عبدالعزیز
کلکتہ کو اردو صحافت میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہی شہر ہے جہاں سے اردو کا سب سے پہلا اخبار ’جام جہاں نما‘27؍مارچ1822ء کو نکلنا شروع ہوا۔ ’جام جہاں نما‘ ہفت روزہ اخبار تھا۔ یہ اخبار55سال تک نکلتا رہا۔ ’جام جہاں نما‘ کے اندازِ صحافت سے متاثر ہوکر اردو فارسی کے بعض نئے اخبارات نکالنے شروع ہوئے۔ اس طرح اردو اخباروں کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ ’جام جہاں نما‘ کے اجراء کے نوے سال بعد ’الہلال‘3؍جولائی 1992ء کو شائع ہوا۔مولانا ابوالکلام آزاد اس اخبار کے ایڈیٹر اور مالک تھے۔ اس سے پہلے مولانا بہت سے اخباروں میں کام کرچکے تھے اور اپنا بھی کئی اخبار نکال چکے تھے مگر مولانا کی صحافت کا یہ مشقی دور تھا۔ اس زمانے میں بھی مولانا کی شہرت ہندستان بھر میں پھیل چکی تھی۔ ان کی کمسنی کی وجہ سے بہت سے لوگ انہیں مولانا ابوالکلام آزاد کا بیٹا سمجھتے تھے۔’نیرنگ عالم‘ المصباح، تحفہ احمدیہ، لسان الصدق، جیسے معیاری پر چوں میں مولانا کی نگارشات کو پڑھ کر کسی کو بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ کوئی نوجوان ایسی چیزیں لکھ سکتا ہے یہ کہہ سکتا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت کے دور ارتقاء کاآغاز الندوہ کی سب ایڈیٹری سے ہوا۔ ’وکیل‘ امرتسر دورثانی پرختم ہوا ،مولانا کی صحافت دور عروج حقیقت میں الہلال کے اجراء سے شروع ہوا۔ الہلال کا پہلا شمارہ 13؍جولائی 1912ء کو نکلا جب مولانا ابوالکلام آزاد کی عمر 24سال سے بھی کم تھی۔یہ محض ایک ہفتہ وار اخبار نہ تھا بلکہ ایک دعوت اور ایک تحریک تھی ۔اسلام کو جس طرح انہوں نے سمجھا ،اسی رنگ میں اسے پیش کرنا شروع کیا۔ اسلام ان کے نزدیک ایک مکمل نظام حیات تھا جس میں دین و دنیا یا سیاست و مذہب کی دوئی نہ تھی۔ وہ علامہ اقبال کی طرح اس حقیقت کے قائل تھے ؎
جُداہو دین سیاست سے تورہ جاتی ہے چنگیزی
ہندستانی مسلمان سیاست سے دور ہوچکے تھے۔ سیاست کوشجر ممنوعہ سمجھنے لگے تھے علیگڑھ اسکول کی کانگریس دشمنی اور انگریز دوستی مسلمانوں کے دل و دماغ پر کچھ اس طرح چھائی ہوئی تھی کہ سیاست سے کنارہ کشی کو ہی ملت مسلمہ کے لئے مفید اور کار آمد سمجھتے تھے۔ مولانا آزاد سے پہلے کسی کو یہ ہمت نہیں ہوتی تھی کہ سرسید کی پالیسی کو جو1857کے غیر معمولی حالات کے نتیجے میں تھی، کھلم کھلا قصہ ٔپارینہ کہہ کر رد کردینے کی تلقین کرے۔الہلال نے مسلمانوں کی سیاست سے دوری کو اپنی ساری قوت سے فرسودگی اور بے مقصدیت بتانا شروع کیا۔ علامہ اقبال کی طرح مسلمانوں کو تعلیم دینے لگا ،؎ عصانہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد
اور پیغمبری اور جادوگری کافرق پورے طور پر واضح کرنے لگا ، ؎
دلبری بے قاہری جادوگری است
دلبری باقاہری پیغمبری است
