یو این آئی
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے ایندھن کے استعمال میں کمی اور کفایت شعاری کی اپیل کے چند روز بعد اپنے سرکاری قافلے (convoy) کے سائز میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ اس اقدام کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کئی وزرائے اعلیٰ نے بھی اپنے سرکاری گاڑیوں کے بیڑے میں کمی کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔مرکزی وزراکے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سرکاری اور وزارتی قافلوں میں 50 فیصد کمی کی ہدایت جاری کی ہے اور شہریوں سے بھی ایندھن کی بچت اور غیر ضروری سونے کی خریداری سے گریز کی اپیل کی ہے۔دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بھی وزرا، ایم ایل ایز اور عوامی نمائندوں کے سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے دہلی کے شہریوں سے کارپولنگ اور میٹرو و بسوں کے زیادہ استعمال کی بھی اپیل کی۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے بھی اپنے قافلے میں گاڑیوں کی تعداد کم کرنے اور غیر ضروری گاڑیوں کے استعمال سے گریز کی ہدایت دی ہے۔گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے بھی وزیر اعظم کی اپیل کے بعد اپنا امریکہ کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنی سرکاری گاڑیوں کی تعداد آدھی کر دی ہے اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں گے۔ بہار کی دو دیگر وزرا لیشی سنگھ اور شیلا منڈل نے بھی کفایت شعاری کے اقدامات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکہ-ایران کشیدگی سے پیدا ہوئے بحران کے درمیان وزیر اعظم مودی نے باشندگان ملک سے مل کر عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹ اور افراط زر کے دباؤ کا سامنا کرنے کی اپیل کی تھی۔اخراجات میں کٹوتی کی یہ مہم اب کئی صوبوں میں دکھائی دے رہی ہے۔ آشیش سود نے منگل کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حالیہ اپیل پر عمل کرتے ہوئے سرکاری دورے کے دوران عوامی اور برقی ٹرانسپورٹ کا استعمال کیا۔ مشرقی دہلی میں اسکول سربراہان سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے سود نے پہلے دہلی میٹرو میں سفر کیا، اور بعد میں ٹریفک جام کا سامنا ہونے پر الیکٹرک رکشہ استعمال کیا۔
ہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بدھ کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی کفایت شعاری کی اپیل کو مثبت انداز میں دیzکھا جانا چاہیے اور ان کی حکومت نے خاص طور پر زرمبادلہ کی بچت سے متعلق تجاویز پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ امریکہ-ایران کشیدگی سے پیدا ہوئے توانائی بحران اور خام تیل کی اونچی قیمتوں کے درمیان وزیر اعظم مودی نے اتوار کو باشندگان ملک سے مل کر عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹ اور افراط زر کے دباؤ کا سامنا کرنے کی اپیل کی تھی۔