مینڈھر//مینڈھر سب ڈویژن کی سرحدی پنچایت دھراٹی میں قائم کردہ گورنمنٹ مڈل سکول ٹھیری دھراٹی کی عمارت گزشتہ 9برسوں سے مکمل ہی نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے سکول میں زیر تعلیم بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے 9برس قبل عمارت کی تعمیر کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرکے ایک ڈھانچہ تیار کیا گیا لیکن اس کے بعد متعلقہ ٹھیکیدار نے کام مکمل ہی نہیں کیا جس کی وجہ سے اب تعمیر شدہ عمارت بھی آہستہ آہستہ کھنڈرات میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہے ۔مکینوں نے شعبہ تعلیم کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ سکول کو مکمل کرنے کیلئے کئی مرتبہ حکام سے رابطہ کیا گیا لیکن ابھی تک اس جانب دھیان ہی نہیں دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سرکاری خزانہ سے خرچ کی گئی رقم بھی اب برباد ہو تی جارہی ہے جبکہ متعلقہ ٹھیکیدار نے کام چھوڑ دیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سرحدی علا قہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ علاقہ کے بچوں کو پہلے سے ہی معیاری سہولیات دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہے تاہم اب انتظامیہ کی جانب سے سکولی عمار ت کو مکمل کرنے میں دلچسپی ہی نہیں لی جارہی ہے ۔یوتھ لیڈر ظہیر خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ عمارت کی تعمیر میں بھی غیر معیاری ساز و سامان استعمال کیا گیا ہے جبکہ حالیہ کئی برسوں سے تیار کردہ ڈھانچے کو بھی مکمل نہیں کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے اب عمارت کھنڈرات میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ عمارت کی تعمیر کیلئے دس لاکھ روپے کی رقم وگزار کی گئی تاہم لینٹر ڈالنے کے بعد اس کو جوں کا توں ہی چھوڑ دیا گیا ۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ عمارت کے کئے گئے کام اور خرچ ہوئی رقم کی جانچ کے سلسلہ میں ویجی لینس کی ایک ٹیم کو علاقہ میں بھیجا جائے تاکہ تعمیرات کا جائزہ لینے کے بعد غیر قانونی عمل میں ملوث افراد و ملازمین کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے ۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بچوں کی تعلیم کیلئے سنجیدہ نوعیت کے اقدامات اٹھائے جائیں ۔