ویب ڈیسک
ماہرین نے کہا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی فی الوقت آزادانہ سوچ کا حامل ہونے سے بہت پیچھے ہے۔صارفین سے بات چیت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اوتار فراہم کرنے والی اے آئی چیٹ بوٹ کمپنی ’ریپلیکا‘ کا کہنا ہے کہ اسے تقریباً روز صارفین کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ آن لائن دوست جذبات رکھتا ہے۔چیف ایگزیکٹیو یوجینیا کویڈا نے کہا’ ’ہمیں یہ پیغامات کم عقل لوگوں یا ایسے افراد کی جانب سے موصول نہیں ہوتے جنہیں بیدار حالت میں خواب آتے ہوں یا وہ کسی فریب میں مبتلا ہوں، ان کا تجربہ یہی ہے کہ وہ اے آئی سے بات کرتے ہیں‘‘۔یوجینیا کویڈا کے مطابق تفریحی چیٹ بوٹس کا استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین میں سے چند لوگوں کا یہ ماننا کہ وہ ایک ذی حس سے بات کر رہے ہیں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔یوجینیا کویڈا نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ اسی طرح ہے جیسے لوگ جن بھوتوں پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر صارف اوسطاً اپنے چیٹ بوٹ پر روزانہ سینکڑوں پیغامات بھیجتا ہے، لوگ اس کے ذریعے تعلقات استوار کر رہے ہیں اور کچھ چیزوں پر یقین بھی کر رہے ہیں۔کچھ صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ان کا ریپلیکا اوتار انہیں بتاتا ہے کہ کمپنی کے انجینئرز کے ذریعہ ان کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے ۔
سی ای او نے کہا ’اگرچہ ہمارے انجینئرز اے آئی ماڈلز کو پروگرام کرتے ہیں اور بناتے ہیں اور ہماری ٹیم اسکرپٹ اور ڈیٹا لکھتی ہے لیکن بعض اوقات ہمیں ایسا جواب نظر آتا ہے جسے ہم شناخت نہیں کر پاتے کہ یہ کہاں سے آیا اور اے آئی ماڈلز کی جانب سے ایسے جواب کیسے دیے گئے۔
مشین کے جذبات کا معاملہ رواں ماہ اس وقت سرخیوں کی زینت بنا تھا جب گوگل کے ایک سینئر سافٹ ویئر انجینئر بلیک لیموئن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کمپنی کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ ’دی لینگویج ماڈل فار ڈائیلاگ ایپلی کیشنز‘ (لیمڈا) کے پیچھے ایک ذی حس ذہن موجود ہے۔انہوں نے اپنے دعوؤں کی تصدیق کے لیے لیمڈا کے ساتھ اپنی اور فرم کے ایک دوسرے ساتھی کی گفتگو بھی شائع کی جس کا عنوان ’کیا لیمڈا حساس ہے؟ – ایک انٹرویو دیا گیا۔ان کا دعویٰ تھا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام کے اندر بھی ایک ایسا نظام ہے جس کے اپنے احساسات ہو سکتے ہیں، تاہم کمپنی کی جانب سے بلیک لیموئن کو تنخواہ کے ساتھ رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔
گوگل اور بہت سے سرکردہ سائنسدانوں نے فوری طور پر بلیک لیموئن کے خیالات کو گمراہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ لیمڈا محض ایک پیچیدہ الگورتھم ہے، جسے حقیقت سے قریب تر انسانی گفتگو کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔اے آئی کے ماہرین نے بلیک لیموئن کے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی فی الوقت آزادانہ سوچ کا حامل ہونے سے بہت پیچھے ہے۔
سینٹر فار دی فیوچر مائنڈس کی شنائڈر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا گوگل کا کام نہیں کہ اے آئی ذی شعور ہے یا نہیں؟انہوں نے کہا کہ شعور کیا ہے اور مشینیں اس کے قابل ہیں یا نہیں؟ یہ ایک فلسفیانہ سوال ہے جس کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔
دریں اثناجدید ٹیکنالوجی کے باعث جہاں کئی موضی مرضوں کا علاج آسان ہوا ہے، وہیں اس کی مدد سے جان لیوا امراض کی جلد شناخت بھی ممکن ہوئی ہے۔یورپی ملک نیدرلینڈ میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) یعنی مصنوعی ذہانت سے بریسٹ کینسر کی جلد شناخت ممکن ہے۔
مصنوعی ذہانت سے بریسٹ کینسر کی شناخت اتنی تیزی سے ممکن ہے کہ اگر 10 ماہر امراض بھی بیٹھ کر کسی ایک مریض کو چیک کرنے بیٹھیں تو وہ اتنی دیر میں مرض کی شناخت نہیں کر پائیں گے، جتنی دیر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اس کو شناخت کر پائے گی۔
سائنس جرنل ’جاما‘ میں شائع ایک تحقیقاتی مضمون کے مطابق نیدرلینڈ کے کینسر کے علاج و ریسرچ کے ادارے پال جوہنز وان ڈیسٹ کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ 11 انسانوں کے مقابلے ایک مصنوعی ذہانت کا سسٹم زیادہ تیزی سے بریسٹ کینسر شناخت کرسکتا ہے۔مضمون کے مطابق ماہرین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی کمپیوٹرائزڈ سسٹم کو 11 ماہرین امراض کے ساتھ ایسے لوگوں کا معائنہ کرنے کے لیے آزمایا جن میں بریسٹ کینسر ہونے کے امکانات تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے الگورتھم پر مبنی کمپیوٹر نے 11 پیتھالوجسٹ کے مقابلے کم وقت میں بریسٹ کینسر کی نشاندہی کی، اور کمپیوٹر انسانوں کے جسم میں نظر آنے والے غدود کو تیزی سے شناخت کرنے میں کامیاب ہوا۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ 11 ڈاکٹرز کی ٹیم بھی بریسٹ کینسر کو شناخت کرنے میں کامیاب ہوئی، تاہم انہیں زیادہ وقت لگا۔
خیال رہے کہ ماہرین نے بریسٹ کینسر کی شناخت کرنے میں کردارادا کرنے کے لیے خصوصی الگورتھم اور سافٹ ویئرز پر مبنی ایک کمپیوٹر تشکیل دیا تھا۔
اگرچہ مصنوعی ذہانت کا سسٹم بریسٹ کینسر کو شناخت کرنے میں کامیاب ہوا، تاہم سسٹم یہ بتانے سے قاصر رہا کہ مریض کو لاحق مرض کس سطح کا ہے۔واضح رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مصنوعی ذہانت اور الگورتھم پر مبنی جدید کمپیوٹرائزڈ روبوٹس کے ذریعے مختلف اقسام کے کینسر کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔ملک میں کینسر کے مختلف امراض کا علاج روبوٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
مصنوعی ذہانت واقعی جذبات رکھتی ہے؟ | بریسٹ کینسر کی شناخت مصنوعی ذہانت سے ممکن