5؍ اگست2019ء کے بعد دلی سے لے کر کشمیر تک جس نعرے نے سب سے زیادہ ہلہ مچائے رکھا ہے اور جو ہر کسی کے وردِ زبان ہے ، وہ ’’جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی‘‘ اور’ ’نوجوانوں کیساتھ استحصال کے دور کا خاتمہ‘‘ کا نعرہ تھا ۔ آج بھی ان نعروں کو اس انداز سے لگایا جارہا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی بنیادی وجہ بظاہریہی نعرے نظر آرہے ہیں۔ ان نعروں کے بیچ ایک سال ہونے کو ہے، لیکن سوال کیا جا سکتا ہے کہ کہاں ہے وہ ترقی اور کہاں ہے وہ نوجوانوں کیساتھ ظلم و استحصال کے دور کا خاتمہ؟
سیاسی تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیں اس بات پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ عرصہ دراز سے کشمیر کا نوجوان طرح طرح کے چیلنجز سے اَز خود نمٹ رہا ہے۔ لیکن اس وقت کی صورتحال اُس کے لیے نہایت ہی بھیانک ہے۔ ان حالات میں اسے نہ آگے کوئی امید کی کرن دکھائی دے رہی ہے نہ ہی کوئی امیددلانے والا شخص۔ امید کی جارہی تھی کہ حکمران طبقہ اپنے وعدوں پر سنجیدہ ہو کے کشمیر کے نوجوانوں کی آرزئوں کو سمجھ لے گا، لیکن کشمیر کے بدنصیب نوجوان کے سرہانے ابھی تک کوئی دلاسہ دینے والا بھی نہیں آیا ہے ۔
کشمیر کا نوجوان جب اپنے آس پاس کے ماحول کو دیکھتا ہے تو اُسے دھواں ہی دھواں نظر آرہا ہے۔اپنے اندر وہ کئی ساری الجھنوں سے جوجھ رہا ہے۔ بظاہر ہمارے سامنے وہ ہشاش بشاش نظر آرہا ہے، لیکن عزت نفس کی خاطر اپنے اندر جن طوفانی موجوں سے وہ لڑ رہا ہے ، وہ کسی کو کچھ بتا نہیں پا رہا ہے۔ اُسے یہ معلوم ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، باقی ممالک کے نوجوان کس طرح اپنے سماج میں ایک عزت و آبرو والا مقام جی رہے ہیں ۔ وہاں کے نوجوانوں کو کن کن مراعات سے مستفیض کیا جارہا ہے، وہاں کے نوجوانوں کو قوم کا لیڈر مانا جاتا ہے، اس لیے اُن کی خاطر خواہ دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ اُن کی تعلیم پر ، اُن کی تربیت پر، اُن کے روزگار پر ایک سے بڑھ کر ایک منصوبے بنائے جارہے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میںکشمیر کے نوجوان کو تنگ آمد بہ جنگ آمد کے عالم میں دھکیلا جارہا ہے ۔
لیکن یہ دھواں، جس کے عالم میں ہمارا نوجوان سرگردان ہے ،شاید ہمارے سماج اور ارباب اقتدار کو نظر نہیںآرہا ہے۔ سماج کے حساس طبقے سے التماس ہے کہ براہ کرم اپنے نوجوانوں سے بات کریں۔ ان کے اندر کے حال کو جاننے کی کوشش کریں ۔ ہمارا نوجوان سوال کر رہا ہے کہ آخر میں نے کون سی خطا کی جو اُسے اتنی سخت سزائیں دی جارہی ہیں ؟ ۔آپ نے بولا کہ اپنے والدین کی تعظیم کرو، سو ہم نے کر کے دکھائی، آپ نے اپنے اساتذہ کا کہنا ماننے کے لیے کہا، سو اُن کے بھی ہم مطیع رہے، آپ نے پُر آشوب حالا ت میں امن و قانون کا پالن کرنے لیے بولا، سو ہم نے وہ بھی کیا، آپ نے روزگار حاصل کرنے کے لیے جتنے بھی پیمانے رکھے، ہم نے ان سب کو پار کر لیا، ہم نے نہ چوری کی نہ بدچلنی کی، نہ بد اخلاقی کی، نہ بد کرداری کی، ہم نے اپنے سماج کے تمام پیمانوں کا آمنا صدقنا کیا۔ ان تمام پیمانوں کو پار کرنے کے بعد اب ہم ایک نئی زندگی میں جارہے ہیں، جہاں پر آپ کے سہارے کی ضرورت تھی، لیکن ہماری ضرورتوں کو اس طرح نظر انداز کیا جارہا ہے جیسے کہ ہم اس دھرتی کے باسی ہیں ہی نہیں۔
اپنی زُوّج کو چننا ہر ایک انسان کا بنیادی حق ہے اور اِسے ہر مذہب و قانون نے تسلیم کر لیا ہے۔ لیکن سماج کے خود ساختہ پیمانوں پر ہم اُتر ہی نہیں پارہے ہیں۔ آپ نے بر سرِ سرکاری روزگار ہونے کو سب سے اول نمبر دے رکھا ہے۔ کیا بر سرِ روزگار نہ ہونے کا مطلب زندگی بھر کنوارارہنا ہے؟ کیا اس دنیا میں صرف سرکاری نوکر ہی زندگی بسر کر رہے ہیں؟ باقی ذرائع سے کمائی گئی آمدنی کیا آپ کو پسند نہیں ہے؟ کیا فطرت سے زیادہ سرکار طاقت ور ہے؟ خدارا! اِن سخت پیمانوں پر نظر ثانی کریں، ورنہ نہ ہم رہیں گے نہ آپ کی ذُریت۔ ویسے یہ بات عام انسان کی سمجھ سے پرے ہے کہ جب آپ کو اپنے بیٹی کا رشتہ چاہیے تو لڑکا سرکاری نوکر ہونا چاہیے، کیا آپ کا خود کا بیٹا سرکاری نوکر ہے؟ یہی پیمانے اگر آپ اپنے لیے ٹھیک محسوس کر تے ہیں، تو آپ کے گھر کون آئے گا؟
