عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// مرکزی وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باوجود بھارت میں ایندھن کی فراہمی مکمل طور پر مستحکم ہے اور حکومت نے ایل پی جی کی یومیہ پیداوار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔سی آئی آئی سالانہ بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے ایل پی جی کی یومیہ پیداوار کو 35 سے 36 ہزار ٹن سے بڑھا کر 54 ہزار ٹن یومیہ تک پہنچا دیا ہے تاکہ عالمی بحران کے اثرات سے ملک کو محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھارت کے پاس 69 دنوں کے لیے خام تیل اور ایل این جی کا ذخیرہ جبکہ 45 دنوں کے لیے ایل پی جی کا اسٹاک موجود ہے، اس لیے عوام کو کسی قسم کی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کفایت شعاری اور ایندھن کے محتاط استعمال کی اپیل کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث عالمی معیشت اور سپلائی چین دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے بھارت کو بھی مالی بوجھ کم کرنے کے لیے متبادل اقدامات پر توجہ دینی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے عوام سے پٹرول اور ڈیزل کے غیر ضروری استعمال میں کمی، میٹرو ریل اور کار پولنگ کے زیادہ استعمال، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے اور گھروں سے کام (ورک فرام ہوم) جیسی عادات اپنانے کی اپیل کی ہے تاکہ قیمتی زرمبادلہ محفوظ رکھا جا سکے۔ہردیپ سنگھ پوری نے بتایا کہ حکومت ملک کو توانائی کے بحران سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایل پی جی، سی این جی اور پائپ گیس کے دائرے کو وسعت دی جا رہی ہے جبکہ ریلوے اور صنعتی شعبوں میں بھی ڈیزل کے استعمال کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ خطاب میں عوام سے ایک سال تک سونے کی غیر ضروری خریداری اور غیر ضروری بیرون ملک سفر مؤخر کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا اور عالمی بحران کے اثرات سے معیشت کو بہتر انداز میں محفوظ رکھا جا سکے گا۔