’الہلال‘ کے ذریعہمولانا نے قرآن و سنت کی روشنی میں مسلمانوں کو بتایا کہ مومن کو اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ عمل صالح کریں اور پھر ادائے حقوق کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور چونکہ ادائے حقوق بغیر خلافت و سیاست کے ناممکن ہے اس لئے ضروری ہے کہ خلافت کو قائم اور باقی رکھنے کی دنیا بھر کے مسلمان کوشش کریں۔ مولانا نے نہایت دانائی اور حکمت سے بتایا کہ اخلاق انسانی کی سب سے زیادہ حسین شکل یہ ہے کہ وہ شجاعت اور نرم خوئی کا ایک دل آویز پیکر ہو۔مولانا ابوالکلام آزاد نے حق کے لئے اور حق کی پاسداری کیلئے سب کچھ قربان کردینے کی قرآنی تعلیمات سے مسلمانوں کو روشناس کرایا قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ کے غضب و انتقام کی بنیاد بھی یہی ہے کہ اس کو حق عزیز و محبوب ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ حق کو پامال کرتے ہیں ان پر اس کا قہر وغضب بھڑکتا ہے۔ جوشئے کسی کو عزیز و محبوب ہوگی کیا اسے وہ اس کی تحقیرو اہانت ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرے گا؟ اس کی حمایت کے لئے اس کی غیرت جوش میں نہیں آئے گی، ماں اپنے بچہ سے محبت کرتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ محبت تنہا نہیں ہوتی بلکہ اپنے ساتھ ایک مجنونانہ غیرت بھی رکھتی ہے اور جب وقت آتا ہے، ماں کو بچہ کی حمایت میں اپنے آپ کو قربان کردیتی ہے مومن خد کی خوشنودی اور محبت حق کی وجہ سے حق کی دفاع کے لئے سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ جان دے کر بھی وہ یہی کہتا ہے کہ ؎
جان دیدی دی ہوئی اس کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادانہ ہوا
مولانا کی اس تعلیم و تلقین سے جو رجحان کام کررہا تھا اور اس سے جو خطرناک نتائج پیدا ہوسکتے تھے اس سے انگریزی حکومت بے خبر نہ تھی لیکن چونکہ یہ ساری تعلیم دینی لباس میں پیش کی جارہی تھی اس لئے جواں سال مدیر کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے حکومت پرہیز کرتی تھی۔ بالآخر حکومت نے ستمبر 1913ء میں حادثۂ مسجد کانپور کے ہنگامے کے زمانے میںایک مضمون پر الہلال سے دو ہزار کی ضمانیت طلب کرلی جو الہلال کی طرف سے پیش کردی گئی۔ اگلے سال 1914ء میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوگئی۔ اب الہلال کے تیزو تند مضامیں حکومت کی نظر میں باغیانہ ٹھہرے۔ اسی زمانہ میں انگریزی اخبار پانیر(Pioneer) نکلتا تھا جو حکومت کے خیر خواہوں اور وفاداروں میں سے تھا۔ اس نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی کہ الہلال در پردہ جرمنی کاحامی ہے اور حکومت وقت اس کے باغیانہ رویہ سے چشم بوشی کرکے کوئی اچھی حکمت عملی کا نہیں اپنا رہی ہے۔ پانیر کی اس تنبیہہ کے بعد کیونکر ممکن ہوسکتا تھا کہ حکومت مولانا کی باغیانہ روش کو درگذر کردیتی ۔پانیر کی تنبیہہ اور تلقین کاحکومت پر یہ اثر ہوا کہ دو ہفتے بعد نومبر 1914ء میں حکومت نے دوہزار کی ضمانت ضبط کرلی۔ اس پر مولانا نے الہلال بند کردیا۔ الہلال کاآخری پرچہ 18؍نومبر1914ء کو شائع ہوکر بند ہوگیا۔
