یواین آئی
نئی دہلی// مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج نئی دہلی میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ ’’ ڈاکٹر آن وہیلز‘‘ شروع کی گئی ہے۔ اس انوکھے تجربے میں جدید ترین ٹکنالوجی کے آلات کا استعمال کیا گیا ہے جس کے تحت موبائل ٹیلی میڈیسن کلینک میں علاج کے لیے آنے والے مریض کی اچھی طرح جانچ کی جاتی ہے اور اس کے بعد ایک نظام قائم کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد اور بنگلورو جیسے میٹروپولیٹن شہروں کے معروف اسپتالوں کے متعلقہ سپر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں سے مشورہ حاصل کرکے اس کی شروعات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریض کا معائنہ کرنے اور ڈاکٹر کا نسخہ فراہم کرنے کا سارا عمل تقریباً 45 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے تاہم اگر مریض کو جسمانی طور پر اسپتال جانا پڑے تو اس میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ‘ڈاکٹر آن وہیلز’ اقدام کے استفادہ کنندگان میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈوڈہ، ہیرا نگر اور کٹھوعہ-بلاور خطوں میں کل 11,431 مستفید ہونے والوں میں سے 6,643 خواتین تھیں۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ فی الحال چوتھے مرحلے میں ادھم پور ضلع کے رام نگر بلاک کے بالائی علاقوں میں دور دراز کے ڈوڈو بسنت گڑھ میں بھی یہی دیکھا جا رہا ہے، جہاں 22 پنچایتوں کے تحت 56 دیہاتوں میں کل 1452 مستفید ہونے والوں میں سے 835 خواتین نے کلینک وین سے طبی مشورہ حاصل کیا ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ مریضوں کی تشخیص اور مشاورت کے پورے عمل میں بہت زیادہ لاگت آتی ہے، لیکن یہ رضاکارانہ ذرائع سے جمع ہونے والے فنڈز کے ذریعے ان کے حلقے میں مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جدید ترین، آرٹیفیشل انٹیلی جنس ( اے آئی) کی مدد سے ” آروگیہ ڈاکٹر آن وہیلس” ممکنہ طور پر اپنی نوعیت کا پہلا ٹیلی میڈیسن موبائل کلینک ہے جس کی اپنی خصوصیات ہیں۔