موٹر سائیکلوں پر خطرناک کرتب بازی تشویشناک امر | نوجوانوںمیں بڑھتا رجحان زندگیوں سے کھلواڑ کے مترادف

سرینگر//نوجوانوں کی جانب سے موٹر سائیکلوں پر خطرناک کرتب بازی کرنے کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہوگیاہے ۔ سرینگر کی مختلف بڑی سڑکوں پر نوجوان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دن بھر کرتب بازی کرتے ہوئے اپنے کرتبوں کی عکس بندی کرکے سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں اور اپنے لئے زیادہ سے زیادہ ’’لائک‘‘حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔شہر سرینگر میں نوجوانوں کی جانب سے اپنی موٹر سائیکلوں اور سکوٹیوں پر مختلف قسم کی کرتب بازیاں کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالدیتے ہیں ۔ سرینگر کے مختلف علاقوں خاص کر ، فورشور روڑ حضرتبل، ناگہ بل روڑ گاندربل، نشاط ، شالیمار اور ہارون کی سڑکوں کے علاوہ بائی پاس کی مختلف جگہوں پر موٹر سائکلوں پرخطرناک ’’سٹنٹ‘‘کرتے رہتے ہیں اور دوران کرتب بازی اپنے دوستوں کے ذریعے موبائل فونوں پر فوٹو اور ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں تاکہ ان کو سب سے زیادہ لائکیں حاصل ہو۔ اگرچہ پولیس کی جانب سے ایسے نوجوانوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیںاور نوجوانوں کو پکڑ کر ان کے والدین کو آگاہ کیا جاتا ہے ۔ نوجوان اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر ایسی کرتب بازیاں کرتے ہیں کہ دیکھنے والوں کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اس ضمن میں سی این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ ایسے نوجوانوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے جو اپنی جانوں کے ساتھ کھیل کر والدین اور رشتہ داروں کو پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کے درپے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی چاہئے کہ جہاں کہیں پر بھی ایسے نوجوانوں کو موٹر سائکلوں پرکر تب بازی کرتے ہوئے دیکھیں ،تو فوری طور پر پولیس کو مطلع کریں ۔ انہوں نے کہا کہ والدین کا بھی فرض ہے کہ اپنے بچوں کو نصیحت کریں کہ وہ موٹر سائکل اور سکوٹی پر ایسے حرکات نہ کریں جس کی وجہ سے آگے پریشانی ہو۔ دریں اثناء درگاہ حضرتبل اور نشاط روڑ سے کئی لوگوں نے بتا یا ہے کہ نوجوان جن کی عمر 14سے20برس تک ہوگی یہاں آکر موٹر سائکلوں اور سیکوٹیوں پر کرتب بازی کرتے ہیں اگرچہ مقامی لوگوںنے کئی بار ایسے نوجوانوں کو اس سے باز رہنے کی تلقین کی تاہم وہ لوگوں کی بات سنی ان سنی کردیتے ہیں۔انہوںنے اس ضمن میں پولیس کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ اس طرح کے خطرناک سٹنٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