ایک سال بعد نومبر 1915ء کو مولانا نے ایک دوسرا پرچہ البلاغ کے نام سے جاری کیا۔ یہ الہلال کانقش ثانی تھا۔ یہ صرف نام کے لحاظ سے نیا اخبار تھا مگر اپنی شکل و صورت، مضامین و مواداور اسلوب و استدلال ہر لحاظ سے الہلال کی نمائندگی کررہا تھا۔ مولانا کے انداز فکر و تحریر میں کوئی فرق نہیں پیدا ہوا تھا بلکہ تیزی اور ترشی میں اضافہ میں ہوگیا تھا۔ حکومت اخبار کی جارحانہ اور باغیانہ تحریروں کو نظرانداز نہ کرسکی آخر کار 23؍مارچ1914ء کو حکومت بنگال نے انہیں ایک ہفتے کے اندر حدود بنگال سے باہر چلے جانے کاحکم صادر کردیا۔اس پر انہیں مجبوراً کلکتہ کو خیر آباد کہنا پڑا۔30مارچ کو کلکتہ سے نکلے۔ روانگی سے پہلے البلاغ کا پرچہ مرتب کرچکے تھے جس پر 3؍اپریل1914کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔مولانائے محترم کا خیال تھا کہ ان کی کلکتہ کی غیرموجودگی سے پرچے کی اشاعت پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ لیکن ان کا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ اس کو جاری رکھنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔
بنگال سے نکل کر اب انہیں بہار کے علاوہ کوئی اور جائے قرار نہ تھی۔مولانا نے کلکتہ سے نکل کر رانچی کے باہر ایک گائوں مورابادی میں پناہ لی۔تین ماہ بعد 8؍جولائی 1914ء کو حکومت نے وہیں رانچی میں ان کی نظر بندی کے احکام جاری کردئیے۔مولانا اپنا پرچہ الہلال تلوار کے سائے میں نکالتے رہے مگر حق گوئی اور بیباکی سے کبھی باز نہیں آئے۔ علامہ اقبال نے ایسے ہی مرد حق کے لئے کہا ہے ؎
آئیں جو انمردی حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
مولانا کی صحافت حق اور حسن ادب سے آراستہ تھی جس کی وجہ سے اس کے اثرات آج بھی قائم و دائم ہیں یہ دوسری بات ہے کہ جو لوگ صحافت کو محض پیشے کی حیثیت سے اپنائے ہوئے ہیں اور صحافت کو حق و صداقت کی آواز کے بجائے مالک کے اشارے اور کنایے کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں وہ مولانا آزاد کی صحافت سے نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی ایسی صحافت ان کو راس آسکتی ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے ایسے رفقاء کار تھے جو نہ صرف علم و ادب کے ستارے تھے بلکہ حق و صداقت کی نمائندہ شخصیتیں تھیں جو آج نایاب ہیں۔
مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبداللہ عمادی اور مولانا عبدالسلام ندوی کے علاوہ ابوسعید بزمی(1952ء–1910ء)، اختر شیرانی (1944ء-1905ء)، چراغ حسن حسرت (1955ء-1902ء)، شورش کشمیری (1975ء-1917ء)، رسول مہر(1971ء-1895ء)، قاضی عبدالغفار (1956ء-1889ء)، نصر اللہ خاں عزیز(1976ء-1892ء) اور نیاز فتح پوری (1944ء-1884ء) جیسے ادیب،شاعر، ناقد، صحافی، عالم و فاضل شخصیتیں مولانا کے رفقاء کار میں تھیں۔ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی ان میں مولانا کے سب سے زیادہ قریب تھے بلکہ مولانا کے سکریٹری تھے۔ مولانا کے آخری لمحوں تک ان کا ساتھ دیتے رہے۔ ’’آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی‘‘ کی ترتیب مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے دی ہے جس سے مولانا کی نجی زندگی کا علم عوام و خواض کو ہوا یا آج ہورہا ہے یہ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کا ملت اور انسانیت پر بڑاا حسان ہے کیونکہ مولانا آزاد اپنی ذاتی زندگی سے پردہ اٹھانے کے قائل نہیں تھے مگر مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی اپنی کوشش میں کامیاب ہی نہیں بلکہ پوری طرح کامیاب نظرآتے ہیں اللہ انہیں جزاء خیر عطا فرمائیے (آمین)
