منفی پولیس رپورٹ کانتیجہ

سرینگر//سابق مرکزی وزیرداخلہ اوردوبارجموں کشمیر کے وزیراعلیٰ رہ چکے مرحوم مفتی محمدسعید کی اہلیہ گلشن نظیر کوپولیس کے منفی  رپورٹ کی وجہ سے پاسپورٹ دینے سے انکار کیا گیا ہے۔ان کی بیٹی محبوبہ مفتی کی پاسپورٹ کے حصول کی درخواست پہلے ہی رد کی جاچکی ہے اور پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے جموں کشمیر ہائی کورٹ سے پاسپورٹ کے حصول کیلئے رجوع بھی کیاتھا لیکن ان کی عرضی سوموار کو خارج کی گئی۔ پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ اعلیٰ رہنمائوں کے مطابق ماں بیٹی نے گزشتہ برس دسمبر میں عمرہ انجام دینے کیلئے پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے درخواست دی تھی۔نظیر کو بھیجے گئے ایک مکتوب کے مطابق ،علاقائی پاسپورٹ افسر نے انہیں مطلع کیا ہے کہ سی آئی ڈی نے پاسپورٹ کیلئے ان کی عرضی کو پاسپورٹ قانون کی دفعہ6کی شق(c)(2) کے تحت ہری جھنڈی نہیں دکھائی۔اس دفعہ کے تحت حکام پاسپورٹ دینے سے اس بناپرانکار کرتے ہیں کہ درخواست دہندہ کوپاسپورٹ دینے سے ملک کی سالمیت اور یکجہتی کو ان کے ملک چھوڑنے سے زک پہنچ سکتا ہے اوریہ ممکنہ طورملک کی سیکورٹی کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔اس دفعہ کے تحت ایک عرضی گزار کو پاسپورٹ دینے سے انکار کیا جاتا ہے اگر یہ محسوس ہو کہ بیرون ملک درخواست دہندہ بھارت کے کسی بیرونی ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کوزک پہچاسکتا ہے۔اس دفعہ کے تحت پاسپورٹ اس لئے بھی نہیں دیا جاسکتااگر حکومت ہند کی رائے میں عرضی گزار کوپاسپورٹ دینامفادعامہ میں نہیں ہوگا۔قانون کے تحت پاسپورٹ کی اجرائی کو دیگر وجوہات کی بناپربھی رد کیاجاسکتا ہے جن میں عرضی گزار کے سزایافتہ ہونے یااس کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ زیرسماعت ہویا کوئی سمن زیرالتواء ہو۔لیکن گلشن نظیر کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے کیوں کہ وہ سابق مرکزی وزیرداخلہ مفتی محمدسعید کی اہلیہ رہ چکی ہیں اور ان کے خاوندجموں کشمیر کے وزیراعلیٰ دومرتبہ بھی رہ چکے ہیں ۔ مکتوب میں نظیر کو پاسپورٹ افسر نے بتایا ہے،’’آپ کی پاسپورٹ کی اجرائی کیلئے درخواست کورد کیا جاتا ہے‘‘۔محبوبہ مفتی نے ایک ٹوئٹ میں کہا،’’پاسپورٹ افسر نے ان کی والدہ کی پاسپورٹ کی اجرائی کیلئے درخواست کو رد کیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا،’’سی آئی ڈی کا دعویٰ ہے کہ میری والدہ جوستر سال سے زیادہ عمر کی ہیں،قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے اور اس لئے پاسپورٹ کی مستحق نہیں ہیں ۔حکومت ہندمجھے ہراساں کرنے اورسزادینے کیلئے نامعقول طریقے کام میں لارہی ہیں کیوں کہ میں نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا۔محبوبہ کاپاسپورٹ بھی اسی دفعہ کے تحت ردکیاگیاتھا اور جموں کشمیرہائی کورٹ میں ان کی عرضی کو بھی خارج کیاگیاتھا۔جسٹس علی محمدماگرے نے ان کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے کہاتھا کہ محبوبہ کی عرضی کوپاسپورٹ افسر نے مسترد کیاتھا کیوں کہ پولیس کی جانچ رپورٹ میں انہیں پاسپورٹ نہ دینے کی سفارش کی گئی تھی۔انہوں نے اپنے حکم میں کہاتھا،’’ایسے حالات میں میری رائے ہے کہ عدالت عرضی گزار کے حق میں پاسپورٹ جاری کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتی۔اپنی عرضی کے رد ہونے پرمحبوبہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ اس سے عیاں ہے کہ کشمیر میں کس حد تک معمول کے حالات بحال ہوئے ہیں ۔