منتخب حکومت کوجنگل راج کہناافسوسناک:ہانجورہ

 سری نگر//پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے یوم آزادی کے موقعے پر جموں و کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا کے اُس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر میںجنگل راج ختم ہوا ہے ۔انہوں نے کہا جو بھی سرکار آج تک وجود میں آئی ہے اس کو جمہوری طریقے سے لوگوں نے چنا ہے ۔ کے این ایس کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے پیر کے روز 15اگست کو لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے یہاں کی حکمرانی کو جنگل راج کا نام دینے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔پارٹی سینئر لیڈر غلام نبی ہانجورہ نے بتایا یہاں آج تک جو بھی سرکار وجود میں آئی ، اسے لوگوں نے جمہوری طریقے سے بنایا ہے اور اُسے جنگل راج کہنا افسوس کا مقام ہے ۔ ہانجورہ نے کہا ہندوستان میں بھی لوگوں نے جمہوری طریقے سے موجودہ حکومت کو چنا ہے کیا پھر اس کو بھی جنگل راج کا نام دیا جا سکتا ہے ؟ہانجورہ نے کہا پی ڈی پی کبھی بھی ترنگے کے خلاف نہیں تھی اور نہ ہوگی تاہم پارٹی ہیڈ کواٹروں پر ترنگا لہرانے کی یہاں کوئی روایت نہیں رہی ہے ۔ انہوں نے کہا جہاں پارٹی کے ڈی ڈی سی  ممبریا بی ڈی سی ممبر شرکت کرنے کے لئے جانا چاہتے ہیں انہیں وہاں جانے سے روک دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ شوپیان میں ان کے ڈی ڈی سی ممبر اعجاز احمد کو 15اگست کی تقریب میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ پلوامہ اورجموں سمیت وادی کے کئی مقامات پر پی ڈی پی کے ڈی ڈی سی ممبران نے ترنگا لہرایا ۔ایک سوال کے جواب میں ہانجورہ نے کہا کہ ہمار بھی ایک اپناجھنڈا تھا جس کو اس سرکار نے ہٹایا۔  انہوںنے مطالبہ کیا کہ دفعہ370.  اور35Aکے علاوہ ہمارے جھنڈے کو واپس کیا جائے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب  میںکہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں انتخابات منعقد ہواور عوامی سرکار منتخب کی جائے۔ان کا کہنا تھا حدبندی  کے بغیر ایسا نہیں ہوگا اور اس کے بغیر بھی انتخابات ہو سکتے ہیں۔ْانہوں نے کہاکہ ہمار موقف ہے کہ عوامی سرکار ہونا لوگوں کے درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے بہت ضروری ہے ۔