نئی دہلی/راجیہ سبھا نے معدنیات اور کانکنی کے حقوق کو آسان اور شفاف بنانے اور شعبہ میں ہونیوالی باضابطگیوں کو روکنے والے ‘معدنیات اور کان کنی (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی بل 2021’کو پیر کو صوتی ووٹ سے منظور کردیا۔اس کے ساتھ ہی اس بل پر پارلیمنٹ کی مہر لگ گئی۔ لوک سبھا اسے پہلے ہی منظورکرچکی ہے ۔ کانگریس سمیت اہم اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کی مانگ کی اور اس پر سنجیدہ تبادلہ خیال ضروری بتایا لیکن حکومت نے اسے خارج کردیا۔ اس بل سے کانکنی اور معدنیات (ڈیولپمنٹ اینڈریگولیشن) ایکٹ 1957میں ترمیم کی گئی ہے ۔کوئلہ اور کانکنی کے وزیر پرہلاد جوشی نے بل پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بل کو منظور کرنے کا مقصد معدنیات اور کوئلہ کانکنی حقوق کی نیلامی کے عمل کی تجدید، مزید شفاف بنانا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے ۔مسٹر جوشی نے کہا کہ جہاں معدنیات ہے وہاں کانکنی کی اجازت علاقہ کو ہی دی جائے گی۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ کانکنی کی اجازت کسی شخص کو کسی بھی سطح پر نہیں ملے گی بلکہ اجازت علاقہ کو دی جائے گی۔ اس قانون سے ریونیومیں اضافہ ہوگا، مقامی سطح پر کوئلہ کمیٹیوں میں ایم پی کو اہمیت ملے گی اور کوئلے کی غیرقانونی کانکنی اور کوئلہ چوری پر روک لگانے کا التزام ہے ۔ ان کاکہنا تھا کہ غیرقانونی کانکنی کو روکنے کا کام ریاستی حکومت کا ہے اور اس بارے میں مسلسل ریاستی حکومتوں سے مرکزی حکومت کی طرف سے مسلسل درخواست کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس بل کے قانون میں تبدیل ہونے کے بعد مرکزی حکومت ڈسٹرکٹ منرل فاونڈیشن کی طرف سے چلائے جارہے فنڈ کے ڈھانچہ اور استعمال کے لئے رہنما ہدایات جاری کرنے کی مجاز ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اتنا ہی نہیں اس قانون کا مقصد معدنیات شعبہ کی مکمل صلاحیت کوبروئے کار لانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور اس میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے ۔ اس سے ریاستوں کو ملنے والے ریونیو میں کافی اضافہ ہوگا۔ یو این آئی۔