باعزت روزگار تمام ممالک کا اپنے باشندوں کو بہم پہنچانا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔ آئین و قوانین میں سرکاروں کو اس بات کا پابند بنایا جاتا ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو اچھا روزگار ملے، ان کی صلاحیتوں کا قوم کی ترقی میں خوب استعمال ہو اور انہیں جسمانی و ذہنی صحت مند رہنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں لیکن کشمیر کے نوجوان کے لیے یہ سب باتیں کتابوں تک ہی محدود ہوتی ہیں۔ کشمیر میں اعلی تعلیم کا رُجحان اِس حد تک بڑھ چکا ہے کہ آپ کو آس پاس میں شاید ہی کوئی پوسٹ گریجویشن کے بغیر نوجوان ملے۔ اب کیا اس کا یہ حق نہیں بنتا کہ سرکار اس کے لیے سکیمیں وضع کرے؟یہاں کا نوجوان سرکار سے سرکار کی ہی نوکری کا طلب گار نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آس پاس کا ماحول اُس کے کسی شروع کے گئے روزگار (start-up)کے لیے ساز گار ہو، نوجوان جہاں جہاں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے وہاں اس کے ساتھ استحصال نہ ہوتا ہو، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اس کی بھلائی کے لیے ہمیشہ موجود ہوں لیکن یہاں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ آئے روز ہمارے سامنے کتنے واقعات رونما ہوتے ہیں، جہاں پر کسی نہ کسی نوجوان کے حق کو دبا یا جارہا ہو۔ پرائیویٹ اسکولوں میں کام کررہے تعلیم یافتہ نوجوانوںکا تو خدا ہی حافظ ہے، ناگفتہ بہہ حالات کے مارے کاروبار کرنے والے محنتی نوجوانوں کے خوابوں کا تو کسی کو پُرسان حال ہی نہیں ہے، سرکاری اداروں میں درخواستیں دینے والے ذہین نوجوانوں کی بے قراری کا کسی کو ادراک ہی نہیں ہے۔
سرکاری اداروں میں ویسے بھی روزگار حاصل کرنے کی جستجو کو کیوں کر اتنا سخت بنایا گیا ہے؟ماہرین اقتصادیات کہتے ہیں کہ اگر سرکار کے پاس اسامیاں خالی پڑی ہیں، تو انہیں پُرکرنے سے سرکاراور عوام کا ہی بھلا ہو گا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ سرکار سوچتی ہے کہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے مفت کا راشن مانگ رہے ہیں۔ اس کے بعد یہاں قائم کردہ اُن ایجنسیوں کا حال دیکھئے ، جنہیں سرکار کے لیے قابل نوجوان بھرتی کرنے کا کام سونپ دیا گیا ہے۔ ان کے تو کہا کہنے ہیں، المیوں پر المیے یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پانچ پانچ، چھ چھ برسوں میں ایک بھرتی عمل میں لائی جاتی ہے۔ روزگار کے لیے نوٹیفیکیشن اگر آج نکلتی ہے تو وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ بعض اوقات یہ نوٹیفیکشنز ایسی مبہم اور غیر واضح ہوتی ہیں کہ ایک نوجوان کی سال بھر کی محنت کو رائیگاں کر دیتی ہے۔ نوٹیفیکیشن ایک طرف نکلتی ہے وہیں دوسری طرف اسے مختلف وجوہات کی بنا پر کالعدم کیا جاتا ہے۔ کسی بھی کمپنی میں کسی کو روزگار دلوانے کے لیے ایک منظم طریقہ کار ہوتا ہے۔ کب نوٹیفیکشن نکلے، کب امتحان کے لیے بلایا جائے، کب انٹرویو ہو جائے اور کب آخری نتائج نکل آئیں، ان تمام مراحل کو پیشگی واضح کیا جاتا ہے۔ لیکن کشمیر کے نوجوان پر سرکاری ایجنسیوںکی مہربانی ہو، پہلے تو سرکاری اسامیاںپر کرنے کا کوئی پروگرام ہی نہیں ہوتا ، اب اگر لے دے کے کہی سے کچھ اسامیاں مشتہر ہو بھی جائیں تو اس میں نوجوانوں کو بکرے کی طرح لٹکاکے رکھا جاتا ہے، نہ جینے دیا جاتا ہے اور نہ ہی عزت کی موت نصیب ہوجا تی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اقتدار کشمیر کے نوجوانوں کا پیمانہ صبر لبریز ہونے کا انتظار نہ کریں۔ اگر وہ مخلص ہیں تو اُس سے پہلے ہی ان کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں اور انہیں بھی اپنے سماج میں عزت کی زندگی جینے دیں۔ ساتھ ہی ساتھ سماج کے حساس طبقوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ اِن مشکل حالات میں اپنے نوجوانوں کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت سے کام کریں۔ یاد رکھنے کے قابل یہ بات ہے کہ اگر ہم نے اپنے آج کی نوجوان نسل کی خصوصی دیکھ بھال نہ کی تو ہمارامستقبل بھیانک ہونے میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتا ہے۔
رابطہ : ریسرچ سکالر ،شعبہ سوشل ورک،کشمیر یونیورسٹی سرینگر