تحریک اسلامی کے راہ رو اور مولانا آزاد کے رفیق کارنصراللہ خاں عزیز مولانا کی صحافت پر کچھ اس طرح رقمطراز ہیں: ’’آج سے 30برس پیشتر جب ہندوستان کے مسلمان سیاست میں ساحرافرنگ سے شکست کھاکر ’’آمنا بالطاعوت‘‘ کانعرہ عجزو خود فراموشی بلند کرچکے تھے اور سرسید کی بتائی ہوئی راہ پر چل کر جبرو قوت کے سامنے سربہ سجود ہوچکے تھے، یکایک کلکتہ سے ایک رعد آساصدا بلند ہوئی جو یکایک تمام ہندوستان میں گونجی اور مدہوشوں کو ہوشوں کو ہوشمند اور سوئے ہوئوں کو بیدار کرگئی۔ یہ صداگمنام نوجوان کے ہونٹوں سے بلند ہوئی تھی۔ جو قلم اور زبان کی حیرت انگیز خدداد طوفان انگریزوں کے ساتھ ہندوستان کے شہر خموشاں پرچھاگیا تھا ، پورا ملک حیرت و استعجاب کے ساتھ اپنے دل سے سوال کرنے لگا تھا کہ بیسویں صدی میں یہ قم باذن اللہ کون پکاراٹھا، اور یہ احمد المکنی بابی الکلام دہلوی مدیر ’’الہلال‘‘ کون ہے جس کے کلام میں جادو، زبان میں سحر اور تحریر میں اعجاز ہے، جو زبان کی کاٹ سے غافل دلوں کی بستیوں کو الٹ دیتا ہے او ربھولے ہوئے حق کی طرف اس اعجاز کے ساتھ بلاتا ہے کہ جو اس کی بات کو سمجھتا ہے ۔ وہ بھی دیوانہ وار اس کی طرف دوڑتا ہے اور جو نہیں سمجھتا وہ بھی مبہوت ہوکر ادھرہی کی راہ لیتا ہے‘‘۔
نصر اللہ خاں عزیز کی نظم ’’امام الہند‘‘ مولانا سے عقیدت و ارادت کا خوبصورت مظہر ہے:
اے امام محترم! اے رہبر عالی مقام
علم و تدبیر و سیاست ہیں ترے در کے غلام
تیری تحریر و خطابت نازش اسلام ہے
تیرا ہر اک لفظ گویا پارۂ الہام ہے
عزم تیرا کوہ پیکر، حزم تیرا بے مثال
صدق تیرا بے عدیل اور عدل تیری لازوال
تچھ پہ کھولے حق نے رازو معنی ام الکتاب
فیض ہے روح القدس کا جس سے تو ہے فیضیاب
تو علم بردار ہے اسلام کی توحید کا
توامیں ہے اس صدی میں کرتبہ تجدید کا
مولانا کے رفیق اور اردو ادب کے صاحب طرز ادیب قاضی عبدالغفار صاحب مولانائے محترم کی صحافت پر کچھ اس طرح کااظہار خیال کرتے ہیں:’’مجھے تو اردو ادب میں کوئی دوسرا ادیب ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس شدت کے ساتھ اپنی انفرادیت کے تازیانے عوام کی ذہنیت پر مارے ہوں یا جس کے افکار کے پیمانہ میں عوام کا جمود اس قدر مایوس کن ثابت ہوا ہو۔ یا جس کااحساس عوام کے جمود سے اس قدر زیادہ مجروح ہوا ہو۔ جذبۂ صادق کے ان مظاہروں کی قوت سے انکار نہیں،لیکن مولانا کی مایوسیوں کاایک اور سبب بھی ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ امام کامنبر مقتدیوں کی سطح سے بہت اونچا ہے۔ ادیب و خطیب نے جس اونچے مینار پر کھڑے ہوکر نیچے میدان کے اس ہجوم پر نظرکی اس کے افراد بلندی کی وجہ سے بہت چھوٹے نظرآئے۔ اور یہ بلندی عوام کے افکار کی پستی تک نہ پہنچ سکی اور پہنچ بھی نہ سکتی تھی۔ اس طرح یہ گمان بھی کسی حد تک حقائق سے غیر متوازن نہیں کہ مولانا کی انفرادیت نے جوان کی اس کاخاصہ ہے انہیں عوامی زندگی سے زیادہ قریب کبھی نہ ہونے دیا۔ ان کے ذہنی اور وجدانی خلوت خانے کے دروازے عوام کے لئے کبھی پوری طرح نہ کھل سکے۔ مختصر یہ کہ جو چیز مولانا کی ’’جینیَس‘‘ (Ginus)کا طرۂ امتیاز ہے وہی ان کی زبان اور ان کے قلم سے ایک غمگین راگ بن کرنکلتی ہے‘‘ ۔(جاری)
موبائل۔9831439068
ای میل۔[email protected]