بلال فرقانی
سرینگر//جموں کشمیر میں نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے ایک جامع حکمت عملی متعارف کرائی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف نشے سے متاثرہ افراد کی صحت یابی اور معاشرتی دوبارہ شمولیت کو یقینی بنانا ہے بلکہ انہیں ہنر مندی، روزگار اور تعلیمی مواقع بھی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ سماج میں باعزت طور پر واپس شامل ہو سکیں۔ نئی پالیسی کے تحت متاثرہ افراد کیلئے ایک مکمل بحالی فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس میں کونسلنگ، معاشرتی رہنمائی، ہنر مندی کی تربیت، روزگار کے مواقع، اور بعد از نگہداشت مانیٹرنگ شامل ہیں۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو مستقل حمائت فراہم کرنا اور انہیں دوبارہ نشے کی طرف جانے سے روکنا ہے۔ حکومتی اقدامات نشہ مکت بھارت ابھیان اور دیگر قومی سطح کی مہمات کے اہداف کے مطابق ترتیب دئے گئے ہیں۔ اس حکمت عملی کے ذریعے موجودہ بحالی مراکز، کمیونٹی حمائت اسٹرکچر اور اسکول و کمیونٹی کی سطح پر فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا گیا ہے، تاکہ کمیوں کی نشاندہی کی جا سکے اور معیاری بحالی خدمات فراہم کی جا سکیں۔ نوجوانوں کیلئے عمر کے مطابق ہنر مندی کے پروگرام، خصوصی تربیتی ماڈیولز اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ وہ معاشرت میں مستحکم رہ سکیں۔نجی شعبے اور معاشرتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے روزگار، خود روزگاری اور اسٹارٹ اپ کی حمایت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، سکول ڈراپ آؤٹس کو کم کرنے اور خطرے سے دوچار بچوں کیلئے معاون ماحول پیدا کرنے کی بھی حکمت عملی شامل ہے۔ ایک جدید ’پوسٹ کیئر مانیٹرنگ سسٹم‘ بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو متاثرہ افراد کی بحالی، روزگار، سماجی شمولیت اور دوبارہ نشے کی طرف جانے کے امکانات کی مسلسل نگرانی کرے گا۔حکومت کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف منشیات سے متاثرہ نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے بلکہ وادی میں صحت مند، تعلیم یافتہ اور ہنر مند معاشرت کے قیام کی طرف ایک اہم قدم بھی ہے۔ اس ٹاسک فورس کی کمان محکمہ داخلہ کے انتظامی سیکریٹری کو سونپی گئی ہے جبکہ محکمہ خزانہ ،عمومی انتظامی محکمہ، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ فروغ ہنر،محکمہ محنت و روزگار اور محکمہ تعلیم کے انتظامی سیکریٹریوں کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل محکمہ اقتصادیات و شماریات، اور ڈائریکٹر کالجز جموں و کشمیر ممبران کے طور پر شامل ہیں۔