نہیں دیتی، اور نہ ہی اسے کسی دَر کےکُھلنے کا انتظار ہوتا ہے۔ یہ تو جہاں جاتی ہے، اپنے لئے دروازے خود ہی کھول لیتی ہے۔جو آج تم کرو گے کل وہی تمہارے ساتھ ہوگا۔ اس لئے لوگوں کی زندگی جہنم بنا کر سجدوں میں جنت مانگنا چھوڑ دو۔
رابطہ۔919070931709
<[email protected]>