سرنکوٹ// ضلع پونچھ کے معروف شاعر مستور شادؔ طویل علالت کے بعد جمعہ کو انتقال کرگیا ۔وہ نہ صرف ایک بہترین شاعر تھے بلکہ ایک خوش اخلاق اور با کردار شخصیت کے مالک بھی تھے جوطویل علالت کے بعد اپنے معبو دحقیقی سے جا ملے ۔ مرحوم نہایت ہی مخلص انسان تھے ۔مرحوم اپنے پیچھے دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے ہیں۔لواحقین کے مطابق نماز صبح سے فارغ ہونے کے بعدمرحوم نے تلاوت قرآن پاک کی اوراسی کے ساتھ دم توڑ گئے ۔وہ محکمہ بھیڑ پالن میں ملازم تھے ۔ انہوں نے اپنی شاعری میںجہاں بہترین غزلیں کہیں وہی جذبہ ایمانی کے ساتھ نعت کا نذرانہ بھی سرکار دوعالم کے حضور پیش کیا۔ وہ اردو اور پہاڑی زبانوں کے شاعر تھے ۔ مرحوم کی نماز جنازہ عید گاہ سرنکوٹ میں ادا کی گئی جس میں ضلع پونچھ اور راجوری سے بڑی تعداد میںلوگوں نے شرکت کی۔انہیںآبائی قبرستان ایئر فیلڈ سرنکوٹ کے پاس سپرد خاک کردیاگیا۔مرحوم کے انتقال پرپونچھ کی ادبی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیاہے ۔سلیم قریشی نے کہا کہ مستور شادؔ کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ پورا ہونا ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ اللہ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔ کلچرر آفیسرعلمدار عدم نے بھی مرحوم کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنا غم بتا نہیں سکتے اوردکھ کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