پونچھ//ریاست میں اردو کے نامور شاعر، محقق اور استاد و شاعر پونچھ محمود الحسن کو ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کردیاگیا ۔وہ گزشتہ روز 82سال کی عمرمیں اپنی رہائش گاہ محلہ کھوڑی ناڑ میں وفات پاگئے اور انہیں سپرد خاک بھی آبائی علاقے میں ہی کیاگیا ۔ان کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوںنے شرکت کی ۔وہ پونچھ کے معروف خانوادہ پیراں دِیتا کے چشم و چراغ تھے ۔مرحوم معروف ادیب چراغ حسن حسرت کے بھانجے بھی تھے۔ ان کی پوری زندگی پونچھ میں بسر ہوئی۔ وہ اردو کے کئی ادبی جرائد کے مدیر رہے۔ انہیں شاعر پونچھ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں فجر جمیل و متاعِ خیال سرفہرست ہیں۔مرحوم نے ذاتی زندگی میں بڑے دکھ جھیلے ۔ان کے چھوٹے بھائی سجاد، مسعود الحسن مسعود، دو چھوٹی بہنیں اور جوان بیٹاپہلے ہی انتقال کرگئے جبکہ چھ دن قبل ہی ان کی اہلیہ کا انتقال بھی ہوگیاتھا۔مرحوم کا پورا خاندان پاکستانی زیر انتظام کشمیر ہجرت کر گیاتھا جس کی جدائی بھی ان کی زندگی میں بہت بڑی پریشانی تھی ۔مرحوم کی دو بیٹیاں ہیں جن کی شادی ہوچکی ہے ۔ مرحوم نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی آبیاری کی ۔ان کی وفات پر پونچھ کی سیاسی و سماجی تنظیموں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