نئی دہلی// راجیہ سبھا کے سابق رکن ڈاکٹر کرن سنگھ نے مورخین پر جموں و کشمیر کے قیام اور توسیع میں ڈوگرہ فرقہ کے رول کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ ڈاکٹر سنگھ نے کل دیر شام ایک کتاب کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے قیام اور اس کی توسیع میں ڈوگرہ فرقہ کااہم رول رہا ہے لیکن مورخین نے ان کی بہادری اور قربانی کو مناسب مقام نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے سات دہائی گذر جانے کے بعد اب ایک ریاست کے طورپر جموں کشمیر کے عروج کا از سر نوجائزہ لینے کا وقت آگیا ہے ۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جموں کشمیر کے مسائل کے دیرپا حل کے لئے ریاست کے تینوں حصوں کشمیر' لداخ اور جموں پر یکساں طور پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے مسائل کا دیر پا حل اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں اور لداخ کو یکساں اہمیت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے جموں کشمیر کے اتار چڑھاو والے وقت اور شیخ محمد عبداللہ سے تال میل کرنے میں ڈاکٹر کرن سنگھ کی قیادت کی تعریف کی۔ اس موقع پر ہندوستان کے سابق چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے ہندوستانی سیاست میں اعلی معیار قائم کرنے کے لئے ڈاکٹر من موہن سنگھ اور ڈاکٹر کرن سنگھ کی تعریف کی ۔ انہوں نے کتاب کے کچھ اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کرن سنگھ نے اپنی ریاست کے لوگوں کو بچانے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لا ل نہرو سے بھی اختلاف کیا تھا ' جو قابل تعریف ہے ۔ جسٹس ٹھاکر نے کتاب 'ڈاکٹر کرن سنگھ: جموں اینڈ کشمیر' کے مصنف ہرونش سنگھ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہاکہ مصنف نے اس میں جہاں جموں پر خصوصی توجہ دی ہے وہیں مثبت خیالات کا بھی اظہار کیا ہے اس کے علاوہ کافی ریسرچ بھی کیا ہے ۔