کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ کے حد متارکہ پر واقع مژھل میں متعدد علاقوں میں بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے لوگو ں کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مژھل کے ڈپل علاقہ کے لوگ اس بات کو لیکر سراپا احتجاج ہیں کہ علاقہ میں بنیادی سہولیات کا سخت فقدان پایا جارہا ہے جس کی وجہ سے رہائش پذیرعوام کو سخت مشکلات درپیش ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ سرکار نے مژھل میں ایک سال قبل قائم رسیونگ اسٹیشن سے بجلی سپلائی بحال کی اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ مژھل کو بجلی سپلائی فراہم کی گئی لیکن صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مژھل گائو ں اور دودھی کے بغیر باقی 7پنچائتی حلقہ ابھی بھی بجلی سپلائی سے محروم ہیں اور شام ہوتے ہی یہ علاقے گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ دو سال قبل مژھل کے کئی دیہات میں بجلی کے کھمبے اور ترسیلی لائنو ں کو بچھایا گیا لیکن تا حال بھی یہ علاقے بجلی سپلائی سے محروم ہیں ۔ڈپل کے مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ علاقہ میں سرکار نے ایک سب سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ علاقہ کے لوگو ں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائے گی لیکن مذکورہ اسپتال میں بنیادی سہولیات کا سخت فقدان پایا جاتا ہے جبکہ طبی اور نیم طبی عملہ کی بھی قلت پائی جاتی ہے ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ اب موسم سر ما شروع ہوا ہے اور مژھل ضلع صدر مقام سے 4مہینے کٹ کر رہ جاتا ہے جس کے دوران یہا ں کے مریضوں کو علاج و معالجہ کے دوران سخت دقتو ں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مجبوری کے عالم میں یہا ں کے مریضوں کو کئی کلو میٹر دور بھاری برف باری کے دوران پرائمری ہیلتھ سنٹر دودھی جانا پڑتا ہے اور اب تک کئی لوگ اسپتال پہنچانے کے دوران فوت ہوئے ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ علاقہ دور درازاور بھاری برف باری کے دوران مذکورہ سب سنٹر میں ایک ڈاکٹر اور ایک ماہر امراض خاتو ن ڈاکٹر کو تعینات کیا جانا چایئے تاکہ موسم سرما میں بھاری برف باری کے دوران یہا ں کے مریضوں کو در در کی ٹھوکریں نہ کھانا پڑے ۔ڈپل کے مقامی سر پنچ محمد مقبول خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ ڈپل علاقہ میں ابھی بھی موبائل فون سروس سہولیات سے محروم رکھا گیا جس کی وجہ سے یہا ں کے لوگو ں کے ساتھ ساتھ زیر تعلیم طلاب کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سرکار نے مژھل علاقہ میں ایک موبائل ٹاور نصب کیا ہے لیکن اس کا فائدہ ڈپل علاقہ کو نہیں ہے اور اس کے لئے سرکار کو مزید موبائل ٹاور نصب کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہا ں کے لوگو ں کا رابطہ بھی دنیا سے ہو جائے ۔
ٹنگمرگ کے متعدد دیہات | بجلی بحران سے لوگوں کو مشکلات
سرینگر//ٹنگمرگ کے متعدد دیہات برقی رو سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو گوناگوں مشکلات کا سا منا کرنا پڑ رہا ہے۔ شمالی کشمیر کے ٹنگمرگ قصبہ کے درجنہوں دیہات برقی رو کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں ۔ٹنگمرگ کے فیروز پورہ، کاتی پورہ ،چھاندل وانی گام ،تیرن ،ہاری وٹنھنو ،سونلی پورہ رتن پورہ کے علاوہ دیگر دیہات کے صارفین نے محکمہ بجلی کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ لوگوں کو بجلی سپلائی فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور مرضی کے مطابق ہی بجلی کٹوتی کر رہے ہیں جس کا خمیازہ صارفین کو بھگتناپڑرہا ہے۔سی این آئی کے مطابق ایک مقامی شہری ممتازاحمدنے بتایا کہ شام ہوتے ہی ہر سو اندھیرا چھا جاتا ہے اور کئی علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس بارے میں کئی بار احتجاج بھی کیا گیا لیکن متعلقہ محکمہ آج تک صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کارگر اقدامات نہیں کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں عوام میں محکمہ کے خلاف غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ لوگوں نے سرکار اور محکمہ بجلی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان دیہات میںفوری طور پر بجلی سپلائی میں بہتری لائی جائے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