مینڈھر//مینڈھر میں کئی سال قبل منی سیکریٹریٹ کی عمارت کا کام شروع کیاگیاتھا جسے ہنوز مکمل نہیں کیاجاسکا۔حالت یہ ہے کہ یہ عمارت عدم توجہی کاشکار بن کرکھنڈرات کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اوراس کے ارد گرد والی اراضی پر لوگ آہستہ آہستہ قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ عمارت اوراس کے اردگرد کا علاقہ اسی طرح سے عدم توجہی کاشکار بنارہاتوبہت جلد لوگ ساری جگہ پر قبضہ کر لیں گے ۔ اس اہم پروجیکٹ کی تکمیل نہ ہونے پر مقامی لوگوں میں حکومت کے تئیں شدید غم وغصہ پایاجارہاہے ۔شوکت علی خان، معروف مغل اورخورشید احمد کا کہنا ہے کہ کئی سال گزر چکے ہیں مگر منی سیکریٹریٹ کی عمارت کا کام مکمل نہیں ہوا۔انہوںنے بتایاکہ دو منزلہ عمارت کو لینٹر کے بعد اسی طرح سے چھوڑدیاگیاہے اورآخری مرحلے کا کام کئی سال سے رکا پڑا ہے جس کی وجہ سے عمارت کھنڈرات کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ انہوں نے موجودہ سرکار سے اپیل کی کہ فوری طور عمارت کاکام مکمل کرنے کے لئے رقومات واگزار کی جائیںتاکہ یہ کام جلد ہوسکے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عمارت کے ارد گرد بچی ہوئی جگہ کی چارد یواری کی جائے اور اسے ناجائز قبضہ سے بچانے کیلئے ایک پارک تعمیر کی جائے جہاں لوگ آرام کرسکیںگے ۔انہوںنے ساتھ ہی گاڑیوں کیلئے پارکنگ بنانے کی بھی مطالبہ کیا ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اگر عمارت کاکام مکمل نہیں ہواتو بچی ہوئی جگہ پر بھی ناجائز قبضہ ہوجائے گا۔ان کاکہناہے کہ سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے لوگوں نے جگہ کی الاٹ منٹ کروائی ہوئی ہے لہٰذا اس الاٹ منٹ کوفوری طور منسوخ کیا جائے اور اسے عوامی مفاد کے استعمال میں لایاجائے ۔انہوںنے ڈپٹی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد سے اپیل کی کہ وہ اس پروجیکٹ کو جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایات جاری کریں اور زمین کو ناجائز قبضہ سے بچایاجائے۔